خوف کی وجہ سے ایک سال تک اعتماد کھویا رہا، سعید اجمل

جدید کرکٹ میں اسپن باؤلرز کی اہمیت بہت زیادہ ہے، اس کی وجہ کرکٹ میں آنے والی بنیادی تبدیلیاں ہیں۔ موٹے تازے بلّوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رنز بنانے کی دھن کے آگے تیز گیندباز تو بے بس ہوتے جا رہے ہیں لیکن اسپنرز ان کے سامنے بند باندھنے میں زیادہ کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان خوش قسمت ہے کہ اس دور میں اسے دنیا کے بہترین اسپنرز کا ساتھ حاصل رہا خاص طور پر جو مقام سعید اجمل نے حاصل کیا، وہ کسی کا مقدر نہیں بنا۔ جتنے طویل عرصے تک سعید اجمل نے عالمی درجہ بندی میں سرفہرست مقام پر قبضہ جمائے رکھا، اتنے بہت کم باؤلرز رہے ہیں۔ لیکن وائے ری قسمت، اچانک سب کچھ بدل گیا۔ سعید اجمل بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی اچانک شروع کی گئی انتہائی سخت مہم کی زد میں آ گئے اور دیگر کئی گیندبازوں کے ساتھ ایسے پھنسے کہ نکلنا مشکل ہوگیا۔

معطلی، باؤلنگ ایکشن میں تبدیلی اور دوبارہ ناکام واپسی کے بعد اب یہ سوال سب کے ذہنوں میں ہے کہ کیا سعید اجمل دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکیں گے؟ یہ تو حقیقت ہے کہ 38 سالہ اسپن باؤلر کے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے اور وہ خود بھی اس سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس پوری صورت حال نے مجھے ریٹائرمنٹ کی جانب دھکیلا۔

بین لاقوامی کرکٹ کونسل نے ستمبر 2014ء میں سعید اجمل کے باؤلنگ پر شک کا اظہار کیا اور بعد ازاں انہیں معطل کردیا۔ اس کے بعد سعید اجمل نے ماضی کے عظیم باؤلر اور پاکستان کی آف اسپن روایات میں اپنے پیشرو ثقلین مشتاق کی نگرانی میں دن رات محنت کی اور اپنے باؤلنگ ایکشن کو قانون حدود کے اندر لانے اور ڈھالنے میں کامیاب ہوگئے۔ فروری 2015ء میں آئی سی سی نے نئے باؤلنگ ایکشن کو قانونی قرار دیتے ہوئے ان پر عائد پابندی کا خاتمہ کردیا۔ سعید اجمل کے بقول اس "اصلاحی پروگرام" کے دوران انہوں نے لگ بھگ 12 ہزار گیندیں کی یعنی 2 ہزار اوورز، تب کہیں جاکر کچھ اعتماد بحال ہوا۔

معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کو دیے گئے انٹرویو میں سعید اجمل نے کہا کہ باؤلنگ مشکوک قرار پانے کے بعد تو میں بھی شک میں مبتلا ہوگیا تھا کہ میں بٹّا پھینک رہا تھا۔ اس خوف سے نکلنے میں مجھے ایک سال لگ گیا۔

سعید اجمل اپریل 2015ء میں بنگلہ دیش کے دورے پر گئے جہاں ایک ٹی ٹوئنٹی اور دو ایک روزہ مقابلے کھیلے لیکن کارکردگی بہت مایوس کن رہی۔ ٹی ٹوئںٹی میں تین اوورز میں 25 رنز کھائے اور کوئی آؤٹ نہیں کیا پھر ایک روزہ مقابلوں می کل 19 اوورز پھینکے، 123 رنز دیے اور صرف ایک وکٹ حاصل کرسکے۔ سعید اجمل کا کہنا ہے کہ دورۂ بنگلہ دیش کے بعد میں نے تقریباً 100 کلب میچز کھیلے اور بہت محنت کی، اس لیے اب میں بنگلہ دیش والی کارکردگی سے آگے نکل آیا ہوں۔ "نیا اجمل اس سے بہت مختلف ہے، اس وقت میں اندرونی خوف کا شکار تھا، مگر اب اعتماد مکمل طور پر بحال کر چکا ہوں۔"

بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی حالیہ مایوس کن کارکردگی پر سعید اجمل نے کہا کہ قومی ٹیم کو ہونے والی ہر شکست پر مجھے دکھ ہوتا ہے اور اب میری واپسی زیادہ دور نہیں امید ہے کہ جلد اپنی کارکردگی سے پاکستان کو دوبارہ کامیابی کی راہ پر گامزن کردوں گا۔

سعید اجمل ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئٹی کے لیے قومی ٹیم میں جگہ تو نہیں بنا سکے، لیکن وہ پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی طرف سے اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں، جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ وہ جلد سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

saeed-ajmal2

Article Tags

Facebook Comments