مارٹن کرو کی چند یادگار اننگز

ہر تاریخ ساز شخص اپنے عہد کا امین ہوتا ہے اور ایسے کسی فرد کے دنیا سے چلے جانے سے تلافی ممکن نہیں ہوتی۔ دنیائے کرکٹ کے عظیم بلے باز اور نیوزی لینڈ کے سابق کپتان مارٹن کرو بھی ایسی ہی شخصیت تھے۔ اپنے عہد کے جانے مانے کھلاڑی تکنیکی لحاظ سے ایک بہت مضبوط بلے باز تھے۔ مشکل ترین مراحل میں تن تنہا ڈٹ جانے اور سب سے بڑھ کر جیت کا جذبہ دلانے والے۔ اپنے کرکٹ کیریئر میں مارٹن کرو نے کئی کارنامے انجام دیے، جن میں سے چند قابل ذکر ہیں۔

ویلنگٹن ٹیسٹ بمقابلہ سری لنکا، 1991ء

martin-crowe
سری لنکا کے خلاف ویلنگٹن کے مقام پر نیوزی پہلی اننگز میں نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم صرف 174 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی جس کے جواب میں سری لنکا نے 497 رنز کھڑے کردیے۔ ٹیسٹ کافی حد تک نیوزی لینڈ کے ہاتھ سے نکل چکا تھا جب مارٹن کرو نے اپنے کیریئر کی سب سے بڑی اننگز کھیلی۔ یہ تھے شاندار، اور بدقسمت، 299 رنز، جس کی وجہ سے میزبان شکست سے بچ گیا۔

323 رنز کے خسارے میں جانے کے بعد نیوزی لینڈ کو 134 رنز کا ٹھوس آغاز ملا لیکن صرف 14 رنز کے مزید اضافے پر دو وکٹیں گر چکی تھیں۔ یہاں مارٹن کرو میدان میں اترے اور پھر 10 گھنٹے تک کریز پر موجود رہے۔ اینڈریو جونز کے ساتھ ان کی 467 رنز کی شراکت داری نے نیوزی لینڈ کو 671 تک پہنچا دیا۔ مارٹن کرو ٹرپل سنچری بنانے والے نیوزی لینڈ کے پہلے بلے باز بنتے لیکن عین اس وقت آؤٹ ہوگئے جب وہ محض ایک رن کی دوری پر تھی۔ 299 رنز کا ہندسہ تاعمر ان کی طویل ترین اننگز کے طور پر لکھا جاتا رہا۔

لاہور ٹیسٹ بمقابلہ پاکستان، 1990ء

martin-crowe3
دورۂ پاکستان کا دوسرا ٹیسٹ جہاں نیوزی لینڈ جیت تو نہ سکا لیکن پاکستان کی مضبوط ترین باؤلنگ کے سامنے اگر کوئی جم کر کھیلا تھا تو وہ مارٹن کرو تھے۔

وسیم اکرم، وقار یونس اور عاقب جاوید کی تیز باؤلنگ کے سامنے نیوزی لینڈ پہلی اننگز میں صرف 160 رنز پر ڈھیر ہوا۔ جواباً پاکستان نے شعیب محمد کے 105 رنز کی مدد سے 373 رنز اکٹھے کر دیے اور نیوزی لینڈ پر 213 رنز کی برتری حاصل کرلی۔ اتنے بڑے خسارے کے بعد نیوزی لینڈ کی اننگز وقار یونس کی تباہ کن باؤلنگ کی نذر ہوگئی۔ جو قابل ذکر مزاحمت ہوئی وہ مارٹن کرو کی تھی کہ جنہوں نے ایک سرا سنبھالے رکھا۔ کرو اور کین ردرفرڈ نے پانچویں وکٹ پر 132 رنز جوڑے اور نیوزی لینڈ نے 74 رنز کی برتری پائی۔ پاکستان نے صرف ایک وکٹ کے نقصان پر ہدف حاصل کیا لیکن کرو نے ثابت کیا کہ وہ ملک کے سب سے اہم بلے باز ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سرفراز احمد کا متبادل کون؟ محمد رضوان یا عمر اکمل؟

برسبین ٹیسٹ بمقابلہ آسٹریلیا، 1985ء

martin-crowe4
آسٹریلیا کے خلاف سیریز کا یہ پہلا مقابلہ کئی حوالوں سے نیوزی لینڈ کے لیے یادگار ہے۔ یہ سرزمین آسٹریلیا پر نیوزی لینڈ کی پہلی کامیابی تھی۔ رچرڈ ہیڈلی کی تباہ کن باؤلنگ، پہلی اننگز میں 9 اور دوسری میں 6 وکٹیں، جنہوں نے آسٹریلیا کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ پھر مارٹن کرو کی یادگار بلے بازی جنہوں نے 188رنز کی اننگز کھیلی اور نیوزی لینڈ 553 رنز جیسا پہاڑ کھڑا کرنے میں کامیاب ہوا۔ آسٹریلیا دونوں اننگز میں جان لڑا کر بھی اس مجموعے کو نہ پہنچ سکا اور ایک اننگز اور 41 رنز سے شکست کھائی۔ اس میچ کی واحد اننگز میں کھیلی گئی مارٹن کرو کی باری کو ان کے کیریئر کی یادگار ترین بیٹنگ شمار کیا جاتا ہے۔

عالمی کپ 1992ء، بمقابلہ آسٹریلیا

martin-crowe5
1992ء کے عالمی کپ کی میزبانی مشترکہ طور پر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے پاس تھی اور افتتاحی مقابلہ بھی انہی دونوں کے مابین کھیلا گیا۔ آکلینڈ میں ہونے والے اس اہم مقابلے میں مارٹن کرو ہی نیوزی لینڈ کے کپتان تھے۔ میزبان نے پہلے بلے بازی کی اور 249 رنز بنائے جس میں مارٹن کرو کی سنچری اننگز بھی شامل تھے، جس کے ساتھ وہ آخر تک ڈٹے رہے۔ 250 رنز کا ہف حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ آسٹریلیا میدان میں اترا تو مارٹن کرو نے دلچسپ حکمت عملی اپنائی اور بجائے تیز گیندبازوں کے گیند آف اسپنر دیپک پٹیل کو تھما دی۔ درمیان میں انہوں نے گیون لارسن اور کرس ہیرس سے باؤلنگ کروائی، جنہوں نے آسٹریلیا کو سخت مشکلات سے دوچار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیوڈ بون کی سنچری کے باوجود آسٹریلیا 37 رنز سے ہار گیا۔

عالمی کپ 1992ء، بمقابلہ ویسٹ انڈیز

Martin-Crowe
عالمی کپ 1992ء میں آکلینڈ ہی کے مقام پر نیوزی لینڈ کا ایک اہم مقابلہ 'کالی آندھی' یعنی ویسٹ انڈیز کے ساتھ تھا۔ مسلسل چار میچز جیتنے کے بعد نیوزی لینڈ پراعتماد تھا اور کپتان کے دلیرانہ 81 رنز کی بدولت ویسٹ انڈیز کو شکست دینے میں کامیاب ہوا۔

گیون لارسن اور کرس ہیرس کی نپی تلی گنیدبازی ایک مرتبہ پھر کام آئی،جس کی وجہ سے ویسٹ انڈیز 203 رنز بنا پایا جس میں برائن لارا کے 52 رنز شامل تھے۔ 204 کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کا آغاز اچھا نہ تھا۔ کرٹلی ایمبروز اور میلکم مارشل نے 100 رنز پر میزبان کے تین بیٹسمین پویلین واپس بھیج دیے تھے۔ اس مرحلے پر مشکلات میں پھنسی ٹیم کو سہارا کپتان مارٹن کرو نے دیا جن کی 81 رنز کی اننگز نے نیوزی لینڈ کی فتوحات کا سلسلہ مزید دراز کردیا۔

Facebook Comments