پاک بھارت ورلڈ ٹی ٹوئنٹی مقابلہ بھی کھٹائی میں

ہر گزرتے دن کے ساتھ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا اہم ترین مقابلہ، یعنی پاک-بھارت ٹکراؤ، کھٹائی میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ پہلے پاکستان نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کو حکومت کی اجازت سے مشروط کیا۔ جب اجازت مل گئی تو بھارت کے اندر سے آوازیں اُٹھنا شروع ہوگئیں کہ کسی بھی حال میں یہ مقابلہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ایسی دھمکیوں کی موجودگی میں ضروری تو یہ تھا کہ بھارتی حکومت اعلان کرتی کہ وہ پاکستانی ٹیم کو مکمل سیکورٹی فراہم کرے گی لیکن معاملہ اُس کے بالکل برعکس دکھائی دے رہا ہے۔ صوبہ ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ ویربھادر سنگھ نے یہ حیران کن بیان دیا ہے کہ وہ پاک بھارت میچ کے لیے سیکورٹی فراہم نہیں کرسکتے۔

پاکستان اور بھارت کا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اہم ترین مقابلہ 19 مارچ کو اسی صوبے کے شہر دھرم شالا میں کھیلا جائے گا۔ اب وزیر اعلیٰ کی جانب سے سیکورٹی فراہم نہ کرنے کے اعلان کے بعد محسوس ہو رہا ہے کہ شاید مقابلے کا انعقاد ہی مشکل ہو جائے۔ ویربھادر نے اپنے بیان میں بھارتی کرکٹ بورڈ کو سیکورٹی یقین دہانی نہ دیتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ وہ یا تو پاک بھارت مقابلے کو منسوخ کردے یا پھر ممکن ہو تو اسے کسی دوسری جگہ منتقل کردیا جائے۔

اب جبکہ اہم ترین میچ کے آغاز میں تین ہفتے کا وقت بھی باقی نہیں بچا، ایسا بیان بھارتی کرکٹ بورڈ کے تن بدن میں آگ لگانے کے لیے کافی ہے۔ بی سی سی آئی کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر کہتے ہیں کہ ملک کی ساکھ خطرے میں ہے اور یہاں لوگ اپنی سیاست چمکانے میں مصروف ہیں۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بھارت میں انعقاد کا اعلان ایک سال قبل ہوا تھا، اور پاک-بھارت مقابلے کے لیے دھرم شالا کا انتخاب بھی چھ ماہ پہلے ہوا۔ اب میچ کے تمام ٹکٹ فروخت کردیے گئے ہیں اور عین اس وقت ایسے بیانات دینا ہرگز اچھا عمل نہیں ہے۔

انوراگ ٹھاکر نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں آسام میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز میں سینکڑوں پاکستانی کھلاڑیوں کو سیکورٹی فراہم کی گئی۔ تو اب اچانک ایسا کیا ہوگیا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو سیکورٹی فراہم نہیں کی جا سکتی؟ ویربھادر کا بیان دراصل پاکستان کے موقف کو ٹھیک ثابت کر رہا ہے کہ ان کی ٹیم کو بھارتی میں سیکورٹی خدشات لاحق ہیں۔ اہم ترین ایونٹ سے چند روز قبل سیکورٹی نہ دینے کا بیان ملک کی ساکھ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔


یاد رہے کہ روایتی حریفوں کے درمیان تقریباً آٹھ سالوں سے کوئی مکمل سیریز نہیں کھیلی گئی۔ سال 2016ء میں تو پٹھان کوٹ ایئربیس حملے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات مزید خراب ہو گئے۔ ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ کے اس تازہ بیان کی کڑیاں بھی اسی حملے سے جوڑی جا رہی ہیں جس میں دھرم شالا سے تعلق رکھنے والے فوجی بھی مارے گئے تھے۔

ویربھادر کے اس بیان کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے اپنے بھارتی ہم منصب شاشنک منوہر سے رابطہ کیا ہے اور تبدیل ہوتے ہوئے حالات پر گفتگو کی ہے۔ شاشنک منوہر نے پاکستان کو یقین دلایا ہے کہ اس کی ٹیم کو مکمل سیکورٹی فراہم کی جائے گی اور کوئی ناخوشگوار واقعہ ہونے سے روکا جائے گا۔

Facebook Comments