پاکستان اور امارات، دونوں کی نظریں پہلی کامیابی پر

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے سبب قومی ٹیم ایشیا کپ کھیلنے کے لیے بنگلہ دیش کچھ تاخیر سے پہنچی، جس کی وجہ سے غالباً وکٹ کو سمجھنے میں کچھ وقت لگا۔ بھارت کے خلاف بدترین شکست اِس کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ قومی ٹیم وکٹ کو سمجھنے میں کتنی بُری طرح ناکام رہی۔ لیکن دوسری طرف متحدہ عرب امارات کی ٹیم کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ اُس کو یہاں آئے کافی دن ہوگئے ہیں، صرف یہی نہیں بلکہ وہ کوالیفائنگ راونڈ کے بعد ایشیا کپ کے دو میچز بھی کھیل چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب وہ پاکستان کے مقابل ہوگا تو شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں اُس کا تجربہ بہرحال زیادہ ہوگا۔

اگر امارات کے ابتدائی دونوں میچز کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو جب تک وہ گیندبازی کرتا ہے خوب کھیلتا ہے، لیکن بلے باز اب تک فارم میں نہیں آسکے۔دوسری طرف اگر قومی ٹیم کی بات کی جائے تو کپتان شاہد آفریدی اور کوچ وقار یونس درپیش مشکلات سے آگاہ تو ہیں، لیکن اُس کو حل کرنے میں اب تک ناکام ہیں۔ پاکستان نے آخری کرکٹ امارات کے میدانوں میں کھیلی تھی، جہاں کی وکٹیں دھیمی بھی تھیں اور اسپنرز کے لیے سازگار بھی۔ لیکن بنگلہ دیش کی وکٹوں نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی تیاریوں کو بری طر]ح متاثر کیا ہے جس کی شکایت بھرتی کپتان مہندر سنگھ دھونی نے بھی کی ہے۔ پاکستان کی "نازک" بیٹنگ لائن کا بھارت کے خلاف 83 رنز پر آؤٹ ہونا اِس کا واضح ثبوت ہے۔ گو کہ اس معمولی ہدف کے دفاع کے لیے بھی محمد عامر کی باؤلنگ نے پاکستان کو شاندار آغاز فراہم کیا، لیکن کامیابی سمیٹنا ناممکن تھا، ناممکن رہا۔

متحدہ عرب امارات کے کپتان امجد جاوید کا کہنا ہے کہ اُن کے گیند بازوں نے تو دونوں مقابلوں میں صلاحیتوں سے بڑھ کر پرفارم کیا، لیکن بدقسمتی سے بلے باز ناکام رہے، اِس لیے ہم کوشش کررہے ہیں کہ بلے باز بھی گیند بازوں کا بڑھ چڑھ کر ساتھ نبھائیں، اگر ایسا ہوگیا تو نتیجہ ہمارے حق میں بھی ہوسکتا ہے۔

دوسری طرف پاکستان کا مسئلہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ گیند باز تو ہمیشہ فتح دلوانے میں کردار ادا کرتے ہی ہیں، لیکن یہ بلے باز ہیں جو ہر بار دھوکا دے جاتے ہیں۔ اِس لیے اب یہ تجربہ کار بلے باز جیسے شعیب ملک، محمد حفیظ اور شاہد آفریدی کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے آئیں اور رنز بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  پرانے "لالا" کی جھلک، پشاور نمبر ایک
Mohammad-Amir

اگردونوں ٹیموں کی آخری پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو حیران کن طور پر امارات کی کارکردگی بہتر دکھائی دیتی ہے، جس نے آخری پانچ میں سے تین مقابلے جیتے ہیں اور دو میں شکست کا سامنا کیا ہے۔ پاکستان کو اتنے ہی میچز میں صرف ایک فتح نصیب ہوئی ہے جبکہ چار میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ امکان ہے کہ قومی ٹیم امارات کے خلاف بھی چار تیز گیند بازوں کے ساتھ میدان میں اترے گی، جبکہ خرم منظور کی جگہ عماد وسیم یا محمد نواز میں سے کسی ایک کو موقع دیا جاسکتا ہے۔

گو کہ ابتدائی دو مقابلوں میں 82 اور 115 رنز کی اننگز بتارہی ہیں کہ امارات کے بلے باز مشکلات کا شکار ہیں۔ پھر بھی عین ممکن ہے کہ آج کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے کیونکہ امارات کے پاس بہت زیادہ آپشنز موجود نہیں ہیں۔

آج پاک-امارات مقابلے کے دو اعداد و شمار دلچسپی کے حامل ہیں۔ پہلا یہ کہ دونوں ٹیمیں آج پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں آمنے سامنے آئیں گی۔ اِس سے قبل دونوں ٹیمیں تین بار ایک روزہ کرکٹ میں مقابلہ کرچکی ہیں اور تینوں میں پاکستان کو فتح نصیب ہوئی ہے۔ پھر دلچسپی کی دوسری بات، 85 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں 66 چھکے مار کر شاہد آفریدی سب سے زیادہ چھکے لگانے والوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر آ سکتے ہیں، اگر وہ صرف تین مزید چھکے لگا دیں۔ اِس فہرست میں حال ہی میں دنیائے کرکٹ کو خیرباد کہنے والے نیوزی لینڈ کے برینڈن میک کولم سرفہرست ہیں جن کے چھکوں کی تعداد 91 ہے۔

گو کہ بظاہر پاکستان کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے ہے، لیکن بھارت کے خلاف بدترین شکست کے بعد ماہرین اِس مقابلے کو بھی بہت اہمیت دے رہے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کون کتنے پانی میں ہے؟

Facebook Comments