کوئٹہ و پشاور یعنی "دیووں کا مقابلہ"، فاتح کون ہوگا؟

پاکستان سپر لیگ کا پہلا سیزن اب اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اب تک لیگ کی مضبوط ترین ٹیمیں آج پہلے 'پلے آف' میں آمنے سامنے ہوں گی۔ یہ سوالات پاکستان اور دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے ذہنوں میں گونج رہے ہیں کہ " یہ مقابلہ کون جیتے گا؟"، "کون آج کامیابی کے ساتھ فائنل تک پہنچے گا؟"، "کیا آفریدی کا جادو چلے گا؟"، "یا سرفراز کی پھرتی کوئٹہ کے کام آئے گی؟"۔ ان تمام سوالات کے جوابات اب صرف چند لمحوں بعد ملنے لگیں گے۔ نتیجہ جو بھی ہو، ٹائٹل جیتنے کا موقع دونوں کے پاس ہوگا، جیتنے والے کے لیے آسان راستہ ہوگا اور ہارنے والے کے لیے مشکل اور تماشائیوں کے لیے شاندار کرکٹ سے محظوظ ہونے کا موقع بھی۔

پشاور نے پاکستان سپر لیگ کے پہلے مرحلے میں پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست پوزیشن حاصل کی جبکہ کوئٹہ بھی اتنی فتوحات کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ آج جو بھی ہارے گا وہ 21 فروری کو دوسرے پلے آف کے فاتح سے کھیلے گا اور وہاں کامیابی کے ذریعے فائنل تک پہنچ پائے گا۔ جیتنے والی ٹیم کو ایک اور فائدہ ہوگا کہ اسے فائنل سے قبل تین دن کا آرام بھی ملے گا۔

اگر کوئٹہ کی بات کریں تو راؤنڈ مقابلوں میں اس کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ اسلام آباد کے خلاف افتتاحی مقابلے سے لے کر لاہور قلندرز کے خلاف سنسنی آخری میچ تک، اس کی کارکردگی میں تسلسل رہا ہے۔ چھ فتوحات میں جو ایک قدر مشترک رہی ہے، وہ یہ کہ کوئٹہ نے تمام ہی مقابلوں میں ہدف کا تعاقب کیا ہے۔ جب پشاور زلمی کے خلاف دوسرے مقابلے میں کوئٹہ کو پہلے بلے بازی کرنی پڑی تو اس کی تمام کمزوریاں کھل کر سامنے آ گئیں۔ یہ وہی مقابلہ تھا کہ جس میں صرف 66 رنز پر اس کی 9 وکٹیں گرگئیں۔ خود شاہد آفریدی نے صرف 7 رنز دے کر 5 وکٹیں لیں اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر ٹاس "لالا" نے جیتا تو وہ بغیر توقف کے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو بلے بازی کی دعوت دیں گے۔

بہرحال، کوئٹہ نے پشاور اور لاہور کے خلاف ایک، ایک شکست کھائی ہے لیکن اس کے علاوہ دیگر مقابلوں میں اس کے کھلاڑیوں کی کارکردگی ناقابل یقین رہی ہے۔ محمد نواز کی آل راؤنڈ پرفارمنس، کیون پیٹرسن کا تجربہ، سرفراز احمد کی وکٹوں کی پیچھے پھرتیاں، اب تو نیوزی لینڈ کے گرانٹ ایلیٹ اور نیتھن میک کولم کا ساتھ بھی میسر ہے، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک "ڈریم اسکواڈ" ہے جو سر ویوین رچرڈز کی سرپرستی اور معین خان کی تربیت میں اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔

دوسری طرف اس وقت پشاور زلمی اس وقت بلاشبہ شائقین کی پسندیدہ ترین ٹیم ہے۔ اس لیے جب بھی زلمی پشاور میں اترتے ہیں توقعات کا بوجھ ان کے کاندھوں پر ہوتا ہے اور یہی ان کی سب سے بڑی کمزوری بن سکتا ہے۔ بلاشبہ پشاور کے کھلاڑیوں نے اپنی ٹیم کو مثالی فتوحات دی ہیں، جیسا کہ وہاب ریاض جو 13 وکٹیں لے کر سب سے آگے ہیں، پھر باؤلنگ میں شاہد آفریدی کے ساتھ نوجوان محمد اصغر، شان ٹیٹ اور جنید خان بھی ہیں۔ بلے باز بھی کسی سے کم نہیں جیسا کہ تمیم اقبال اور گزشتہ مقابلے میں ناقابل یقین کارکردگی دکھانے والے بریڈ ہوج۔ تمیم تو بنگلہ دیش کے لیے قومی ذمہ داریاں ادا کرنے کی خاطر وطن لوٹ چکے ہیں لیکن پشاور کو اس سے بھی بہتر کھلاڑی انگلستان کے جانی بیئرسٹو کی صورت میں مل چکا ہے۔

shaun-tait

پشاور نے کراچی کے خلاف آخری مقابلے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی تھیں لیکن آج ایک مرتبہ پھر مستند کھلاڑیوں پر بھروسہ کیے جانے کا امکان ہے۔ گزشتہ مقابلے میں وہاب ریاض، جنید خان، شان ٹیٹ اور محمد اصغر کو بٹھایا گیا تھا۔ آج امید ہے کہ چاروں گیندباز واپس آئیں آئیں گے۔ گو کہ عمران خان جونیئر اور حسن علی نے اچھی کارکردگی دکھائی لیکن اس اہم ترین مقابلے میں ان کی شرکت کے امکانات کم ہیں۔ ممکنہ طور پر پشاور کی حتمی الیون یہ ہوگی:

شاہد آفریدی (کپتان)، محمد حفیظ، ڈیوڈ ملان، کامران اکمل (وکٹ کیپر)، بریڈ ہوج، شاہد یوسف، ڈیرن سیمی، وہاب ریاض، جنید خان، شان ٹیٹ اور محمد اصغر۔

دبئی میں رات میں اوس گر رہی ہے جو دوسری اننگز میں گیندبازی کرنے والوں کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتی ہے۔ ویسے تو ابتدا میں دبئی میں جو مقابلے ہوئے وہ سب 'لو اسکورنگ' تھے لیکن جب پی ایس ایل کے مقابلے شارجہ سے پھر دبئی واپس آئے تو یہاں بھی بلے بازوں کے لیے خوب مدد ملی۔ امید ہے کہ آج کا مقابلہ بھی 'ہائی اسکورنگ' اور دلچسپ ہوگا۔

پہلے سیزن میں پشاور اور کوئٹہ نے باہم دو مقابلوں میں ایک، ایک فتح حاصل کی۔ پہلا مقابلہ دبئی میں ہوا تو کوئٹہ نے پشاور کو 3 وکٹوں سے شکست دی لیکن شارجہ میں ہونے والے دوسرے میچ میں شاہد آفریدی کی تباہ کن گیندبازوں کی بدولت پشاور زلمی نے 8 وکٹوں سے فتح سمیٹی۔ اس لیے آج کے لیے واضح طور پر کسی ٹیم کے پلڑے میں وزن ڈالنا مشکل ہے بہرحال، ٹاس اپنا کردار ادا کرے گا۔

Sarfraz-Ahmed-Ahmed-Shehzad

کوئٹہ کے آخری مقابلے کے ہیرو محمد نبی ایشیا کپ میں شرکت کے لیے جا چکے ہیں، یعنی اس اہم میچ میں کوئٹہ کو نبی کی خدمات میسر نہیں ہوں گی۔ ان کی جگہ نیوزی لینڈ کے نیتھن میک کولم نے شمولیت اختیار کی ہے۔ لیوک رائٹ کی فٹنس کے حوالے سے بھی ابھی کوئی حتمی بات سامنے نہیں آئی گو کہ ان کا ٹوئٹر پر کہنا ہے کہ وہ مکمل طور پر فٹ ہیں۔ البتہ بسم اللہ خان کی گزشتہ مقابلے میں شاندار بیٹنگ کی وجہ سے لیوک رائٹ کی شرکت سو فیصد یقینی نہیں۔ ہو سکتا ہے آج بسم اللہ ہی احمد شہزاد کے ساتھ مل کر اوپننگ کریں۔ ممکن ہے کہ کوئٹہ اس ٹیم کے ساتھ میدان میں اترے:

سرفراز احمد (کپتان)، بسم اللہ خان، احمد شہزاد، کیون پیٹرسن، کمار سنگاکارا، گرانٹ ایلیٹ، محمد نواز، نیتھن میک کولم، ذوالفقار بابر، انور علی اور عمر گل۔

Facebook Comments