"نئی پیکنگ میں پرانا مال" ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے قومی دستے کا "دوبارہ" اعلان

ایشیا کپ میں شرمناک شکست کے بعد بدترین تنقید میں صرف شائقین اور سابق کھلاڑی ہی نہیں بلکہ خود پاکستان کرکٹ بورڈ اور اس کے سرپرست اعلیٰ وزیراعظم نواز شریف بھی شامل تھے بلکہ بورڈ تو اتنا ناراض دکھائی دیا کہ پانچ رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی کہ وہ شکست کے اسباب پر غور کرے۔ وہ تو جب ان پر غور کرے گی سو کرے گی، لیکن جب تک اس کی رپورٹ سامنے نہیں آتی تب تک ان کھلاڑیوں کی خیر نہیں دکھائی دیتی ھی کہ جو ایشیا کپ میں ناکام ہوئے۔ ان کی جگہ دوسرے کھلاڑیوں کو ملنا یقینی تھا لیکن 'میگا ایونٹ' کے لیے 99 فیصد وہی ٹیم بھیجی جا رہی ہے کہ جس نے ایشیا کپ میں اپنی "صلاحیتوں" کو منوایا ہے۔ واحد تبدیلی خرم منظور کی جگہ احمد شہزاد کی واپسی کے ذریعے ہوئی ہے۔ وہی احمد شہزاد کہ جنہیں خراب کارکردگی کے بعد ٹیم سے باہر نکالا گیا تھا۔ اب نجانے ان کے ہاتھ کون سی "گیدڑ سنگھی" لگی ہے کہ جس کی بدولت وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔ شاید اسی کو "ایک قدم آگے بڑھنا اور دو قدم پیچھے ہٹنا" کہتے ہیں۔

24 سالہ احمد شہزاد نے پاکستان کے لیے کل 40 ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلے ہیں جن میں وہ 24.76 کی اوسط سے 941 رنز بنا چکے ہیں۔ مختصر ترین طرز کی کرکٹ میں وہ پاکستان کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے سنچری اسکور کی ہے۔

ویسے و خرم منظور کی شمولیت پر چیف سلیکٹر ہارون رشید ویسے ہی نقید کی زد میں ھے، لیکن جب انہوں نے تین اننگز میں صرف 11 رنز بنائے تو گویا معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ بورڈ کے پاس اُن کو باہر کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔

خرم منظور کی ٹیم میں شمولیت کی مکمل ذمہ داری قبول کرے ہوئے ہارون رشید نے کہا کہ یقیناً سلیکشن کمیٹی سے غلطی ہوئی ہے۔ لیکن ہم نے خرم منظور کو صرف ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے کے سبب شامل کیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے ایسی ہی کوشش گزشتہ برس شعیب ملک کو ٹیم میں شامل کرکے کی تھی، لیکن اُس وقت ہمیں کامیابی نصیب ہوئی تھی، مگر بدقسمتی سے اِس بار ایسا نہیں ہوسکا۔

ایسا دوسری بار ہورہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے سلیکشن کمیٹی نے ٹیم تبدیل کی ہو۔ احمد شہزاد کو ٹیم میں شامل کرنے کے حوالے سے ہارون رشید کا کہنا تھا کہ یقیناً یہ فیصلہ بھی اُن کے لیے ہرگز آسان نہیں تھا کیونکہ پاکستان سپر لیگ کے علاوہ شہزاد اچھی فارم میں نہیں دکھائی دیے لیکن اتنے مختصر وقت میں شہزاد کے علاوہ کوئی کھلاڑی بھی موزوں نہیں دکھائی دے رہا۔ ان کے پاس وسیع تجربہ ہے۔

ahmed-shehzad

یاد رہے کہ احمد شہزاد نے پی ایس ایل میں 10 میں 290 رنز بنائے تھے، اور سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر رہے تھے۔

اب ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے دستے میں یہ تبدیلیاں ہو چکی ہیں، خرم منظور کی جگہ احمد شہزاد، رمان رئیس کی جگہ محمد سمیع اور بابر اعظم کی جگہ خالد لطیف۔

میگا ایونٹ میں قومی ٹیم اپنا پہلا میچ ایڈن گارڈنز، کلکتہ میں کھیلے گی جہاں پہلے راؤنڈ سے کوالیفائی کرنے والی ٹیم اس کے مقابل ہوگی، جو ممکنہ طور پر بنگلہ دیش ہو سکتی ہے۔ اِس کے علاوہ دوسرا اور اہم ترین میچ 19 مارچ کو روایتی حریف بھارت سے ہوگا۔

اب ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے پاکستان کا حتمی دستہ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے:

شاہد آفریدی (کپتان)، سرفراز احمد (وکٹ کیپر)، احمد شہزاد، شرجیل خان، محمد حفیظ، خالد لطیف، شعیب ملک، عمر اکمل، محمد نواز، عماد وسیم، محمد عامر، محمد سمیع، محمد عرفان، انور علی اور وہاب ریاض۔

Facebook Comments