پاکستانی امپائر اسد رؤف پر پانچ سال کی پابندی

انڈین پریمیئر لیگ اپنے بہت بڑے حجم کی وجہ سے ابتدا ہی سے بدعنوانی اور سٹے بازی کے لیے آسان ہدف بنی رہی۔ کھلاڑی تو کجا کرکٹ میدان کی محترم ہستی یعنی امپائر بھی اس رو میں بہہ گئے کہ جن میں پاکستان کے اسد رؤف بھی شامل تھے۔ 2013ء میں آئی پی ایل کے دوران ایک فکسنگ اسکینڈل میں کردار ادا کرنے پر انہیں پانچ سال کی پابندی بھگتنا پڑے گی۔ جس کا اعلان بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے کیا ہے۔

اس اسکینڈل پر ہونے والی تحقیق کے دوران ممبئی پولیس نے اسد رؤف کو مشکوک قرار دیا تھا جس کے بعد ایک تادیبی کمیٹی تشکیل دی گئی مگر اسد رؤف نے اس کے روبرو پیش ہونے کے بجائے بھارت سے چلے جانے میں ہی عافیت سمجھی اور فوراً پاکستان آ گئے۔ انہوں نے تادیبی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد اپنا تفصیلی تحریری بیان ارسال کیا۔

جمعہ کو بی سی سی آئی کے صدر دفتر میں منعقدہ کمیٹی کے اجلاس میں اسد رؤف کے بیان اور کمشنر انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا جائز لیا گیا جس کے بعد اسد رؤف کو پانچ سال پابندی کی سزا سنا دی گئی۔ ان کو کارروائی کا سامنا کیے بغیر بھارت سے فرار ہونے، آئی پی ایل میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے، اجنبی افراد سے تحائف وصول کرنے اور میچ سے متعلق معلومات غیر متعلقہ شخصیات کو دینے کا الزام تھا۔

اسی کمیٹی نے گزشتہ ماہ اجیت چنڈیلا پر تاحیات اور ہیکن شاہ پر پانچ سال کی پابندی عائد کی تھی جو آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں شریک کھلاڑی تھے۔

اسد رؤف 49 ٹیسٹ، 98 ایک روزہ بین الاقوامی اور 23 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کا وسیع تجربہ رکھنے والے امپائر تھے لیکن اس اسکینڈل نے ان کا مستقبل تاریک کردیا۔

asad-rauf

Facebook Comments