ویسٹ انڈیز پر ایک اور ضرب، آندرے رسل کو معطلی کا سامنا

سیاست کھیل کو گھن کی طرح کھا جاتی ہے، اگر آپ کو یقین نہیں آ رہا تو ویسٹ انڈیز کو دیکھ لیں۔ ماضی کی 'کالی آندھی' کے جس کے سامنے دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں نہیں ٹھیر پاتی تھیں، آج محض ایک پرچھائیں بن کر رہ گئی ہے۔ اب تو اتنا برا وقت ہے کہ جو ڈھنگ کا کھلاڑی ہے یا تو بورڈ اسے کھلانا نہیں چاہتا، یا وہ خود ہی کھیلنے پر رضامند نہیں۔ انہی حالات میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے دستے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد توقع تھی کہ کچھ کشمکش میں کمی آئے گی لیکن ایک تنازع ختم ہو نہیں پاتا کہ دوسری مصیبت سر اٹھائے کھڑی ہوتی ہے۔ ابھی تنخواہں کے معاملات مکمل طور پر حل ہوئے نہیں کہ سنیل نرائن اور کیرون پولارڈ نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے نام واپس لے لیا۔ اب خبر آ رہی ہے کہ اہم آل راؤنڈر آندرے رسل عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائے ہیں اور خدشہ ہے کہ انہیں دو سال تک کی معطلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے قوانین کے تحت وہ کسی بھی وقت کسی بھی کھلاڑی کو ٹیسٹ کے لیے طلب کر سکتی ہے اور کھلاڑی اس کا پابند ہوگا۔ اسی طرح مقامی اینٹی ڈوپنگ ڈوپنگ ایجنسی کو معلوم ہونا چاہیے کہ کھلاڑی کس وقت اور کہاں موجود ہے۔ اگر کھلاڑی ایسا کرنے میں ناکام رہتا ہے اور سال میں تین بار ایسا ہو جاتا ہے تو اسے ٹیسٹ میں ناکامی تصور کیا جائے گا۔ یہی معاملہ آندرے رسل کے ساتھ ہوا ہے کہ جو سال میں تین مرتبہ ٹیسٹ نہیں کروا سکے۔ جس کی وجہ سے خطرہ ہے کہ انہیں معطل کیا جا سکتا ہے۔

جمیکا اینٹی ڈوپنگ کمیشن کے مطابق انہیں دو ہفتے قبل ہی آندرے رسل کے معاملے پر معلومات حاصل ہوئی ہیں اور وہ معاملے کی سماعت کے لیے ایک پینل تشکیل دے رہا ہے۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں آندرے رسل کی عدم موجودگی ویسٹ انڈیز کے لیے فیصلہ کن دھچکے سے کم نہیں۔ ایک بہترین آل راؤنڈر، جو رواں سال تین لیگز کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار رہا ہے، کی خدمات میسر نہ آنا پہلے ہی سے کمزور دستے کی مہم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا۔

andre-russell

Article Tags

Facebook Comments