پی ایس ایل سے بھی کوئی بلے باز نہ ملا، لیکن کیوں؟

پاکستان سپر لیگ اپنے اختتام کو پہنچی، بلاشبہ یہ ایک یادگار اور شاندار ایونٹ تھا کہ جس نے ملک میں کرکٹ کے حوالے سے جوش اور جنون کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ لیکن جس معاملے نے تشویش میں مبتلا کیا ہے وہ یہ کہ بیٹنگ میں کوئی غیر معمولی ٹیلنٹ سامنے نہیں آیا۔ لے دے کر پورے سیزن سے دو اسپن باؤلرز سامنے آئے کہ جنہیں 'پی ایس ایل' کی دریافت کہا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ لیگ کا دامن خالی دکھائی دیا۔

پاکستان میں با اختیار طبقے کی منطقیں بھی عجیب ہیں، وہ مسائل کا ذمہ دار ان عوامل کو قرار دیتا ہے جو اس کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتے لیکن جو چیزیں اختیار میں ہیں ان پر توجہ دے تو کئی مسائل جنم ہی نہ لیں۔ کرکٹ کا معاملہ بھی اس سے ہرگز جدا نہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب ہمیں مستقبل کا جاوید میانداد، انضمام الحق یا محمد یوسف کہیں نظر نہیں آتا، اچھے بلے بازوں کی عدم موجودگی کا معاملہ جب بھی ارباب اختیار کے سامنے اٹھایا گیا، حسب روایت ان کا تمام زور ان 'بیرونی عوامل' پر ہوتا ہے جو ان کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں، جیسا کہ ایک جواب یہ کہ ملک میں بین الاقوامی کرکٹ نہیں ہو رہی، میدان ویران پڑے ہیں اسی لیے معیاری 'ٹیلنٹ' سامنے نہیں آ پا رہا۔ ان حالات میں بہتری کی کوئی امید بھی ہے؟ اس سوال پر ان کی تمام امیدوں اور آرزوؤں کا محور "پاکستان سپر لیگ" بن جاتی ہے۔ "بس ایک بار لیگ ہو جائے، ٹیلنٹ نہ ملنے کی شکایات دور ہو جائیں گی" لیکن اب تو یہ "دیرینہ مطالبہ" بھی پورا ہوگیا، لیکن کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔ محمد اصغر اور محمد نواز، صرف دو ایسے کھلاڑی ہیں کہ جنہیں پی ایس ایل میں ابھر کے سامنے آنے والا ٹیلنٹ کہا جا سکتا ہے لیکن دونوں اسپن باؤلرز ہیں۔ بیٹنگ کا دامن ویسے ہی خالی ہے بلکہ اب تو مزید مایوسی ہو چکی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ چند ایک کو چھوڑ کر پاکستان کا کوئی بیٹسمین سپر لیگ میں نمایاں کارکردگی پیش نہیں کر سکا۔ خاص طور پر کوئی نیا بیٹسمین ابھر کر سامنے نہیں آیا۔ اگر کسی نے غیر معمولی پرفارم کیا بھی تو وہ جانا پہچانا نام تھا جیسا کہ عمر اکمل، شرجیل خان وغیرہ۔

Dwayne-Smith-Sharjeel-Khan

آخر پاکستان میں کرکٹ کا معیار گرتا کیوں جا رہا ہے؟ اس کا سب سے بڑا سبب ہے اسکول اور کالجوں کی سطح پر کھیلوں کا نہ ہونا۔ بچوں کی صلاحیتوں اور شوق کو جانچنے اور اسے پروان چڑھانے کے لیے بہترین دور اسکول کا ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں غیر نصابی سرگرمیاں محض فنکشن اور ناچ گانوں تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ کوئی پندرہ، بیس سال پہلے پھر بھی اسکولوں کی سطح پر کرکٹ ٹیمیں ہوتی تھیں۔ بڑے اسکول تو اپنا خاصا بجٹ کرکٹ اور دیگر کھیلوں کے لیے مختصر کرتے تھے۔ یوں زیر تعلیم تمام طالب علموں کو کھیل کے یکساں مواقع فراہم ہوتے تھے۔ پھر دوسرے اسکولوں کی ٹیموں کے ساتھ مقابوں کا انعقاد ایک سماں باندھ دیتا تھا۔ کھیلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے نوجوانوں کو اسکولوں اور کالجوں میں خاص کوٹے پر داخلے ملتے تھے جس کی وجہ سے نوجوان بھی کھیلوں میں دلچسپی رکھتے تھے لیکن اب یہ سارا نظام نظر نہیں آتا۔

اسکولوں کی سطح پر کھیل اور تعلیم کے نظام کو الگ کرنے کے بعد اب صورت حال یہ ہے کہ جو والدین تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں وہ بچوں کی کرکٹ اکیڈمیوں میں جانے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے اور جو بچے کرکٹ اکیڈمیز میں شامل ہوتے ہیں وہ تعلیم کے قابل نہیں رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ اب جو نوجوان کھلاڑی ٹیم میں آ رہے ہیں ان کی اکثریت تعلیمی اعتبار سے پست ہے۔ ان میں نظم و ضبط اور اخلاقی معیار کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ یوں وہ خود اس مقام تک نہیں پہنچ پا رہے جو صرف تعلیم کے ذریعے ممکن ہے۔ کھلاڑیوں کا ایک کے بعد دوسرا اسکینڈل ظاہر کرتا ہے کہ تعلیمی بنیاد کمزور ہے جس کی وجہ یہی ہے کہ اسکول کی سطح پر کھیل نہیں کھیلے جا رہے۔

جب تک ملک کے تعلیمی اداروں میں کھیلوں کا فعال نظام نہیں بحال کیا جاتا، پاکستان میں کرکٹ سمیت کسی بھی کھیل میں حقیقی بنیادوں پر بہتری کی امید نہیں ہوگی۔ کیونکہ 'پی ایس ایل' جیسے ایونٹ بھی ٹیلنٹ کو چمکانے کا سبب ہی بن سکتے ہیں مگر معیاری ٹیلنٹ جب موجود ہی نہیں ہوگا تو وہ بھی ایک حد سے زیادہ اپنا کردار ادا نہیں کر سکتے۔

Facebook Comments