کارکردگی کا 'انعام'، شرجیل، سمیع اور خالد لطیف قومی ٹیم میں شامل

اسلام آباد یونائیٹڈ نے پاکستان سپر لیگ میں آغاز میں پے در پے ناکامیاں سمیٹیں، لیکن اس کے بعد ہوش سنبھالا اور مسلسل چار فتوحات حاصل کرکے اب فائنل تک پہنچ گئی ہے۔ اس کارکردگی کی بدولت پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی بھی 'یونائیٹڈ' پر خاصی مہربان دکھائی دیتی ہے کہ جس نے ٹیم کے تین کھلاڑیوں کو ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے اسکواڈز میں شامل کرلیا ہے۔

پلے-آف 3 میں شرجیل خان کی طوفانی سنچری کے بعد ہی پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی کپتان شاہد آفریدی نے اشارہ دے دیا تھا کہ انہیں اس اننگز کا تحفہ بھی جلد مل جائے گا۔ اس "تحفے" کا باضابطہ اعلان آج سلیکشن کمیٹی نے کیا ہے کہ شرجیل ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے پاکستانی دستے کا حصہ ہوں گے۔ اسی طرح اسلام آباد کی جانب سے عمدہ باؤلنگ کرنے والے محمد سمیع بھی اس 'انعام' کے حقدار قرار پائے ہیں۔

شرجیل خان نے انتہائی اہم مقابلے میں صرف 50 گیندوں پر سنچری بنائی اور 'ہاٹ فیورٹ' پشاور ‍زلمی کو پی ایس ایل سے باہر کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ دوسری جانب محمد سمیع کی کارکردگی لیگ میں بہت زبردست رہی ہے۔ انہوں نے صرف 6 مقابلوں میں 11 وکٹیں لی ہیں، وہ بھی 9.72 کے اوسط اور 5.17 کے ناقابل یقین اکانمی ریٹ کے ساتھ، جو تمام قابل ذکر گیندبازوں میں سب سے نمایاں ہے۔

ان دونوں "اسلام آبادیوں" کی جگہ اپنے ہی ساتھیوں بابر اعظم اور رمّان رئیس کی جگہ بنی ہے۔ بابر ایک پریکٹس سیشن کے دوران بازو پر چوٹ لگنے سے زخمی ہوئے اور ڈاکٹروں کے مطابق ایک مہینے تک نہیں کھیل پائیں گے۔ رمان رئیس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ہمسٹرنگ کی تکلیف کا شکار ہیں اور اس وقت مکمل فٹ نہیں ہیں۔

اب یہ دونوں کھلاڑی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل "چھوٹے امتحان" یعنی ایشیا کپ میں کھیلیں گے اور پھر اگلے ماہ بھارت جائیں گے جہاں سال کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ کھیلا جائے گا۔ یہاں ان کا ساتھ اسلام آباد یونائیٹڈ کے ایک اور کھلاڑی خالد لطیف دیں گے۔ سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین ہارون رشید کا کہنا ہے کہ چند "تکنیکی" وجوہات کی بنیاد پر وہ صرف ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلیں گے جبکہ ایشیا کپ میں افتخار احمد ہی کھیلیں گے۔ ان تمام تبدیلیوں میں باہر جانے اور اندر آنے والے تمام کھلاڑی اسلام آباد یونائیٹڈ کے ہیں، سوائے افتخار احمد کے کہ جنہوں نے کراچی کنگز کی جانب سے ایک ناکام سیزن کھیلا ہے۔

Mohammad-Sami

Facebook Comments