[آج کا دن] ٹی ٹوئنٹی 11 سال کا ہوگیا

"وہ آیا، اس نے دیکھا اور فتح کرلیا" ٹی ٹوئنٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے آج ٹیسٹ بلکہ ایک روزہ کرکٹ کو بھی خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی بقا کے لیے باقی دونوں طرز کی کرکٹ میں نت نئے تجربات کیے جا رہے ہیں۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا مصنوعی روشنی میں گلابی گیند سے کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ ایک حیران کن قدم تھا۔ ٹھیک 11 سال پہلے اولین بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی مقابلہ بھی کچھ ایسا ہی حیران کن تھا جب یہی دونوں ٹیمیں یعنی آسٹریلیا و نیوزی لینڈ آمنے سامنے آئی تھیں< یہ آکلینڈ کا ایڈن پارک تھا کہ جہاں یہ تاریخ رقم ہوئی۔ آسٹریلیا کے کپتان رکی پونٹنگ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ شاندار 98 رنز بنا کر پہلے ہی مقابلے میں رنز کا انبار لگا دیا۔ صرف 52 رنز پر چار کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد رکی نے قائدانہ اننگز کھیلی اور سائمن کیٹچ کے ساتھ مل کر 83 رنز جوڑے۔ آخری پانچ اوورز میں 77 رنز کا اضافہ کرکے آسٹریلیا نے 214 رنز کا ہندسہ حاصل کرلیا۔ رکی پونٹنگ صرف دو رنز کے فرق سے سنچری نہ بنا سکے۔ پانچ چھکوں اور آٹھ چوکوں کی مدد سے انہوں نے صرف 55 گیندوں پر 98 رنز بنائے۔ چونکہ یہ اپنی طرز کا پہلا مقابلہ تھا اس لیے یہ اندازہ لگانا تو مشکل تھا کہ نیوزی لینڈ یہ ہدف حاصل کر پائے گا یا نہیں، لیکن یہ بات یقینی تھی کہ 214 رنز بہت بہت بڑا مجموعہ تھا۔ یہ تو 50 اوورز کے مقابلوں میں بننے والا اسکور تھا جو آسٹریلیا نے صرف 20 اوورز میں اکٹھا کردیا۔ بہرحال، نیوزی لینڈ نے برینڈن میک کولم اور کپتان اسٹیفن فلیمنگ کی بدولت پہلی وکٹ پر 49 رنز کا آغاز لیا لیکن اس کے بعد مائيکل کاسپرووچ کی باؤلنگ کے سامنے اس کی ایک نہ چل سکی۔ 105 رنز تک پہنچتے پہنچتے 6 کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔ اسٹائرس نے 66 رنزکے ساتھ مزاحمت کی جو انہوں نے صرف 39 گیندوں پر بنائے اور تین چھکوں اور پانچ چوکوں سے مقامی تماشائیوں کو محظوظ کیا لیکن باقی کوئی نہ چل سکا اور آخری اوور کی آخری گیند پر آخری وکٹ بھی گرگئی، مجموعہ 170 رنز تک پہنچا یعنی آسٹریلیا 44 رنز سے جیت گیا۔ first-ever-t20i-teams

اس مقابلے کی دلچسپ بات یہ تھی کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے اپنی بہت پرانی کٹ کے ساتھ یہ مقابلہ کھیلا جو ان کی ٹیمیں 80ء کی دہائی میں استعمال کرتی تھیں۔ میچ کے دوران گلین میک گرا نے بدنام زمانہ 'انڈر-آرم بال' کی یاد بھی تازہ کی۔

لیکن اس دن جو بنیاد اس مقابلے میں رکھی گئی، صرف دو سال بعد وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی صورت میں ایک بڑے اور کامیاب عالمی ٹورنامنٹ کی صورت میں ڈھل گئی۔ آج ٹی ٹوئنٹی بلاشبہ سب سے مقبول طرز کی کرکٹ ہے اور اسے اولمپکس میں شامل کرنے تک کی تجاویز زیر غور ہیں۔

گزشتہ دس سالوں میں کرکٹ میں جتنے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آئی ہیں، اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آئندہ دہائی میں کرکٹ کہاں سے کہاں پہنچ سکتی ہے۔ یہ لمحہ اگر تشویش ناک ہے تو ٹیسٹ کرکٹ کے لیے کہ اگر اس کو بچانے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پانچ روزہ کرکٹ قصہ پارینہ بن جائے گی۔

Facebook Comments