کرکٹ میں سرخ اور پیلا کارڈ، ایم سی سی کا انوکھا قدم

بین الاقوامی کرکٹ میں وہ وقت بھی تھا جب کھلاڑیوں کو مخالفین سے الجھنے کی مکمل آزادی تھی۔ متعدد بار تو ایسا ہوا کہ کھلاڑی امپائروں سے بھی بھڑ جاتے تھے۔ 1987ء کا فیصل آباد ٹیسٹ بھلا کیسے بھلایا جا سکتا ہے کہ جہاں انگلستان کے مائيک گیٹنگ امپائر شکور رانا سے الجھے اور کرکٹ تاریخ کے باب میں ایک سیاہ اضافہ ہوا۔ لیکن پھر حالات بدلے۔ قانون سخت سے سخت تر ہوا اور کھلاڑیوں کو بدتمیزی پر جرمانے بھی ہونے لگے یہاں تک کہ پابندیاں بھی لگیں لیکن اس کے باوجود کھلاڑیوں کے باہم الجھنے کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہی چلا گیا۔ کرکٹ کے دلدادہ تو اسے بھی "کھیل کا حسن" کہتے ہیں جیسا کہ وطن عزیز میں ہر افسوس ناک سیاسی پیشرفت "جمہوریت کا حسن" ہوتی ہے۔ بہرحال، کرکٹ قوانین کے رکھوالے میری لیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) کو کھلاڑیوں کی یہ حرکتیں ایک آنکھ نہیں بھا رہیں اور وہ تجرباتی طور پر فٹ بال طرز کے سرخ اور پیلے کارڈ متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ابتدائی طور پر یہ 'انوکھا قانون' اسکول و جامعات کی سطح پر ہونے والے مقابلوں پر لاگو ہوگا جس میں مختلف خلاف ورزیوں پر مختلف سزائیں دی جائیں گی۔ کہا جا رہا ہے کہ ایم سی سی کی جانب سے یہ فیصلہ تن تنہا نہیں کیا گیا بلکہ کرکٹ میں مسلسل بڑھتے ہوئے تنازعات کی وجہ سے کرکٹ ماہرین اور امپائروں کی مشاورت سے یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ اس میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کو چار درجات میں تقسیم کیا گیا ہے اور اسی اعتبار سے کھلاڑیوں کو سزآ بھی دی جائے گی۔ اگر بلے باز امپائر سے بحث کرے، کھلاڑیوں سے یا پھر میدان میں موجود تماشائیوں سے دست و گریباں ہو، یا پھر نسلی تعصب کو ابھرے تو اس سے فوری طور پر بیٹنگ کا اختیار چھین لیا جائے گا اور وہ پورے میچ میں پھر بلے بازی نہیں کر سکے گا۔ اس طرح اگر باؤلر ایسا کرے گا تو اس سے گیندبازی کا اختیار واپس لے لیا جائے گا۔ یہ سب سے سخت سزا ہوگی۔

australia-sledging

اگر گیندباز امپائر کے روکنے کے باوجود بھی باؤنسر سے باز نہ آئے، یا دھمکی آمیز رویہ اپنائے تو اس جرم پر اسے 10 اوورز کی پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر کوئی کھلاڑی چھوٹا "جرم" کرے یعنی وقت ضائع کرے، مخالف کھلاڑیوں سے غیر ضروری طور پر الجھے اور کندھا یا ہاتھ استعمال کرے تو ٹیم کو جرمانے میں پانچ رنز دینا پڑیں گے۔ اس طرح اگر کپتان کی وجہ سے مقابلے میں تاخیر یا گڑبڑ پیدا ہو تو اسے بھی سزا دی جاسکتی ہے۔

ایم سی سی کے شعبہ قانون سازی کے سربراہ فریزر اسٹیورٹ کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق کھلاڑیوں کے درمیان تشدد اور بدزبانی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف انگلستان ہی میں گزشتہ برس ان وجوہات کی بنیاد پر پانچ مقابلوں کو ختم کرنا پڑا۔ اس لیے ہمارا خیال ہے کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے نیا قانون کارآمد ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طے یہ ہوا ہے کہ ابتدائی طور پر اِس قانون کو ایم سی سی کے اپنے میچز میں لاگو کیا جائے۔ کرکٹ قوانین کے ذمہ دار، ایم سی کو امید ہے کہ تنازعات کو روکنے کے لیے نئے قوانین کو 2017 تک کرکٹ بورڈز اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی مشاورت سے بین الاقوامی کرکٹ میں لاگو کیا جا سکے گا۔ فریزر اسٹیورٹ نے بتایا کہ کرکٹ میں بڑھتے تنازعات کو کم کرنے کے لیے مشاورتی اجلاس 2015ء میں طلب کیا گیا تھا۔ اس میں بیشتر امپائروں کی رائے تھی کہ تنازعات پر قابو پانا مشکل نہیں، لیکن اِس کے لیے ضروری ہے کہ میدان میں موجود امپائروں کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے۔ اسٹیورٹ نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ نئے قانون کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ کسی بھی جرم کی سزا کے لیے ہفتوں اور مہینوں انتظار کرنے کے بجائے کھلاڑیوں کو اُن کے کیے کی فوری سزا مل جائے گی۔

اسٹیورٹ نے کہا کہ ایم سی سی اس مسئلے سے ہٹ کر دیگر معاملات میں بھی کام کر رہی ہے جیسا کہ ایم سی سی امپائروں کو ایک ایسا آلا فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس سے کھلاڑیوں کے بلّوں کا جائزہ لیا جا سکے گا کہ کہیں ان کی موٹائی اور لمبائی خلاف قانون تو نہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت کرکٹ قانون میں بلّے کی لمبائی اور چوڑائی کا ذکر تو موجود ہے لیکن موٹائی پر کوئی حد مقرر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اس وقت انتہائی موٹے بلّے استعمال کیے جا رہے ہیں اور کھیل کا توازن پوری طرح بیٹنگ کے حق میں جھک گیا ہے۔

mankading

بنگلہ دیش میں جاری انڈر19 ورلڈ کپ میں 'منکڈ تنازع' کے بعد اب اس حوالے سے بھی قانون سازی پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ درحقیقت بلے باز کو آؤٹ کرنے کا انوکھا طریقہ بلکہ "طریقہ واردات" ہے۔ یعنی گیندباز بال پھینکنے کے لیے آئے بجائے گیند کرانے کے نان اسٹرائیکنگ اینڈ پر موجود بلّے باز کو رن آؤٹ کردے جو کریز سے باہر ہونے کی صورت میں آؤٹ قرار دیا جائے گا۔ یہ واقعہ انڈر 19 ورلڈ کپ میں زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ایک اہم مقابلے میں پیش آیا جہاں آخری گیند پر جہاں زمبابوے کو تین رنز درکار تھے، ویسٹ انڈین باؤلر نے بجائے آخری گیند پھینکنے کے اپنے اینڈ پر موجود بلے باز کو 'منکڈ' کردیا جو دراصل زمبابوے کی آخری وکٹ بھی تھی۔ اس کامیابی کی بدولت ویسٹ انڈیز کوارٹر فائنل میں پہنچ گیا بلکہ وہاں پاکستان کو شکست دے کر اب سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر چکا ہے۔ لیکن اس واقعے نے دنیا بھر میں کافی ہنگامہ پیدا کیا اور 'منکڈ' کرنے کی "اخلاقی حیثیت" پر سوال اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ اب ایم سی سی سوچ رہی ہے کہ خبردار کرنے کو قانون کا حصہ بنایا جائے اور بغیر تنبیہ کہ باؤلر بلے باز کو یوں رن آؤٹ نہ کر سکے۔

ایم سی سی اگلے چند دنوں میں ایک موبائل ایپ پیش کرے گی جس سے عوام کو کرکٹ قوانین سے آگہی حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔

Article Tags

Facebook Comments