محمد عامر، عالمی پرواز کے لیے تیار

حالیہ بدترین کارکردگی کے باوجود پاک سرزمین اس لحاظ سے ہمیشہ خوش قسمت رہی ہے کہ یہاں ہر دور کے بہترین اور خطرناک گیندباز پیدا ہوتے رہے ہیں۔ شاید ہی کوئی دور ایسا گزرا ہو جب اس سلسلے میں پاکستان کو قلت کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ہمیشہ چندایسے تیزگیندباز پاکستان کے پاس رہے ہیں جن سے نہ صرف پوری دنیا کے بلے باز گھبراتےتھے بلکہ ان کی تعریف کیے بنابھی نہ رہ سکتے تھے۔

طویل عرصے تک پاکستان کی باؤلنگ کو 'دو ڈبلیوز' یعنی وسیم اکرم اور وقار یونس نے کاندھوں پر اٹھائے رکھا۔ کسی بھی سرزمین پر اور کسی کے بھی خلاف ان دونوں کی جوڑی ہمیشہ حریفوں کے لیے خطرے کی علامت تھی۔ پھر تاریخ کے تیز ترین گیندباز شعیب اختر کا دور آیا۔ جدید کرکٹ کے عظیم ترین بلے باز سچن تنڈولکر سے لے کر آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ تک سب کو مشکلات سے دوچار کرنے والے شعیب کا المیہ یہ تھا کہ وہ جتنے تیز تھے، اتنے ہی بے پروا بھی۔ اگر وہ اپنا خیال رکھتے، فٹ رہتے، ایک منظم اور ذمہ دار کھلاڑی بنتے تو شاید بہت سے گیندبازوں کو پیچھے چھوڑ دیتے۔ وہ ہوا کی طرح آئے اور جھونکے کی طرح چلے گئے۔

بہرحال، یکے بعد دیگرے یہ تینوں گیندباز دنیائے کرکٹ سے رخصت ہوا اور پاکستان کے سامنے ایک بہت بڑا سوال کھڑا ہو گیا کہ اتنے بڑے خلا کوکون پر کرے گا۔ پھر محمدعامر اور محمد آصف کی صورت میں پاکستان کو دو ایسے 'جادوگر' نصیب ہوئے کہ جنہوں نے ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کے بلے بازوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجائی۔ محمد آصف کی گھومتی، جھومتی، لہراتی گیندیں دنیا کے بہترین بلے بازوں کے لیے درد سر بنیں تو وہیں نو عمر محمد عامر کی برق رفتار اور وکٹوں کو نشانہ بناتی گیندوں نے انہیں خوفزدہ کیے رکھا۔پھر اگست 2010ءکا وہ بدترین دن آیا جب یہ دونوں لالچ و ہوس کے گہرے گڑھے میں جا گرے۔زور بازو سے کمائی گئی عزت کو اپنے ہاتھوں سے لٹا کر دونوں نہ صرف دنیا کے سامنے تماشا بنے بلکہ پاکستان کی بھی بدنامی کا باعث بنے۔ اسپاٹ فکسنگ نے دونوں کو پانچ، پانچ سال کےلیے کھیل کے میدانوں سے باہر کردیا۔ دونوں کے کیریئر پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگ گیا۔ آصف اپنی بارہا نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے نظروں سے گرگئے لیکن سب کی ہمدردیاں محمد عامر کے ساتھ تھیں۔

ان دونوں گیندبازوں پر پابندی کا پاکستان کو بہت نقصان پہنچا۔ پاکستان کی کارکردگی دن بدن گرتی چلی گئی ۔ ٹیسٹ میں سنبھلنے کے باوجود پاکستان آج تک محدود اوورز کی کرکٹ میں اس مقام تک نہیں پہنچ پایا کہ جہاں وہ 2009ء میں تھا۔

پانچ سال کی پابندی کے دوران محمد آصف نے تو شاید ہمت ہار دی تھی اور ان کی طرف سے کوئی خاص محنت اور توجہ دکھائی نہیں دی لیکن محمد عامر نے پابندی لگنے کے بعد سے ہی فیصلہ کرلیا کہ انہوں نے اس کی تلافی کرنی ہے۔ عام طور پر یہی خیال کیا جا رہا تھا کہ پانچ سال تک پابندی کی وجہ سے محمد عامر کی صلاحیتوں کو زنگ لگ جائے گا اور ان کے لیے ویسی پرانی کارکردگی دہرانا ممکن نہ ہوگا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی نظر کرم کی وجہ سے بین الاقوامی کرکٹ میں آتے ہی انہوں نے تمام اندازوں کو غلط ثابت کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسد شفیق کی سنچری رائیگاں؛ برسبین ٹیسٹ آسٹریلیا کے نام

عامر کی بڑی خوش قسمتی یہ تھی کہ انہوں نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی صرف 18 سال کی عمر میں کی تھی۔ جب سزا بھگت لی تب بھی ان کی عمرمحض 23 سال ہی تھی جس میں عام طور پر کرکٹرز اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی طاقت اور صلاحیت میں کمی کے بجائے اضافہ ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پابندی اٹھنے کےبعد سب سے پہلے دنیا کی نظریں محمد عامر پر اس وقت پڑیں جب وہ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کھیلنے گئے۔ جہاں انہوں نے اپنی کارکردگی سے سب کو چونکا دیا۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان سپر لیگ کے لیے جیسے ہی کھلاڑیوں کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو سب کی خواہش تھی کہ محمد عامر ان کی جانب سے کھیلیں۔ لیگ کی سب سے مہنگی ٹیم کراچی کنگز نے عامر کو منتخب کیا، وہ ٹورنامنٹ تو جیت نہ سکے لیکن پی ایس ایل میں محمد عامر کی باؤلنگ بلاشبہ بہترین تھی۔

یہی وجہ تھی کہ ایشیا کپ کے پاک-بھارت ٹاکرے سے پہلے ہی بھارت کے بہترین بلے باز ویراٹ کوہلی نے عامر کو خطرناک قرار دے دیا تھا۔ شاید انہیں خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ عامر کتنے خطرناک ہیں، جب وہ ان کی گیندوں کا سامنا کرنے کے لیے اترے تو معلوم ہوا کہ ان کا سامنا کس سے ہے۔ عامر نے بھارت کے خلاف پہلے دو اوورز میں ہی پاکستان کی جیت کے امکانات پیدا کر دیے تھے۔ اگر بلے باز کچھ ساتھ دے دیتے اور صرف 83 پر ڈھیر نہ ہوتے اور پھر قسمت بھی کچھ ساتھ دیتی تو شاید مقابلے کا نتیجہ کچھ اور ہوتا۔ بہرحال، اس پاک-بھارت مقابلے سے یہ اعلان تو ہوگیا کہ "محمد عامر واپس آ چکے ہیں!"

پاکستان کیا، بھارت میں بھی، تبصرہ کار بھارت کی جیت جتنی ہی اہمیت محمد عامر کے باؤلنگ اسپیل کو دے رہے تھے۔ جن دلوں میں اب بھی رنجش باقی تھی، وہ بھی صاف ہوگئے اور بلامبالغہ اب عام رویہ یہی ہے کہ محمد عامر کے ماضی کو بھلا کر ان کی صلاحیت کی عزت و قدر کی جانی چاہیے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ محمد عامر پانچ سال تک کسی بھی سطح کی کرکٹ کھیلنے سے دور رہے ہیں، اس کے باوجود وہ اتنے موثر دکھائی دے رہے ہیں۔ جبکہ اس وقت دنیا کے بہترین تیز گیندباز ڈیل اسٹین چند ماہ زخمی ہونے کی وجہ سے باہر ہوئے اور واپس آنے پر ان میں وہ دم خم نہیں دکھائی دیتا۔ مچل اسٹارک بھی نوجوان ہیں، ان کے ساتھ بھی کچھ ایسے ہی مسائل دکھائی دے رہے ہیں لیکن عامر؟ شاید یہی ان کی سب سے بڑی خاصیت ہے۔

پاکستان کے 'سوئنگ سلطان' وسیم اکرم کا بھی کہنا ہے کہ پابندی عامر کے لیے "رحمت" ثابت ہوئی کہ وہ ایک بہتر، متوازن اور زیادہ خطرناک باؤلر کی حیثیت سے واپس آئے ہیں۔

گو کہ پاکستان کی حالیہ کارکردگی کچھ ایسی خاص نہیں لیکن اگر آئندہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی کامیابی کا ایک فیصد امکان بھی موجود ہے، تو وہ محمد عامر کی وجہ سے ہوگا۔ اگر ایسا نہ بھی ہوا تو اب 23 سالہ عامر کو بین الاقوامی سطح پر طوفان اٹھانے سے کوئی نہیں روک سکتا، وہ "تندیِ بادیِ مخالف" سے نہ گھبرائے، جو درحقیقت انہیں "اونچا اڑانے کے لیے" چلی تھی!

Facebook Comments