اسٹیو واہ دنیا کا خود غرض ترین کھلاڑی تھا: شین وارن

آسٹریلیا نے دنیائے کرکٹ پر دہائیوں تک حکمرانی کی ہے اور اس کو قائم کرنے میں جن چند کھلاڑیوں کا بنیادی کردار ہے ان میں ریکارڈ ساز لیگ اسپنر شین وارن اور عالمی کپ فاتح کپتان اسٹیو واہ بھی شامل ہیں۔ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین انہیں عظیم کھلاڑیوں کی حیثیت سے یاد کرتے ہیں لیکن کیا واقعی یہ "عظیم" تھے؟ جواب ہے نہیں۔ شین وارن کا ایک حالیہ انٹرویو اس بات کا ثبوت ہے کہ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اسٹیو واہ کو ناپسند کرنے کی بہت ساری وجوہات ہیں مگر سب سے اہم یہ کہ وہ خود غرض کھلاڑی تھے بلکہ ان سے زیادہ مطلبی کرکٹر آج تک نہیں دیکھا۔ وارن کے اس بیان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 2009ء کے دورۂ ویسٹ انڈیز سے شروع ہونے والی باہمی دشمنی ختم ہونے کا اب بھی دور دور تک کوئی امکان نہیں۔

شین وارن کہتے ہیں کہ مجھے اب بھی یاد ہے کہ اسٹیو واہ نے کہا تھا کہ وہ مجھے ٹیم سے نکال دے گا، اور پھر ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سے مجھے نکال دیا گيا حالانکہ وہ سیریز کا آخری مقابلہ تھا اور وہ جیت کر ہم ٹرافی بھی حاصل کرلیتے۔ "یہ بات سب جنتے جانتے ہیں کہ کرکٹ میں کبھی گیندباز کا دن ہوتا ہے اور کبھی بلے باز کا۔ اس وقت برائن لارا کا دن تھا اور وہ واقعی غیر معمولی بلے بازی کر رہا تھا جس کی وجہ سے مقابلہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کی پوری ذمہ داری میرے سر پر ڈالی گئی اور مجھے قربانی کا بکرا بنایا گیا کیونکہ میں اچھی باؤلنگ نہیں کروا سکا تھا۔ اس وقت میں نے سب سے پوچھتا کہ آئندہ کے لیے سب کی رائے کیا ہے تو اسٹیو واہ نے فوراً کہا کہ تم ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔ جب میں نے باقی سب سے پوچھا کہ کیا واقعی مجھے ٹیم میں نہیں ہونا چاہیے تو اسٹیو واہ نے کہا کہ میں کپتان ہوں اور میں نے کہہ دیا نہیں تو بس نہیں۔"

shane-warne-steve-waugh

وارن نے مزید کہا کہ اسٹیو واہ کو ناپسند کرنے کی بے شمار وجوہات ہیں مگر ان میں سب سے اہم یہی ہے جس پر مجھے بہت دکھ ہوا تھا۔ میرے کندھے کا حال ہی میں آپرشن ہوا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ مقابلہ جیتنا میرے لیے بہت اہم ہے لیکن اسٹیو واہ نے ایسا نہ ہونے دیا۔

اسٹیو واہ نے ماضی میں اعتراف کیا تھا کہ بطور کپتان کیے گئے فیصلے کی قیمت انہیں وارن جیسے دوست کو کھو کر چکانی پڑی۔ البتہ اپنی کتاب 'The Meaning Of Luck' میں وہ کہتے ہیں کہ دوست کھونے کے باوجود بطور کپتان جو تجربہ حاصل ہوا اس سے صبر و برداشت میں اضافہ ہوا اور سیکھا کہ دو مختلف چیزوں میں سے درست کیا ہے اور اس پر دوٹوک انداز میں عمل کیسے کیا جاتا ہے۔

Facebook Comments