"وینڈررز ٹاکرا"، آسٹریلیا نے آخری گیند پر میدان مار لیا

میزبان جنوبی افریقہ اور مقابل آسٹریلیا ہو، میدان جوہانسبرگ کا وینڈررز اسٹیڈیم ہو اور مقابلہ 'شاہکار' نہ ہو، ایسا بھلا کیسے ہوتا؟ 'تاریخ کے بہترین ایک روزہ' کے بعد اسی میدان پر آج ایک زبردست ٹی ٹوئنٹی معرکہ دیکھنے کو ملا کہ جہاں آسٹریلیا نے ڈیوڈ وارنر اور گلین میکس ویل کی ریکارڈ شراکت داری کی بدولت آخری گیند پر 205 رنز کا ہدف حاصل کیا اور یوں سیریز کو برابری کی سطح پر لاکھڑا کیا ہے۔

دوسرے ٹی ٹوئنٹی کے لیے آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا اور دوسرے ہی اوور میں ابراہم ڈی ولیئرز کی قیمتی وکٹ حاصل کرکے مقابلے پر حاوی ہونا چاہتا تھا۔ یہاں فف دو پلیسی کی قائدانہ اننگز نے آسٹریلیا کی ایک چال نہ چلنے دی۔ کوئنٹن ڈی کوک کے ساتھ مل کر اسکور کو وہ صرف 8 اوورز میں ہی 77 تک لے آئے۔ یہاں ڈی کوک 28 گیندوں پر 44 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ ژاں-پال دومنی زیادہ موثر بلے بازی نہ دکھا سکے ان کی 12 گیندوں پر 14 رنز کی اننگز گیارہویں اوور کے ساتھ مکمل ہوئی۔ لیکن یہاں اسکور بورڈ پر 103 رنز کا وجود جنوبی افریقہ کو ایک بڑے مجموعے کی نوید سنا رہا تھا۔ ڈیوڈ ملر کے 18 گیندوں پر 33 رنز نے اسے مزید ہوا دی۔ ملر کے بعد فرحان بہاردین اور کرس مورس توقعات پر پورا تو نہ اتر سکے لیکن فف دو پلیسی کی دھواں دار بیٹنگ نے جنوبی افریقہ کو 200 کی نفسیاتی حد کے قریب قریب ضرور پہنچا دیا۔ فف نے 41 گیندوں پر 79 رنز بنائے کہ جس میں پانچ چھکے اور اتنے ہی چوکے بھی شامل تھے۔ جب 20 اوورز مکمل ہوئے تو جنوبی افریقہ 7 وکٹوں پر 204 رنز بنا چکا تھا۔ جنوبی افریقہ نے آخری دو اوورز میں ہی 39 رنز کا اضافہ کردیا تھا حالانکہ انہی اوورز میں مورس اور دو پلیسی کی قیمتی وکٹیں بھی گری تھیں۔

آسٹریلیا کے گیند بازوں میں صرف جیمز فاکنر نے کچھ ہمت دکھائی تھی کہ جنہوں نے 4 اوورز میں 28 رنز دیے اور تین کھلاڑیوں کو بھی آؤٹ کیا۔ باقی سب کا تو حال ہی برا تھا۔ جوش ہیزل ووڈ نے 4 اوورز میں 50 رنز کھائے۔ 42 رنز جان ہیسٹنگز کو بھی پڑے لیکن انہوں نے دو وکٹیں ضرور لیں۔ ایک، ایک کھلاڑی کو مچل مارش اور پہلا ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے آشٹن ایگر نے بھی آؤٹ کیا۔

James-Faulkner

اب آسٹریلیا تھا اور 205 رنز کا ہدف، جو بظاہر تو پہاڑ جیسا دکھائی دیتا تھا، لیکن جب چھٹے اوور میں صرف 32 رنز پر تین وکٹیں گرگئیں تو ہدف مشکل ترین ہو گیا۔ جنوبی افریقہ حاوی دکھائی دیتا تھا، خاص طور پر کاگیسو رباڈا نے اسٹیون اسمتھ کو آؤٹ کرنے کے لیے جو کیچ لیا تھا وہ ناقابل یقین تھا۔ لیکن اس مقام یہاں آسٹریلیا کا وہ انوکھا فیصلہ کام آیا، جو اس نے ڈیوڈ وارنر کو اوپنر نہ بھیج کر کیا تھا۔ وارنر 'سیکنڈ ڈاؤن' پوزیشن پر کھیلنے آئے اور یہاں اپنے 'ہم مزاج' گلین میکس ویل کے ساتھ مل کر ریکارڈ شکن کارکردگی دکھائی۔ دونوں نے چوتھی وکٹ پر 161 رنز جوڑ ڈالے اور آسٹریلیا کو مقابلے میں غالب مقام پر پہنچا دیا۔ انہوں نے ابھی چند روز قبل ہی پاکستان کے شعیب ملک اور عمر اکمل کی متحدہ عرب امارات کے خلاف چوتھی وکٹ پر قائم کی گئی 114 رنز کی شراکت داری کا ریکارڈ توڑا۔

79 گیندوں پر مشتمل اس رفاقت میں دونوں تقریباً برابر ہی کا تھا۔ میکس ویل 43 گیندوں پر 75 رنز کی 'کایا پلٹ' اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے۔ محض دو گیندوں کے وقفے سے وارنر بھی آؤٹ ہوگئے، جب آسٹریلیا کو آخری اوور میں 11 رنز کی ضرورت تھی۔ اگر آخری لمحات میں یہ دونوں آؤٹ نہ ہوتے تو آسٹریلیا باآسانی میدان مارتا۔ بہرحال، وارنر نے 5 چھکوں اور 6 چوکوں کی مدد سے 40 گیندوں پر 77 رنز بنا کر اپنا حصہ اچھی طرح ادا کردیا۔

آخری پانچ گیندوں پر جب 11 رنز درکار تھے تو ہم پاکستانی شائقین کو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کاگیسو رباڈا 'اعزاز چیمہ' بن کر اس ہدف کا دفاع کرلیں گے لیکن مچل مارش اور جیمز فاکنر نے اپنے اعصاب پر قابو رکھا۔ گو کہ وہ کوئی چوکا تک نہ لگ سکے لیکن رباڈا کی دو وائیڈ گیندوں نے ان کے کام کو کافی آسان کیا۔ یہاں تک کہ آخری گیند پر درکار دو رنز مارش نے باآسانی بنا لیے اور یوں وینڈررز میں طویل ترین اہداف کے حصول کی روایت کو برقرار رکھا۔ یہ وہی مارش تھے کہ جو 19 ویں اوور کی آخری گیند پر کرس مورس کی غلطی کی وجہ سے رن آؤٹ ہونے سے بال بال بچ گئے تھے۔ ان کی یہ زندگی آخری اوور میں آسٹریلیا کے کام آئی۔

ابھی پچھلے سال یعنی 2015ء میں ہی یہاں ویسٹ انڈیز نے 232 رنز کا ہدف حاصل کیا تھا، یعنی جنوبی افریقہ کی باؤلنگ کے لیے وینڈررز ہرگز اچھا میدان نہیں۔ یہ شکست کسی دھچکے سے کم نہیں خاص طور پر مسلسل پانچ ٹی ٹوئنٹی فتوحات کے بعد اس بری طرح ہارنا جنوبی افریقہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ بالخصوص عمران طاہر کا 4 اوورز میں 47 رنز کھانا خاصا مایوس کن ہے۔ وہ بھارت میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے اہم ہتھیار ہوں گے اور ان کے حوصلے بلند رکھنا ضروری ہے۔ بہرحال، دن کے ناکام ترین گیندباز ڈیوڈ ویز رہے کہ جن کے 4 اوورز میں آسٹریلیا نے 58 رنز لوٹے۔ کاگیسو رباڈا نے باؤلنگ تو اچھی کی لیکن انہیں آخری اوور میں 11 رنز روکنے چاہیے تھے۔ جیسا کہ وہ بھارت کے خلاف مہندر سنگھ دھونی جیسے 'فنشر' کے آگے بند باندھ کر پہلے بھی کر چکے تھے۔

بہرحال، اب تمام تر انحصار 9 مارچ کو کیپ ٹاؤن میں تیسرے و آخری ٹی ٹوئنٹی پر ہے کہ جہاں کامیاب ہونے والی ٹیم بلند حوصلوں کے ساتھ بھارت روانہ ہوگی جہاں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا 'سپر 10' مرحلہ 15 مارچ سے شروع ہوگا۔

Facebook Comments