آئی سی سی میں اصلاحات، آئرلینڈ کو منزل نظر آنے لگی

کرکٹ آئرلینڈ نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا ہے جس میں ٹیسٹ کرکٹ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ کرکٹ آئرلینڈ کے چیف ایگزیکٹو ویرن ڈیوٹرم کا کہنا ہے کہ "ہم عرصے سے ایسا کوئی قدم اٹھانے کا مطالبہ کر رہے تھے، یہ فیصلہ کرکٹ کو آئرلینڈ کا مشہور کھیل بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔"

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ٹیسٹ کرکٹ کو دو ڈویژنز میں تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں پہلے ڈویژن میں سرفہرست 7 ٹیمیں ہوں گی اور پانچ ممالک، جن میں دو ایسوسی ایٹ بھی ہوں گے، ڈویژن 2 کا حصہ ہوں گے۔ آئرلینڈ انٹرکانٹی نینٹل کپ میں سرفہرست تھا، اس لیے اگر یہ تجاویز منظور ہوگئیں تو وہ ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔ تجویز کے مطابق ہر دو سال بعد ٹیموں کو دو ڈویژنز کے درمیان ترقی یا تنزلی ملے گی اور ڈیوٹرم کا کہنا ہے کہ اس سے زیادہ دلچسپی اور بہتر کارکردگی دکھانے کی تحریک ملے گی۔ یہ فیصلہ کھیل کو زیادہ پرکشش بنائے گا۔

2014ء میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ایک نئی ٹیم کے لیے ٹیسٹ درجہ حاصل کرنے کی راہ ہموار کی تھی۔ ایسوسی ایٹ ٹیموں کے فرسٹ کلاس مقابلوں انٹر کانٹی نینٹل کپ کا فاتح 2018ء تک سب سے نچلے نمبر کی ٹیسٹ ٹیم کے ساتھ چار مقابلے کھیلے گا۔ جیتنے کی صورت میں ایسوسی ایٹ فاتح کو چار سال کے لیے ٹیسٹ درجہ مل جائے گا۔

گوکہ تجاویز حوصلہ افزا ہیں لیکن دو نئی ٹیسٹ ٹیموں کو مستقل بنیادوں پر مقابلے کیسے ملیں گے، جبکہ آخری نمبر کی ٹیسٹ ٹیم زمبابوے نے 2005ء سے آج تک صرف 14 ٹیسٹ کھیلے ہیں۔ نئے ڈھانچے میں اس پر بھی تجاویز ہیں کہ ڈویژن 2 کی پانچ ٹیمیں دو سال کے عرصے میں ایک دوسرے کے خلاف کھیلیں گی۔ اس سے آئرلینڈ کو دو سال میں 8 سے 12 ٹیسٹ کی ضمانت مل سکتی ہے۔ یہ اصلاحات آئرش کرکٹ کو نشریات کاروں، کمرشل پارٹنرز اور حکومت کے لیے زيادہ پرکشش بنا سکتی ہے، اور یوں کھلاڑیوں کو مستقبل کے لیے انگلستان جانے سے بھی روک سکتی ہیں۔

ٹیسٹ میں دو ڈویژن بنانے کے علاوہ آئی سی سی ایک روزہ کرکٹ کے سرفہرست 12 ممالک کو بھی چھ کے دو گروپوں میں تقسیم کرنے پر غور کررہا ہے، ہو سکتا ہے چار کے تین گروپ بھی ہوں۔

Article Tags

Facebook Comments