پاک-بھارت ٹکراؤ، جس کا ہے بے تابی سے انتظار

اس کو حسن اتفاق کہیں یا کچھ اور کہ عالمی کپ 2015ء کے بعد پاکستان ایک مرتبہ پھر روایتی حریف بھارت کے مقابلے پر آیا ہے تو وہ ٹورنامنٹ کا پہلا ہی میچ ہے۔ 27 فروری کو ہونے والا پاک-بھارت ایشیا کپ مقابلہ ایسا ہے جس کا شائقین کرکٹ کو بے تابی سے انتظار۔

ایڈیلیڈ کے میدان پر تاریخی مقابلے میں شکست کے بعد سے اب تک پلوں کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا ہے۔ لیکن پھر بھی 'فیورٹ' بھارت ہی ہے۔ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں وہ اپنے گزشتہ پانچ میں سے چار مقابلے جیت چکا ہے جبکہ پاکستان اس کے بالکل الٹ آخری پانچ میں صرف ایک میں کامیابی حاصل کر پایا ہے۔ بھارت آسٹریلیا کو اس کے وطن میں تین-صفر سے شکست دینے کے بعد سری لنکا کو دو-ایک سے ہرا کر بنگلہ دیش پہنچا ہے جبکہ پاکستان انگلستان کے ہاتھوں سیریز ہارنے کے بعد نیوزی لینڈ میں دو-ایک سے ٹی ٹوئنٹی سیریز ہارا۔

بھارت ایشیا کپ میں اپنے پہلے مقابلے میں میزبان بنگلہ دیش کے خطرے سے اچھی طرح نمٹ چکا ہے جبکہ پاکستان سپر لیگ کے کامیاب انعقاد کے بعد گزشتہ روز ہی ڈھاکا پہنچا ہے۔ اب نئے ماحول اور مزاج سے آشنائی کے بعد وہ میرپور میں ہی بھارت سے ٹکرائے گا کہ جہاں گزشتہ ایشیا کپ میں ایک تاریخی مقابلے کے بعد کامیابی حاصل کی تھی، جی ہاں! وہی مقابلہ، شاہد آفریدی کے دو چھکوں والا۔

ایشیا کپ تاریخ میں پہلی بار ٹی ٹوئنٹی طرز میں کھیلا جا رہا ہے۔ اس سے قبل یہ ہمیشہ سے ایک ون ڈے ٹورنامنٹ رہا ہے۔ اب تک ایشیا کپ میں دونوں ٹیموں کے درمیان 9 میچز ہوئے ہیں جن میں چار-چار میں پاکستان اور بھارت دونوں نے کامیابی حاصل کی جبکہ ایک مقابلہ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہو گیا تھا۔

لیکن کیونکہ اب معاملہ ٹی ٹوئنٹی کا ہے تو ہمیں اسی زاویے سے آئندہ پاک-بھارت ٹکراؤ کو دیکھنا ہوگا۔ 2007ء سے اب تک دونوں روایتی حریفوں کے ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں پاکستان کا ریکارڈ بہت ہی برا ہے۔ 9 سالوں میں ہونے والے پانچ میچز میں پاکستان کو صرف ایک، کامیابی ملی ہے جبکہ ایک میچ برابر ہوا تھا۔ باقی سب میں شکستیں ہی نصیب میں لکھی گئیں۔ پھر گزشتہ ایک سال میں پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی فارم بھی بہت بری ہے۔ کبھی عالمی نمبر ایک رہنے والی ٹیم پاکستان 13 مقابلوں میں سات جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے اور پانچ میں شکست کھائی ہے۔

بھارت کو سب سے زیادہ اپنی بلے بازی پر ناز اور بھروسہ ہے، جو ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ آخری بار جب ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء میں دونوں ٹیموں کا ٹکراؤ ہوا تھا تو اس وقت بھی یہی بلے باز تھے جنہوں نے بھارت کو جتوایا تھا۔ ابتدائی ساتوں بلے باز روہیت شرما، شیکھر دھاون، ویراٹ کوہلی، یووراج سنگھ، مہندر سنگھ دھونی، سریش رینا اور رویندر جدیجا۔ یہ سب کل میرپور میں بھی ایکشن میں نظر آئیں گے۔

اس کے مقابلے میں پاکستان ایک مکمل طور پرتبدیل شدہ ٹیم ہے۔ 2014ء میں کھیلے گئے اُس میچ میں حصہ لینے والے 6 کھلاڑی اب اسکواڈ کا حصہ نہیں جیسا کہ کامران اکمل، احمد شہزاد، صہیب مقصود، بلاول بھٹی، جنید خان اور سعید اجمل۔

لیکن سب باتوں کی ایک بات، کرکٹ دن کا کھیل ہے، ریکارڈز کی کوئی اہمیت نہیں اگر کھیل کے دن اچھی کارکردگی دکھا گئے تو کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ اس لیے بھارت بھی ہرگز پاکستان کو کمزور حریف نہیں سمجھے گا جس کے کھلاڑی پی ایس ایل میں شاندار کارکردگی دکھانے کے بعد بلند حوصلوں کے ساتھ بنگلہ دیش پہنچے ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، اب تو شدت سے اس میچ کا انتظار ہے۔

Facebook Comments