پاک-لنکا معرکہ، حوصلے بلند کرنے کا آخری وقت

ایشیا کپ کے فائنل میں کون مقابل ہوگا، اس کا فیصلہ تو ہو چکا۔ لیکن دفاعی چیمپئن، اور اس سے پچھلا فاتح، یعنی سری لنکا اور پاکستان کا مقابلہ اپنی تمام اہمیت کھو چکا ہے۔ لیکن شائقین کے لیے یہ جتنا غیر ضروری میچ ہے، دونوں ٹیموں کے لیے کے لیے اتنا ہی اہم ہوگا۔ پے در پے شکستوں کے بعد دونوں ہی کی کوشش ہوگی کہ آخری فتح حاصل کرکے بلند حوصلوں کے ساتھ میگا ایونٹ میں شرکت کریں۔

پاکستان اور سری لنکا دونوں ہی اپنی کارکردگی سے خوش نہیں ہوں گے۔ دونوں کو بنگلہ دیش کے ہاتھوں تک شکست ہوئی۔ اس لیے حوصلے بحال کرنے کا اس سے اچھا موقع نہیں ہوگا کہ آج کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی جائے۔ رواں ایشیا کپ کے نتائج پر گو کہ خراب امپائرنگ نے بھی بہت اثر ڈالا ہے لیکن وجہ جو بھی ہو، ریکارڈ بک میں شکست بہرحال شکست ہی کہلائے گی۔

سری لنکا کی بات کریں تو کپتان لاستھ مالنگا کے زخمی ہونے سے بنتی ہوئی ٹیم کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ ان کی جگہ اینجلو میتھیوز اپنی ذمہ داری ادارہ کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن ناتجربہ کار کھلاڑی آڑے آ رہے ہیں۔ تلکارتنے دلشان، دنیش چندیمال اور خود میتھیوز کا کارکردگی نہ دکھا پانا بھی درد سر ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی بلے بازی سری لنکا سے بھی کمزور ہے اس لیے آج کے مقابلے می سری لنکا کے گیندباز کچھ سکھ کا سانس لیں گے۔ لیکن ان بیٹنگ کے لیے محمد عامر پریشانی پیدا کر سکتے ہیں۔ بلاشبہ پاکستان کی کارکردگی بدترین رہی لیکن اگر یہ سوال کیا جائے کہ ایشیا کپ کا سب سے بہترین گیندباز کون رہا تو بغیر کسی اختلاف کے سب کی زبان پر عامر ہی کا نام ہوا۔ پھر محمد عرفان اور شاہد آفریدی بھی مشکلات میں اضافے کے لیے کافی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وقار یونس گیند بازوں کے لیے اتنے فکر مند نہیں دکھائی دیتے لیکن بلے بازی میں کوئی پرسان حال نہیں۔ خرم منظور، محمد حفیظ اور شرجیل خان ٹاپ آرڈر میں کچھ نہیں کر پا رہے۔ نیچے عمر اکمل، سرفراز احمد اور شعیب ملک اسی صورت میں کامیابی کی ضمانت دے سکتے ہیں جب انہیں اوپر سے کچھ ملے۔

بہرحال، آج پاکستان تبدیلیاں کر سکتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ خرم منظور کی جگہ خالد لطیف کو موقع دیا جائے اور شرجیل کو آرام دے کر محمد نواز یا عماد وسیم کو شامل کیا جائے۔ ویسے تو اڑتی اڑتی یہ خبریں بھی ہیں کہ آج کپتان شاہد آفریدی نہیں کھیلیں گے اور ان کی جگہ سرفراز احمد قیادت کے فرائض سر انجام دیں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے شاہد آفریدی کو قیادت کی ضمانت دیے جانے کے بعد اس طرح کا فیصلہ حیران کن ہوگا۔ بہرحال، پاکستان کی نظریں کامیابی پر ہونی چاہئیں۔

Angelo-Mathews

Article Tags

Facebook Comments