شارجہ میں چھکوں کی بارش، اسلام آباد لاہور پر غالب آ گیا

پاکستان سپر لیگ دبئی سے شارجہ کیا پہنچی، اس کا تو رنگ و روپ ہی بدل گیا۔ کہاں اب تک ہونے والے "لو-اسکورنگ" مقابلے تھے اور کہاں یہ 167 رنز کا بھاری بھرکم ہدف محض 16 ویں اوور ہی میں حاصل ہوجانا؟ یہ کارنامہ انجام دیا اسلام آباد یونائیٹڈ نے کہ جن کے اوپنرز ہی لاہور قلندرز پر بھاری پڑ گئے۔ شین واٹسن اور شرجیل خان کی پہلی وکٹ پر 153 رنز کی شراکت داری نے پی ایس ایل کو ایک نئے موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ اگلے پورے ہفتے چھکوں اور چوکوں کی زبردست بارش ہوگی۔

ہفتے کے درمیانی ایام ہونے کے باوجود شارجہ کا میدان کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ ان کی تالیوں کی گونج میں اسلام آباد کو 167 رنز کے ہدف کے میدان میں اترنا پڑا۔ پہلے سیزن میں اب تک جتنے مقابلے ہوئے ہیں ان کو دیکھیں تو یہ ایک بڑا مجموعہ لگتا تھا۔ اس لیے قلندرز بھی کافی مطمئن تھے لیکن جب پہلے ہی اوور میں شرجیل خان کے چھکے کے ذریعے 14 رنز لوٹ لیے گئے تو اظہر علی کو اندازہ ہوگیا کہ انہیں لازماً وکٹیں لینا ہوں گی ورنہ معاملہ بگڑ جائے گا۔ اگلے دو اوورز میں لاہور نے رنز تو روک لیے لیکن یونائیٹڈ کو پہلا گھاؤ لگانے میں ناکام رہے۔ حالانکہ انہیں اس کا ایک آسان موقع بھی ملا تھا۔ کیون کوپر کی گیند پر اٹھنے والا شاٹ اسکوائر لیگ پر کیمرون ڈیلپورٹ کے لیے ایک آسان کیچ بننے والا تھا لیکن وہ اس پر قابو نہ پا سکے۔ یوں واٹسن کو 11 رنز کے انفرادی اسکور پر پہلی زندگی ملی اور اس کے بعد گویا دونوں نے اس زخم پر نمک چھڑکنے کا تہیہ کرلیا۔

Islamabad-United-team

اگلے ہی اوور میں شرجیل خان کے دو چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 20 رنز لوٹے گئے اور دس اوورز تک کوئی اوور ایسا نہیں تھا جس میں کوئی چھکا یا چوکا نہ لگا ہو۔ نصف منزل یعنی 10 اوورز طے ہو جانے پر اسلام آباد 94 رنز پر کھڑا تھا، وہ بھی بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے یعنی مقابلہ لاہور کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ گیارہویں اوور مین میں پہلے واٹسن نے چھکے کے ذریعے نصف سنچری مکمل کی اور اس کے بعد دو گیندوں پر شرجیل نے چھکا اور چوکا لگایا اور نصف سنچری تک پہنچ گئے۔ زوہیب خان کے اس اوور میں اور اس کے بعد کیون کوپر کو بھی دونوں نے 25، 25 رنز مارے۔ صرف 12 اوورز میں اسلام آباد یونائیٹڈ 144 رنز تک پہنچ گئے یعنی انہیں جیتنے کے لیے اب صرف 23 رنز کی ضرورت تھی۔ اس دوران لاہور نے شین واٹسن کو ایک اور زندگی دی جن کا ایک بہت آسان کیچ لانگ آن پر زوہیب خان نے چھوڑا۔ اگلی دو گیندوں پر واٹسن نے دو چھکے مزید جڑ دیے۔ واٹسن کی اننگز کا خاتمہ اس وقت ہوا جب اسلام آباد کامیابی سے 14 رنز کے فاصلے پر تھا۔ احسان عادل کی ایک گیند ان کے دستانے کو چھوتی ہوئی پیچھے کی جانب گئی جہاں وکٹ کیپر محمد رضوان نے ایک بہترین کیچ لیا۔ لیکن کافی دیر ہو چکی تھی۔ 47 گیندوں پر 79 رنز کی اننگز اپنا کام دکھا چکی تھی کہ جس میں 7 چھکے اور 4 چوکے شامل تھے۔ واٹسن تماشائیوں کی زبردست داد میں میدان سے واپس آئے۔ لاہور نے ایک اور وکٹ ضرور حاصل کی لیکن ایک کیچ چھوڑنے کے بعد اس مرتبہ کیچ کپتان اظہر علی نے چھوڑا جو آندرے رسل کی جانب سے دیے گئے ایک آسان موقع کو گنوا بیٹھے۔ 16 ویں اوور میں شرجیل نے احسان عادل کو مسلسل دو چھکے لگا کر مقابلے کا خاتمہ کردیا۔ وہ 43 گیندوں پر 79 رز کے ساھت ناقابل شکست رہے۔ واٹسن کی طرح ان کی اننگز میں بھی 7 چھکے شامل رہے البتہ ان کے چوکوں کی تعداد 5 تھی۔

SIX !!! ZOHAIB KHAN TO SHANE WATSON

It is raining sixes here! That six brings up the 50 for Watto, 100 for his team and the first 100 run opening patnership of the tournament as well!

Posted by Pakistan Super League on Wednesday, February 10, 2016

اس کارکردگی پر شرجیل کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ کارکردگی عین اس دن دکھائی جس روز پاکستان نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے اپنے اسکواڈ کا اعلان کیا ہے اور اس میں احمد شہزاد کی جگہ خرم منظور کو جگہ دی ہے۔ عین ممکن ہے کہ اگر وہ یہ اننگز ابھی پچھلے چند مقابلوں میں کھیل لیتے تو شاید خرم منظور کی جگہ وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے منتخب ہوتے۔ بہرحال، ان کی یہ کامیابی بھی کم نہیں ہے جو اسلام آباد یونائیٹڈ کو پوری طاقت کے ساتھ پاکستان سپر لیگ میں واپس آ گئی ہے اور بلاشبہ شرجیل اور واٹسن کی بیٹنگ نے لاہور قلندرز کی بلے بازی کو گہنا دیا ہے۔

لاہور نے اسلام آباد یونائیٹڈ کی دعوت پر پہلے بلے بازی سنبھالی تھی۔ تیسرے اوور میں محمد سمیع نے اپنی پہلی گیند پر کیمرون ڈیلپورٹ کی گلیاں بکھیر دیں۔ بعد ازاں انہوں نے چھٹے اوور کا اختتام اظہر علی کی وکٹ کے ساتھ کیا۔ نوید یاسین اور عمر اکمل نے اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی اور اسکور کو 12 ویں اوور میں 87 رنز لے گئے لیکن چند گیندوں کے وقفے سے دونوں کی وکٹیں گریں تو لاہور مشکلات میں گھر گیا۔ نوید سعید اجمل کی گیند پر بریڈ ہیڈن کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے اور عمر اکمل اگلے ہی اوور میں عمران خالد کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

اس مرحلے پر ڈیوین براوو اور محمد رضوان نے حالات کو سنبھالا۔ دونوں نے 60 رنز کی عمدہ شراکت داری قائم کی جس میں براوو کا حصہ 17 گیندوں پر 26 رنز کا تھا جبکہ محمد رضوان نے سب سے عمدہ اننگز کھیلی۔ صرف 27 گیندوں پر تین چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے ناقابل شکست 50 رنز بنائے۔ ان کی بلے بازی کی بدولت لاہور 166 رنز تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ وہ الگ بات کہ بعد میں یہ بھی قلندرز کے لیے ناکافی ثابت ہوئے۔

اب چار میں سے محض ایک مقابلہ جیتنے کے بعد لاہور کے لیے حالات کافی خراب ہو چکے ہیں۔ انہیں 12 فروری کو روایتی حریف کراچی کنگز کے خلاف اپنا مقابلہ جیتنا ہوگا تاکہ کھویا ہوا اعتماد بحال کر سکیں۔ دوسری جانب اسلام آباد ابتدائی دو مقابلوں میں شکست کے بعد مسلسل دو فتوحات حاصل کرکے فارم میں مکمل طور پر واپس آ چکا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ وہ کل جمعرات کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف کیا کارنامے دکھاتا ہے۔ یہ وہی ٹیم ہے جس نے پی ایس ایل کے پہلے مقابلے میں اسلام آباد کو شکست دی تھی یعنی اب "بدلہ ٹائم" آ گیا ہے 🙂

Facebook Comments