پی ایس ایل فائنل: 'دماغ' اسلام آباد، 'دل' کوئٹہ کے ساتھ

پاکستان سپر لیگ کا حسن اتفاق دیکھیں کہ جس میدان پر جن دو ٹیموں نے افتتاحی مقابلہ کھیلا تھا، ٹھیک 19 ویں دن حتمی معرکہ یعنی فائنل بھی انہیں کے مابین ہونے والا ہے۔ گو کہ اُس مقابلے میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے باآسانی فتح حاصل کی تھی، لیکن آج کا میچ اتنا آسان ہرگز ثابت نہ ہوگا۔ کیوں؟ کیونکہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے شاندار انداز میں واپسی کی ہے اور مسلسل چار مقابلے جیتتا ہوا فائنل تک پہنچا ہے۔ اب فائنل میں پاکستان کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان اور ممکنہ طور پر مستقبل کے کپتان سرفراز احمد کا مقابلہ ہے، دیکھنا ہے کہ آج مصباح کا تجربہ کام آتا ہے یا سرفراز کا جوش و ولولہ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہ دونوں ٹیمیں پہلے مقابلے میں نبرد آزما ہوئی تھیں تو اسلام آباد کو کاغذ پر مضبوط ترین جبکہ کوئٹہ کو سیزن کی سب سے کمزور ٹیم سمجھا جارہا تھا، لیکن آج کے مقابلے میں کوئٹہ کو اپنی شاندار کارکردگی کی وجہ سے اسلام آباد پر فوقیت حاصل ہے۔ دونوں راؤنڈ مقابلوں میں اسلام آباد کو ہرانے کے علاوہ کوئٹہ کا ٹیم کمبی نیشن بہترین دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد پے در پے فتوحات کے بعد حوصلے بلند کر چکا ہے۔

فائنل میں ٹیم کے انتخاب پر بات کی جائے تو کوئٹہ کے لیے ایک بری خبر یہ ہے کہ ان کے بہترین اوپننگ بلے باز لیوک رائٹ ابھی تک مکمل فٹ نہیں ہو سکے۔ لیوک ابتدائی مقابلوں میں شاندار کارکردگی کے بعد باہر ہوگئے تھے۔ اگر وہ فٹ ہوگئے تو بلاشبہ وہ اولین انتخاب ہوں گے ورنہ بسم اللہ خان کو ایک اور موقع ملے گا۔ احمد شہزاد کے فارم سے باہر ہونے کی وجہ سے کوئٹہ کی اولین خواہش بھی یہی ہوگی کہ رائٹ ٹیم میں آئیں۔ اس صورت میں اسلام آباد کے لیے مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں۔ کوئٹہ کے پاسکیون پیٹرسن، کمار سنگاکارا، سرفراز احمد، گرانٹ ایلیٹ اور محمد نواز کی صورت بہترین مڈل آرڈر بلے باز موجود ہیں جو کسی بھی مشکل صورتحال سے نمٹنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں، بلکہ پشاور کے خلاف پہلے پلے آف میں وہ ایسا کرکے بھی دکھا چکے ہیں۔ اگر گیند بازی کی بات کی جائے تو اعزاز چیمہ کی صورت آخری اوورز میں گیند بازی کا بہترین آپشن موجود ہے۔ یعنی عمر گل کی واپسی کا فائنل میں بھی امکان نظر نہیں آتا۔ ان کے علاوہ انور علی، گرانٹ ایلیٹ اور محمد نواز کی بہترین فارم کوئٹہ کو باؤلنگ میں بھی مضبوط بناتی ہے۔ کوئٹہ کی ممکنہ ٹیم یہ ہو سکتی ہے:

یہ بھی پڑھیں:  سرفراز احمد کا متبادل کون؟ محمد رضوان یا عمر اکمل؟

سرفراز احمد (کپتان)، احمد شہزاد، بسم اللہ خان، کیون پیٹرسن، کمار سنگاکارا، گرانٹ ایلیٹ، محمد نواز، نیتھن میک کولم، انور علی، ذوالفقار بابر اور اعزاز چیمہ۔

Shane-Watson-Viv-Richards

دوسری طرف اسلام آباد کو شرجیل خان سے بہت اُمیدیں وابستہ ہیں کہ جو "سیمی فائنل" میں 117 کی شاندار اننگز کھیل 'فیورٹ' پشاور کو باہر کر چکے ہیں۔ پھر ڈیوین اسمتھ، بریڈ ہیڈن اور خالد لطیف کی صورت میں ٹاپ آرڈر میں ہی خطرناک بلے باز موجود ہیں۔ اگر ابتداء میں ہی انہوں نے اچھا آغاز فراہم کردیا تو نیچے موجود آندرے رسل اور مصباح الحق آخری وقت میں بھرپور حملے کرکے کوئٹہ کے لیے مشکلات کھڑی کرسکتے ہیں۔

پھر گیند بازی کے شعبے میں بھی اسلام آباد یونائیٹڈ کسی سے کم نہیں۔ محمد سمیع، محمد عرفان، سیموئل بدری اور عمران خالد پر مشتمل لائن-اپ پہلے بھی مخالف ٹیموں کے لیے پریشانی کھڑی کرچکی ہے اور توقع ہے کہ آج بھی وہ ایسا ہی کرکے دکھائے گی۔

سب سے اہم بات یہ کہ اسلام آباد مسلسل چار مقابلے جیت کر فائنل تک پہنچا ہے اور جیت کا یہ تسلسل ہی اسلام آباد یونائیٹڈ کو بغیر کسی تبدیلی کے میدان میں اترنے دے گا۔ ممکنہ ٹیم انہی کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگی، جنہوں نے پشاور زلمی کے خلاف یادگار کامیابی حاصل کی تھی:

مصباح الحق (کپتان)، ڈیوین اسمتھ، شرجیل خان، بریڈ ہیڈن (وکٹ کیپر)، خالد لطیف، آندرے رسل، آصف علی، سیموئل بدری، عمران خالد، محمد سمیع اور محمد عرفان۔

انتظامیہ کا کہنا ہےکہ فائنل کے تمام ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں حالانکہ یہ عین ہفتے کے درمیان ہو رہا ہے۔ شاندار اختتامی تقریب اور زبردست مقابلے کی توقع میں شائقین کی بڑی تعداد میں آمد متوقع ہے۔ دیکھتے ہیں آج پاکستان سپر لیگ کی 'شوٹنگ اسٹار ٹرافی' کون اٹھاتا ہے اور تاریخ میں اپنا نام محفوظ کرتا ہے۔ 'دماغ' کہتا ہے اسلام آباد، 'دل' کہتا ہے کوئٹہ!!

Facebook Comments