"ایک مرتبہ پھر کرس مورس"، جنوبی افریقہ کی کامیابی

0 1,032

یہ جنوبی افریقہ-انگلستان پہلے ٹی ٹوئنٹی کی آخری گیند تھی کہ جہاں جنوبی افریقہ کو جیتنے کے لیے دو رنز کی ضرورت تھی۔ "مرد بحران" کرس مورس نے شاٹ کھیلا اور گیند جو روٹ کے ہاتھوں میں چلی گئی، لیکن روٹ کا شاندار تھرو پکڑنے میں باؤلر ریس ٹوپلی کو ناکامی ہوئی اور یوں جنوبی افریقہ نے مورس کی بدولت ایک اور زبردست کامیابی حاصل کرلی۔

نیولینڈز، کیپ ٹاؤن میں ہونے والے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں جنوبی افریقی کپتان فف دو پلیسی نے ٹاس جیت کر پہلے انگلستان کو کھیلنے کی دعوت دی۔ 50 رنز کے اچھے آغاز کے باوجود عمران طاہر کی تباہ کن باؤلنگ کے سامنے انگلستان مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں پر صرف 134 رنز ہی بناسکا۔ سب سے زیادہ رنز جوس بٹلر نے بنائے جو 32 رنز تھے۔ جواب میں جنوبی افریقہ بھی مشکلات سے دوچار دکھائی دیا یہاں تک کہ معاملہ آخری اوور میں 15 رنز تک پہنچ گیا۔ مورس کی شاندار بیٹنگ نے ابتدائی پانچ گیندوں پر 13 رنز تو حاصل کرلیے، جس میں ٹوپلی کو مسلسل دو گیندوں پر لگایا گیا چوکا اور چھکا شامل تھا، لیکن آخری گیند پر دو رنز پر معاملہ پھنستے پھنستے رہ گیا۔ یہاں اگر مقابلہ برابر ہو جاتا تو 'سپر اوور' مرحلے میں داخل ہوتا لیکن ٹوپلی جو روٹ کی تھرو پکڑنے میں ناکام رہے اور یوں جنوبی افریقہ کو محنت کا پورا پورا صلہ مل گیا۔

Imran-Tahir

یہ وہی کرس مورس تھے کہ جنہوں نے چوتھے ایک روزہ میں 38 گیندوں پر 62 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی تھی اور جنوبی افریقہ کو سیریز میں واپسی کا موقع دیا تھا، جو بعد میں اس نے جیتی بھی۔ اب یہاں نیولینڈز میں 7 گیندوں پر 17 رنز اور فیصلہ کن ضربیں ان کی 'فنشنگ' کی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔

ٹیسٹ اور اس کے بعد مسلسل دو ایک روزہ جیتنے کے بعد یہ دورۂ جنوبی افریقہ میں انگلستان کی لگاتار چوتھی شکست ہے۔ پہلے تین شکستوں کی وجہ سے ایک روزہ سیریز ہاتھ سے گئی اور اب ٹی ٹوئنٹی مقابلہ بھی گیا۔

ویسے انگلستان کی جانب سے اچھے آغاز کے بعد لگ رہا تھاکہ وہ باآسانی 160 سے آگے نکل جائیں گے۔ جب ہیلز کی اننگز 27 رنز پر تمام ہوئی تب انگلستان کے 6 اوورز میں ہی 52 رنز تھے۔ عمران طاہر نے انہی کو سب سے پہلے شکار کیا اور پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ عمران نے چار اوورز میں صرف 21 رنز دیے اور چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اگر آخر میں جوس بٹلر 32 رنز نہبناتے تو انگلستان کے لیے 100 رنز بنانا بھی مشکل دکھائی دیتا تھا۔

135 رنز کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے جنوبی افریقہ نے ہاشم آملا کے ساتھ ابراہم ڈی ولیئرز کو اوپنر بھیجنے کا فیصلہ کیا، لیکن یہ تجربہ کامیاب نہیں ہوا۔ 31 رنز کے مجوعمی اسکور پر ڈی ولیئرز صرف سات رنز بنانے کے بعد کرس جارڈن کا شکار ہوگئے۔ ابھی چار کا اضافہ ہی ہوا تھا کہ آملا کو بین اسٹوکس نے پویلین کی راہ دکھا دی۔ ابتدائی دو نقصانوں کے بعد کپتان دو پلیسی اور ژاں-پال دومنی نے تیسری وکٹ کے لیے 41 رنز جوڑے، لیکن اِس کے باوجود میچ جنوبی افریقہ کے لیے آسان نہیں ہو سکا۔ دونوں کے جانے کے بعد ریلی روسو اور ڈیوڈ ملر پر ذمہ داری آئی لیکن وہ بھی کشتی کو بیچ منجدھار میں چھوڑ گئے۔ آخر میں صرف کرس مورس ہی رہ گئے جنہیں اسے کنارے لگانے تھا اور انہوں نے ایک روزہ کی طرح یہاں بھی ذمہ داری خوب نبھائی۔

ویسے نیولینڈز جنوبی افریقہ کے لیے کافی خوش قسمت میدان ہے۔ یہاں انگلستان کے خلاف گزشتہ 13 مقابلوں میں جنوبی افریقہ کو کبھی شکست نہیں ہوئی۔ 10 میں کامیابی حاصل کی اور باقی تین ہار جیت کے فیصلے ہوئے بغیر ختم ہوگئے۔ ان 13 مقابلوں میں 6 ٹیسٹ، 5 ایک روزہ اور دو ٹی ٹوئنٹی میچز شامل ہیں۔

اب دوسرا ٹی ٹوئنٹی 21 فروری کو جوہانسبرگ میں کھیلا جائے گا کہ جہاں انگلستان کے پاس صرف برابر کرنے کا موقع ہوگا۔