پاکستان کے لیے "دیوارِ بنگال" عبور کرنا ضروری

تاریخ میں پہلی بار ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی صورت میں ہونے والے ایشیا کپ میں بھارت تو فائنل تک رسائی حاصل کر چکا جبکہ باقی تینوں ایشیائی طاقتیں اب بھی جدوجہد کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ بنگلہ دیش اور بھارت دونوں کے ہاتھوں شکست کے بعد دفاعی چیمپئن سری لنکا تو ڈانواں ڈول ہے اور اب تک ایسا دکھائی دیتا ہے کہ فائنل کے لیے اصل 'کشتی' پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ہوگی۔ یہی دونوں ٹیمیں آج ایک اہم مقابلے میں آمنے سامنے ہوں گے۔ اگر بنگلہ دیش سرخرو ہوا تو 6 مارچ کو بھارت کا مقابلہ وہی کرے گا اور اگر پاکستان جیت گیا تو اس کی فائنل تک رسائی یقینی تو نہیں البتہ روشن ضرور ہو جائے گی۔ بس سری لنکا کو شکست دے کر آخری پتھر بھی راہ سے ہٹانا ہوگا۔

آج کے مقابلے کے لیے بھی پاکستان کا اصل ہتھیار گیندباز ہی ہوں گے۔ خصوصاً محمد عامر پر بہت زیادہ بھروسہ کیا جائے گا جو بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں کھیل کر یہاں کی وکٹوں کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ گزشتہ دونوں میچز میں عامر نے مثالی کارکردگی پیش کی ہے اور اپنے انتخاب کو درست ثابت کیا ہے۔ ان کے علاوہ کپتان شاہد آفریدی، محمد سمیع، محمد عرفان اور وہاب ریاض سے بھی اچھی کارکردگی کی امید ہے کہ وہ عامر کا مکمل ساتھ دیں گے۔

گیندبازوں سے ہٹ کر قومی ٹیم کے لیے اصل پریشانی بلے بازی ہے۔ خصوصاً ابتدائی تین بلے باز، جو ابتدائی دونوں میچز میں بُری طرح ناکام ثابت ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے سارا بوجھ عمر اکمل، شعیب ملک، شاہد آفریدی اور سرفراز احمد کے کاندھوں پر آجاتا ہے۔ اگر ابتدائی تین بلے باز شروع کے نصف اوورز میں ذمہ دارانہ بلے بازی کرلیں تو یہ عین ممکن ہے کہ نیچے آنے والے بلے باز اپنا کام آسانی سے کرسکیں۔ لیکن پاکستان کو اِس مقابلے میں اگر کسی کھلاڑی سے سب سے زیادہ اُمیدیں ہیں تو وہ عمر اکمل ہیں۔ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سے بہترین فارم کا مظاہرہ کرنے کے بعد انہوں نے متحدہ عرب امارات کے خلاف گزشتہ میچ میں انتہائی مشکل حالات میں آٹھویں ٹی ٹوئنٹی نصف سنچری بنائی۔ اگر آج کے میچ میں ان کا بلّا چل گیا تو بنگلہ دیش کو بچنے کا کوئی راستہ میسر نہیں آئے گا۔

Mohammad-Amir

پاکستان کے لیے بنگلہ دیش کو شکست دینا ہر گز آسان نہيں ہوگا۔ گزشتہ سال دورۂ بنگلہ دیش میں ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی دونوں میں شکست کھانے والا پاکستان اب عین اس وقت میزبان کا سامنا کر رہا ہے جب وہ دفاعی چمیپئن سری لنکا کو شکست دے کر اپنے حوصلے مزید بلند کر چکا ہے۔ اس آخری کامیابی کی خاص بات یہ تھی کہ یہ کسی واحد کھلاڑی کی مرہون منت نہیں تھی بلکہ ہر کھلاڑی نے اپنا پورا پورا حصہ ڈالا۔ چاہے شبیر رحمٰن کی 54 گیندوں پر 80 رنز کی اننگز ہو، یا شکیب الحسن اور محمود اللہ کی آخر میں عمدہ بلے بازی، یا پھر مستفیض الرحمٰن، مشرفی مرتضیٰ اور الامین حسین کی عمدہ گیندباز۔ ہر کھلاڑی کا اس کامیابی میں پورا پورا حصہ تھا۔ لیکن آج کے میچ سے قبل مستفیض کے زخمی ہونے کی صورت میں بنگلہ دیش کو ایک دھچکا پہنچا ہے۔ البتہ تمیم اقبال کی واپسی پاکستان کے لیے اچھی خبر نہیں ہے جو عمدہ فارم میں ہیں۔

آج کے مقابلے میں دو سنگ میل عبور ہو سکتے ہیں۔ ایک عمر اکمل صرف 30 رنز بنا کر پاکستان کے لیے سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی رنز بنانے والے بیٹسمین بن سکتے ہیں۔ جہاں اس وقت محمد حفیظ موجود ہیں۔ دوسری جانب شکیب الحسن آج 55 رنز بنا کر ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ میں ایک ہزار رنز بنانے والے بنگلہ دیش کے پہلے کھلاڑی بن سکتے ہیں۔

زیادہ تر امکان تو یہ یہی ہے کہ پاکستان اسی ٹیم کے ساتھ میدان میں اترے گا جس نے متحدہ عرب امارات کے خلاف آخری مقابلے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ یعنی خرم منظور اور شرجیل خان کو ایک اور موقع دیا جائے گا۔ ہاں، یہ ہوسکتا ہے کہ تیز گیندبازوں کے لیے زیادہ مدد دیکھتے ہوئے محمد نواز کی جگہ وہاب ریاض کو کھلایا اجئے۔ دوسری جانب بنگلہ دیش میں دو تبدیلیاں متوقع ہیں۔ ایک محمد متھن کی جگہ تمیم اقبال کی واپسی، دوسرا مستفیض الرحمٰن کے متبادل کے طور پر ابو حیدر کی شمولیت۔

پاکستان آج اہم مقابلے میں بنگلہ دیش کے خلاف گزشتہ شکستوں کا بدلہ چکانے کی کوشش کرے گا جبکہ میزبان چاہے گا کہ وہ آج ہی اپنی فائںل کی نشست پکی کرلے۔

Facebook Comments