ویسٹ انڈیز انڈر19 عالمی چیمپئن بن گیا

انڈر 19 عالمی کپ کی 28 سالہ تاریخ میں بالآخر ویسٹ انڈیز پہلی بار عالمی چیمپئن بن گیا جس نے فائنل میں دو مرتبہ کے چیمپئن بھارت کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر اعزاز اپنے نام کیا ہے۔

ڈھاکہ میں ہونے والے اہم ٹورنامنٹ کے فائنل میں یہ ویسٹ انڈیز کا دن تھا کہ جس نے ٹاس بھی جیتا اورموقع کو غنیمت جانتے ہوئے بھارت کو بلے بازی کی دعوت دے ڈالی۔ ان کی امیدوں کے عین مطابق خطرناک وکٹ پر بھارت کے بلے باز لڑکھڑا گئے۔ صرف 87 رنز پر 6 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے تھے۔ یہ صورتحال بھارت کے لیے انتہائی تشویشناک تھی۔ اِس مرحلے پر بس یہی اُمید کی جارہی تھی کہ کسی طرح کچھ رنز بن جائیں تاکہ عالمی کپ کا فائنل یکطرفہ نہ ہوجائے۔ اس وقت تک سرفراز خان کے سوا کوئی بیٹسمین دہرے ہندسے تک بھی نہیں پہنچ سکا تھا۔ سوائے سرفراز کے بھارت کا کوئی بلے باز ویسٹ انڈیز کی باؤلنگ کا مقابلہ نہ کرسکا۔ سرفراز کے 51 رنز کے بعد راہول باتھم کے 21 رنز اسکور کو کسی طرح 145 رنز تک لے آئے۔ ٹیم 46 ویں اوور تک پہنچی۔ اگر بلے باز پورے اوورز بھی کھیل لیتے تو زیادہ رنز بن سکتے تھے۔ سرفراز کے 51 کے بعد سب سے بڑا حصہ 'فاضل رنز' کا تھا کہ جو 23 تھے۔ ان میں 16 وائیڈز بھی شامل تھیں۔ ویسٹ انڈین باؤلرز کی اس فیاضی کے باوجود بھارت کے بیٹسمین کوئی نمایاں کارنامہ نہ دکھا سکے۔

West-Indies-Under-19-World-Cup

ویسٹ انڈیز انڈر 19 کی جانب سے الزاری جوزف اور راین جان نے تین، تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ جبکہ کیمو پال نے دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

جہاں بھارت 145 رنز بنا سکا وہاں بیٹنگ کرنا ہرگز آسان نہیں تھا۔ ویسٹ انڈیز کے ابتدائی کھلاڑیوں کا حال بھی بھارت کے بلے بازوں سے مختلف نہیں تھا۔ آدھی ٹیم صرف 77 رنز پر آؤٹ ہوگئی تو 2006ء کے انڈر19 ورلڈ کپ کی یادیں تازہ ہوتی نظر آنے لگی۔ جہاں پاکستان پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 109 رنز پر آؤٹ ہوگیا تھا۔ بھارت کی فتح یقینی تھی لیکن پاکستان نے شاندار باؤلنگ کے ذریعے بھارت کو 71 رنز پر آل آؤٹ کردیا اور عالمی چیمپئن بن گیا۔ لیکن وہ پاکستان کی باؤلنگ تھی۔ بھارت مقابلے پر حاوی ہونے کے باوجود پانچویں وکٹ پر کیسی کارٹی اور کیمو پال کو نہیں روک پایا۔ جنہوں نے 69 رنز کی ناقابل شکست رفاقت کے ذریعے آخری اوور میں ویسٹ انڈیز کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ کارٹی نے ناٹ آؤٹ 52 رنز بنائے اور پال 40 رنز بنا کر فاتحانہ انداز میں میدان سے واپس آئے۔

بھارت کی جنب سے ماینک ڈگر نے دس اوورز میں 25 رنز دے کر تین کھلاڑی آؤٹ کیے لیکن کوئی دوسرا باؤلر ان کا ویسا ساتھ نہیں دے سکا۔ یوں بھارت تیسرا بار عالمی چیمپئن بنتے بنتے رہ گیا۔ کیسی کارٹی کو فائنل کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ بنگلہ دیش کے مہدی حسن سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز نے کوارٹر فائنل میں پاکستان کو شکست دی تھی کہ جو بعد میں پانچویں نمبر پر آیا۔

Facebook Comments