"وفاق" سے فیصلہ آ گیا، لاہور باہر، کراچی اگلے مرحلے میں

پشاور زلمی کے بریڈ ہوج نے ابر آلود موسم میں طوفانی اننگز کھیل کر کراچی کو اہم مقابلے میں شکست دی اور یوں لاہور کے لیے جو موقع فراہم کیا، "قلندروں" نے اسے اپنے ہاتھوں سے گنوایا۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف اپنے آخری مقابلے میں لاہور نے 5 وکٹوں سے شکست کھائی اور یوں اعزاز کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔

دبئی میں ہونے والے پہلے مرحلے کے آخری مقابلے میں لاہور کی 'ازلی کمزوریاں' عود کر سامنے آئیں، یعنی باؤلنگ اور فیلڈنگ۔ انہی کی وجہ سے لاہور 151 رنز کے ہدف کا دفاع بھی نہ کر سکا۔ کیچ ضائع کیے گئے، اہم مواقع پر وکٹیں لینے میں ناکامی کا سامنا رہا اور سب سے بڑھ کر نتیجہ ایک اور شکست کی صورت میں نکلا۔ جس نے پاکستان کے ایک روزہ کپتان اظہر علی کی صلاحیتوں پر بہت بڑا سوالیہ نشان بھی لگا دیا ہے۔

دن کے پہلے مقابلے میں کراچی کی شکست کے بعد لاہور کے پاس سادہ سا راستہ تھا۔ وہ گزشتہ شب جیسی کارکردگی دہرائے اور اسلام آباد کو شکست دے کر اپنی نشست پکی کرلے۔ لیکن اسلام آباد یونائیٹڈ کے محمد عرفان نے ابتدا ہی میں لاہور کو ایسے دھچکے دیے کہ بعد میں عمر اکمل اور صہیب مقصود کی شاندار بیٹنگ بھی اسے 150 سے آگے نہ لے جا سکی۔ عرفان نے ابتدائی اوور میں اظہر علی اور دوسرے میں محمد رضوان کو آؤٹ کیا جبکہ درمیان میں رمّان رئیس نے کیمرون ڈیلپورٹ کی وکٹ حاصل کرکے لاہور کو صرف 6 رنز پر تین کھلاڑیوں سے محروم کردیا۔

Dwayne-Bravo

اس کے بعد عمر اکمل اور صہیب مقصود نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کی اور 97 رنز کا اضافہ کرکے لاہور کو مقابلے کی دوڑ میں واپس لے آئے۔ صہیب مقصود نے 44 گیندوں پر 57 رنز بنائے جبکہ عمر اکمل نے اپنی بہترین فارم ایک مرتبہ پھر دکھائی اور خود کو پی ایس ایل کا سب سے بہترین بلے باز ثابت کیا۔ اپنے آخری مقابلے میں عمر نے 49 گیندوں پر 72 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ اس دوران لاہور نے آخری چار اوور میں 47 رنز کا اضافہ کیا اور مجموعے کو 150 رنز تک پہنچایا۔

یہ مجموعہ ہرگز کامیابی کی ضمانت نہیں تھا، خاص طور پر لاہور کی باؤلنگ کا حال دیکھا جائے تو۔ یہی باؤلنگ گزشتہ روز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف 201 رنز کا دفاع بھی نہیں کر سکی تھی، یہ تو پھر 150 رنز تھے۔ بہرحال، آخری مقابلے میں آخری کوشش کرنا ضروری تھا۔ 24 رنز تک اسلام آباد کے دونوں اوپنرز کو ٹھکانے لگانے کے بعد جب لاہور مقابلے میں آتا ہوا دکھائی دیا تو بریڈن ہیڈن کی ذمہ دارانہ اننگز اور خالد لطیف کے ساتھ ان کی 69 رنز کی شراکت داری نے قلندروں کی تمام راہیں مسدود کردیں۔

خالد لطیف اور پھر بریڈ ہیڈن کے رن آؤٹ کی وجہ سے مقابلے میں کچھ موڑ ضرور آئے لیکن مصباح الحق کے کیچ کو پکڑنے کے لیے ضیاء الحق کا ڈائیو نہ لگانا اور ڈیوین براوو کی گیند پر نکلنے والا 'ایج' وکٹ کیپر کے پہنچنے سے قبل ہی گر جانا لاہور کے لیے فیصلہ کن ضربیں ثابت ہوئے۔ یہاں تک کہ 19 ویں اوور میں اظہر محمود نے اجنتھا مینڈس کو دو چوکے لگا کر مقابلے کا لگ بھگ فیصلہ کردیا۔ اوور کی آخری گیند مصباح الحق کے بلے کا کنارہ لیتی ہوئی چوکے کے لیے چلی گئی اور یوں اسلام آباد نے مقابلہ جیت لیا۔ محمد عرفان کو خوبصورت باؤلنگ پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔ اسلام آباد کے لیے یہ کامیابی اس لیے اہم تھی کیونکہ وہ پراعتماد انداز میں پلے-آف میں جانا چاہتا تھا۔ اسلام آباد نے اپنے 8 میں سے چار مقابلے جیتے اور ٹیبل پر تیسرے نمبر پر رہا۔

اب پاکستان سپر لیگ اگلے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جہاں پہلا پلے آف جمعہ 19 فروری کو دو سرفہرست ٹیموں پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان کھیلا جائے گا۔ جبکہ دوسرا پلے آف تیسرے اور چوتھے نمبر کے اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی کنگز کھیلیں گے۔ پہلے مقابلے کی فاتح ٹیم تو براہ راست فائنل میں پہنچے گی جبکہ شکست خوردہ دوسرے پلے آف کے فاتح کے ساتھ ایک مقابلہ کھیلے گی۔ یہاں جو ٹیم کامیابی حاصل کرے گی وہ 23 فروری کو دبئی میں ہونے والا فائنل کھیلے گی۔

Facebook Comments