پاکستان سپر لیگ کی کامیابی، اب مستقبل کے لیے عزائم بلند

سالہا سال تک ٹوٹتے بنتے ارادوں کے بعد جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی لیگ کروانے کا حتمی اعلان کیا تو شاید کسی بھی یقین نہیں تھا کہ بورڈ ایسا کرانے کی کوئی صلاحیت رکھتا بھی ہے۔ یہاں تک کہ تقریب رونمائی، کھلاڑیوں کے انتخاب اور دیگر انتظامات کی تکمیل سے بھی وہ دھند نہ چھٹ سکی کیونکہ پی سی بی کا ماضی عوام کے دلوں میں خدشات پیدا کر رہا تھا۔ لیکن تمام شکوک و شبہات اور خدشات ایک ناقابل یقین حقیقت کا روپ دھار گئے، پاکستان سپر لیگ آئی، اس نے دیکھا اور دلوں کو فتح کرلیا۔ متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر 4 سے 23 فروری تک ہونے والا کرکٹ میلہ مدتوں پاکستان کرکٹ کے شائقین کو یاد رہے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس منصوبے کا حتمی اعلان گزشتہ سال ستمبر میں کیا تھا کہ جس میں پہلا کارنامہ پانچ فرنچائز ٹیموں کو 93 ملین ڈالرز میں فروخت کرکے انجام دیا۔ پھر دنیا بھر کے 11 ممالک سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو لیگ کا حصہ بننے کے لیے طلب کیا گیا اور بہت مثبت جواب بھی پایا۔ کرکٹ کے بڑے نام کرس گیل، کمار سنگاکارا، کیون پیٹرسن، شین واٹسن اور ڈیوین براوو سمیت کئی کھلاڑی اس لیگ کا حصہ بنے اور جب تک پہلے روز افتتاحی تقریب میں پردہ نہ اٹھا، کسی کو یقین نہیں تھا کہ یہ اتنا کامیاب ایونٹ ہوگا۔ پھر جیسے ہی یہ غیر یقینی کیفیت بدلی، پاکستان کے عوام کا جوش، جذبہ اور جنون اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ ورلڈ کپ کے علاوہ شاید ہی کبھی پاکستان میں کرکٹ اس طرح مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچتی دکھائی دی ہو بلکہ پی ایس ایل نے تو کئی پہلوؤں سے ورلڈ کپ کے پاک-بھارت مقابلوں کو بھی گہنا دیا۔

وطن عزیز سے باہر انعقاد کی وجہ سے پاکستانیوں کے پاس پی ایس ایل دیکھنے کا ایک ہی موقع تھا، ٹیلی وژن پر براہ راست۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ریٹنگ کے لحاظ سے پی ایس ایل نے اگلے پچھلے تمام ریکارڈز توڑ ڈالے۔ اپنے عروج پر یہ پاکستان میں 55 فیصد ٹیلی وژن ناظرین نے دیکھی، جو ناقابل یقین ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے روح رواں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ ملک کے تمام بڑے کاروباری اداروں نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا تب کہیں جاکر یہ ممکن ہوا ہے کہ ہم پاکستان کے نامور کھلاڑیوں کو ملا کر اتنا بڑا اور کامیاب سیزن کروا سکے جو بلاشبہ پاکستان کرکٹ میں ایک غیر معمولی بات ہے۔

پاکستان سپر لیگ کا ایک اہم پہلو قومی کرکٹ کے ذرائع آمدنی میں اضافہ کرنا اور بجٹ میں توازن پیدا کرنا تھا۔ 2009ء میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گرد حملے کے بعد سے اب تک ملک میں بین الاقوامی کرکٹ واپس نہیں آئی۔ میدان ویران پڑے ہیں اور اس کا سب سے زیادہ نقصان جہاں شائقین کرکٹ کو ہو رہا ہے وہیں بورڈ بھی مالی خسارے سے دوچار ہے۔ کیونکہ اسے اپنے مقابلے بھی بیرون ملک متحدہ عرب امارات میں منعقد کرنا پڑ رہے ہیں جس سے منافع بہت گھٹ گیا ہے۔ گو کہ پی ایس ایل کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ اسے منافع میں جانے میں تین، چار سال لگ جائیں گے لیکن پہلے ہی سیزن میں یہ لگ بھگ 'نہ منافع، نہ نقصان' کے مرحلے تک پہنچ سکتی ہے جو بہت بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ بورڈ کے منصوبے کے مطابق اگلے 10 سالوں میں 50 سے 60 ملین ڈالرز تک کا منافع ہوگا۔ لیکن جس بڑے پیمانے پر پہلا سیزن 'ہٹ' ہوا ہے، اس کے بعد توقع ہے کہ 20 کروڑ کی بڑی آبادی رکھنے والے ملک کی یہ لیگ بہت جلد دنیا کی بڑی لیگز میں سے ایک ہوگی۔

پہلی کامیابی کے بعد اب وقت ہے اس کے ثمرات کو سمیٹنے کا اور پہلی اور سب سے بڑی ترجیح یہی ہوگی کہ بورڈ پاکستان میں انعقاد کی کوشش کرے۔ فوری طور پر تو اگلے دو سیزن میں بھی پوری لیگ کا یہاں انعقاد مشکل دکھائی دیتا ہے لیکن چند ایک کامیاب انعقاد کے ذریعے اس سمت اہم قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ اب یہی پی سی بی کا اصل اور بڑا امتحان ہے کہ وہ پاکستان کی 'اپنی' لیگ کو جلد 'اپنوں' میں لائے۔

PSL-final

Facebook Comments