وہ جو آخری ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلیں گے

آپ گھر پر ہیں یا دوستوں کی محفل میں، دفتر میں بیٹھے ہیں یا محو سفر ہیں، ہر طرف اب ایک ہی بات سب کے لبوں پر ہے، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی۔ سال 2016ء کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ میں کون اچھا کھیلے گا؟ کس کی کارکردگی بری ہوگی؟ کون فتوحات کے جھنڈے گاڑے گا اور کس کے نصیب میں شکست ہوگی؟ ایسے تجزیے تو آپ کو سب سے ہی سننے کو مل رہے ہوں گے۔ لیکن اس گہماگہمی کے دوران یہ بھی دیکھیں کہ کئی کھلاڑیوں کے لیے یہ آخری بین الاقوامی مہم ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ "لالا"!

شاہد آفریدی

CRICKET-NZL-PAK
شاہد آفریدی نے 2010ء میں ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کی اور پہلے ٹیسٹ میں ہی شکست کے ساتھ طویل طرز کی کرکٹ کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا۔ پھر وہ عالمی کپ 2015ء تک ایک روزہ کرکٹ کھیلتے رہے کہ جس کے دوران انہیں بورڈ اور کوچ سے الجھنے کا خمیازہ غیر علانیہ پابندی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ بہرحال، عالمی کپ 2015ء کے بعد سے اب تک وہ محض ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں اور کئی ماہ پہلے انہوں نے کہا تھا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ان کی آخری بین الاقوامی مہم ہوگی۔ اب جیسے جیسے ان کے کیریئر کا خاتمہ قریب آ رہا ہے، ان کا عزم بھی متزلزل ہو رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں کہہ چکے ہیں کہ اہل خانہ اور دوستوں کا بہت دباؤ ہے کہ ریٹائرمنٹ نہ لوں۔ ویسے نہ 36 سالہ آفریدی کی گزشتہ سال انگلستان اور پھر دورۂ نیوزی لینڈ اور اب ایشیا کپ میں ان کی کارکردگی کے بعد تمام تر انحصار ٹی ٹوئنٹی میں ان کی 'پرفارمنس' پر ہوگا۔ اگر وہ اچھی رہی تو ہو سکتا ہے کہ ریٹائرمنٹ واپس لینے کا فیصلہ ہضم بھی ہو جائے ورنہ یہ یقینی ہے کہ یہ "لالا" کا آخری بین الاقوامی ٹورنامنٹ ہوگا۔

مہندر سنگھ دھونی


یہ آج سے 9 سال پہلے کی بات ہے جب دھونی کی قیادت میں بھارت نے پہلا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اپنے نام کیا تھا۔ اُس وقت سے آج تک جتنے میں بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہوئے ہیں، ان میں بھارت کی قیادت کا منفرد اعزاز دھونی ہی کے پاس ہے۔ اس عرصے میں دنیا کے ہر کرکٹ کھیلنے والے ملک کی قیادت تبدیل ہوئی، بلکہ کئی کئی بار بدلی لیکن دھونی قائم و دائم رہے۔ اگر اندازوں کے مطابق بھارت اس مرتبہ بھی جیت گیا تو بھارت ٹی ٹوئنٹی کا عالمی اعزاز دوسری بار جیتنے والا پہلا ملک بن جائے گا۔ عین ممکن ہے کہ یہ کارنامہ ایک مرتبہ پھر انجام دیتے ہی دھونی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں۔ 34 سالہ دھونی نے گزشتہ سال دورۂ آسٹریلیا میں ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کی فارم اور فٹنس دونوں ہی انہیں مزید کرکٹ کھیلنے پر اکساتی ہوں گی لیکن عالمی کپ، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی، چیمپئنز ٹرافی، ٹی ٹوئنٹی میں عالمی نمبر ایک اور اب ایشیا کپ جیتنے کے بعد دھونی میں مزید کچھ حاصل کرنے کی خواہش نہیں رہی ہوگی۔ ایک مرتبہ پھر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنا 'سونے پہ سہاگہ' ہوگا اور ممکنہ طور پر دھونی کے کیریئر کا اختتام بھی۔

لاستھ مالنگا


منفرد باؤلنگ ایکشن رکھنے والے غیر معمولی باؤلر لاستھ مالنگا اس وقت ٹی ٹوئنٹی میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیندباز ہیں۔ ان کی زیر قیادت سری لنکا اس بار اپنے اعزاز کا دفاع کرے گا لیکن بارہا زخمی ہونے کے بعد واضح نظر آ رہا ہے کہ 'میگا ایونٹ' کے بعد مالنگا بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں گے۔ مالنگا نے 2011ء میں صرف 28 سالہ کی عمر میں ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا تھا تاکہ وہ محدود اوورز کے مقابلوں میں طویل عرصے تک ملک کی نمائندگی کر سکیں۔ حالیہ ایشیا کپ میں بھی وہ صرف ایک ہی مقابلہ کھیل پائے اور گھٹنے کی تکلیف کی وجہ سے باہر ہوگئے۔ اب وہ زیر علاج ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلیں گے۔ بہت زیادہ امکان ہے کہ اعزاز کے دفاع میں ناکامی پر دلبرداشتہ ہوکر مالنگا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ چھوڑ دیں لیکن اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو بھی یہ کرکٹ چھوڑنے کا بہترین موقع ہوگا۔

شین واٹسن


میدان میں مایوس کن کارکردگی اور مسلسل زخمی ہونےکی وجہ سے آسٹریلیا کی ٹیم سے باہر رہنے کے بعد شین واٹسن واپس آئے ہیں اور ناقدین کو خاموش کردیا ہے۔ وہ کتنی اچھی فارم میں ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان سپر لیگ کے بعد انڈین پریمیئر لیگ میں بھی سب سے مہنگے کھلاڑی کے طور پر منتخب ہوئے ہیں۔ لیکن یہ بات صاف ظاہر ہے کہ واٹسن کا بین الاقوامی کیریئر اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ گزشتہ سال ایشیز میں انگلستان کے ہاتھوں شکست کے بعد واٹسن نے ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہا۔ پھر ناقص کارکردگی کی وجہ سے محدود اوورز کی ٹیموں سے بھی نکال دیے گئے۔ البتہ بگ بیش لیگ میں شاندار کھیل کے بعد انہیں دوبارہ آزمانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایسا واضح محسوس ہو رہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کے بعد واٹسن بین الاقوامی کرکٹ سے مکمل طور پر علیحدہ ہو جائیں گے۔

تلکارتنے دلشان


مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا کے جانے کے بعد سری لنکا پر اب برا وقت چل رہا ہے، یہ مزید کتنا برا ہوگا، اس کے لیے اتنا بتا دینا ہی کافی ہے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد تلکارتنے دلشان بھی چھوڑ جائیں گے۔ وسیع تر تجربہ رکھنے والے دلشان ٹی ٹوئنٹی کے جانے مانے بلے بازوں میں سے ایک ہیں لیکن 39 سال کی عمر میں ان کے پاس رخصت کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء ان کا بھی آخری امتحان ہو۔

Facebook Comments