اسلام آباد کی اہم کامیابی، کراچی کنگز کی مشکلات میں مزید اضافہ

پاکستان سپر لیگ کا پہلا سیزن شاندار کامیابیوں کے ساتھ اب اپنے آخری مرحلے کی جانب رواں دواں ہے۔ آج شارجہ میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی کنگز کے درمیان سیزن کا 16 واں مقابلہ کھیلا گیا کہ جس میں اسلام آباد نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے 5 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی اور یوں نہ پلے آف مرحلے تک پہنچنے کے اپنے امکانات روشن کرلیے ہیں بلکہ کراچی کی مہم کو بھی خطرے سے دوچار کردیا ہے۔

اسلام آباد نے ٹاس جیتنے سے لے کر آخر تک جامع کارکردگی دکھائی۔ اہم کھلاڑی شین واٹسن کے زخمی ہونے کے بعد انہیں اظہر محمود کی صورت میں ایک مستند آل راؤنڈر ملا ہے، جنہوں نے آج کے مقابلے میں شرکت کی۔ مصباح الحق نے ٹاس جیت کر کراچی کے بلے بازوں کو کھیلنے کی دعوت دی جو ایک 'عجیب' وکٹ پر پریشان ہی دکھائی دیے۔ دوسرے ہی اوور میں عمران خالد کے ہاتھوں کراچی کو دو کھلاڑیوں سے محروم ہونا پڑا۔ پہلے جیمز ونس آؤٹ ہوئے اور پھر عماد وسیم صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے۔ اس آغاز کے بعد کراچی کو امید تھی کہ پہلی بار کھلائے گئے شاہزیب حسن اپنے انتخاب کو درست ثابت کریں گے۔ انہوں نے 19 گیندوں پر 27 رنز ضرور بنائے لیکن کراچی کی اننگز کو مستحکم نہ کر سکے۔ یہ کام روی بوپارا اور مشفق الرحیم نے انجام دیا۔ دونوں نے چوتھی وکٹ پر 60 رنز کا اضافہ کیا۔ مشفق 27 گیندوں پر 33 رنز بنانے کے بعد آندرے رسل کو چھکا لگانے کی دھن میں وکٹ گنوا بیٹھے۔ روی بوپارا نے 45 رنز ضرور بنائے لیکن جس طوفانی کارکردگی کی ان سے توقع تھی وہ پیش نہیں کرپائے۔ ان کی کھیلی گئی 50 گیندوں پر صرف 4 چوکے ہی لگے۔ وہ اظہر محمود کا واحد شکار بنے۔ اپنے حصے کے اوورز مکمل کرکے کراچی نے 128 رنز بنائے جو ہرگز فاتحانہ اسکور نہیں تھا۔

shoaib-malik

اسلام آباد یونائیٹڈ حریف کو چھوٹے مجموعے تک محدود کرنے کے بعد مطمئن تھا لیکن وہ اپنی مشکلات کا خود سامان بنے۔ شرجیل خان، آندرے رسل اور بریڈ ہیڈن آؤٹ ہو چکے تھے جب اسکور بورڈ پر صرف 19 رنز تھے۔ خالد لطیف اور مصباح الحق نے یہاں اننگز سنبھالی۔ خالد لطیف نے تین چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 35 گیندوں پر 33 رنز بنائے۔ وہ اسامہ میر کی ایک خوبصورت گیند پر اسٹمپڈ ہوئے۔

اب مصباح کی موجودگی کو جیت کی ضمانت سمجھا جاتا یا مزید پریشانی کی۔ کیونکہ وہ 38 گیندوں پر 38 رنز ہی بنا سکے تھے اور پھر اٹھارہویں اوور میں اس وقت آؤٹ بھی ہوگئے جب اسلام آباد ہدف سے 24 رنو دور تھا۔ یہاں آصف علی نے عمدہ بیٹنگ کی اور 19 ویں اور میں میر حمزہ کو دو شاندار چھکے لگا کر میچ کوآخری اوور تک جانے ہی نہ دیا۔ انہوں نے 17 گیندوں پر پر 31 رنز بنائے۔

عمران خالد کو ایک اوور میں دو وکٹیں حاصل کرکے کراچی کی پیشرفت کو نقصان پہنچانے پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ ملا۔

پانچ وکٹوں کی کامیابی نے اسلام آباد یونائیٹڈ کی مہم کو نئی زندگی دی ہے۔ وہ سات مقابلوں میں تین فتوحات کے ساتھ اب چھ پوائنٹس کا حامل ہے اور یوں پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر پر آگیا ہے۔ اب اسے اپنا آخری مقابلہ بدھ کو کھیلنا ہے جو لاہور قلندرز کے خلاف ہوگا۔

دوسری جانب کراچی کے لیے مشکلات کھڑی ہوگئی ہیں۔ سات میچز میں صرف دو فتوحات کے بعد اب انہیں صرف ایک میچ کھیلنا ہے، لیکن وہ ہے پشاور زلمی کے خلاف۔ یعنی پاکستان سپر لیگ کے پہلے سیزن کی سب سے مہنگی ٹیم کے لیے حالات کچھ اچھے نہیں دکھائی دیتے۔

Facebook Comments