صرف 10 دن رہ گئے لیکن 'مہا مقابلہ' اب بھی یقینی نہیں

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء کہاں کھیلا جائے گا؟ اس کا اعلان چند سال پہلے ہی ہوگیا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ اس بات کو بھی سال بھر ہو چکا ہوگا کہ کون سی ٹیم کب اور کہاں کس سے کھیلے گی؟ ان پیشگی اطلاعات کے باوجود ابھی تک 19 مارچ کو دھرم شالا میں طے شدہ پاک-بھارت ٹاکرے پر بے یقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ ویربھادر سنگھ کے چند روز قبل آنے والے بیان نے پاک-بھارت 'مہا مقابلے' کا سارا مزا کرکرا کردیا ہے کہ جو کہتے ہیں کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو سیکورٹی فراہم نہیں کر سکتے اور یہ مقابلہ کسی دوسرے میدان پر کروایاجائے۔

بس یہ "بیان" آنے کی دیر تھی کہ تمام تر باہمی اعتمادکا خاتمہ ہوگیا، جو ویسے ہی سوئی کی نوک پر کھڑا تھا۔ چہ میگوئیاں اس وقت بلند آواز میں بدل چکی ہیں کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا یہ اہم ترین مقابلہ دھرم شالا کے پرفضا مقام پر ہو بھی سکے گا یا نہیں۔اور اگر نہیں ہوگا تو میزبان کون ہوگا۔ حکومت پاکستان کا ردعمل تو خیر بعد میں آیا سب سے پہلے تو خود بھارتی کرکٹ بورڈ چیخ پڑا کہ جس کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ مقام کا اعلان ایک سال پہلے ہوچکا ہے، عین موقع پر غیر ذمہ دارانہ بیان دینا صرف سیاست چمکانا ہے۔ یہ ملک کی عزت کا سوال ہے اور اِس موقع پر سیاست سے پرہیز کیا جائے۔

پاکستان پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ سیکورٹی کے انتظامات غیر معمولی نہ ہوئے اور کھلاڑیوں کو معمولی سا خطرہ بھی ہوا تو اس کے لیے کھیلنا مشکل ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے سیکورٹی وفد بھی بھارت بھیجا ہے جس نے گزشتہ روز انتظامات کا جائزہ لیا ہے اور اب اپنی رپورٹ آج حکومت کے روبرو پیش کرے گا۔ اس رپورٹ کی روشنی میں جلد فیصلے کا امکان ہے کہ پاکستان بھارت جائے گا یا نہیں۔

جب پاکستانی وفد دھرم شالا کے اس میدان پر پہنچا کہ جہاں یہ اہم مقابلہ کھیلا جانا ہے، تو اس کے باہر ہی ایک احتجاجی مظاہرہ جاری تھا کہ جس میں پاک-بھارت مقابلے کی منسوخی کا مطالبہ کیا گیا اور یہ احتجاج آج بھی جاری ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں حالات کیسے ہیں۔ ایک طرف مظاہرے اور دوسری طرف انتظامیہ کا تعاون نہ کرنے کا واضح اعلان پاکستان کے کھلاڑیوں کے لیے بہت بڑا خطرہ ہو سکتا ہے۔ لیکن تمام تر حالات کے باوجود بین الاقوامی کرکٹ کونسل بضد ہے کہ روایتی حریفوں کا مقابلہ شیڈول کے مطابق ہی ہو۔ آئی سی سی کے چیف آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ تمام انتظامات ایک سال پہلے ہی طے ہوچکے تھے، اور اب جو حالات تبدیل ہوئے ہیں، اُن میں بھارتی بورڈ کا قصور ہے اور نہ آئی سی سی کا، لیکن یہ بات طے ہے کہ پاک-بھارت میچ 19 مارچ کو دھرم شالا میں ہی کھیلا جائے گا۔

رچرڈسن نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ آئی سی اِس وقت بھارت اور پاکستانی بورڈ سے رابطے میں ہے، اور مسئلے کو حل کرنے کی مکمل کوشش کی جارہی ہے۔ "ہماری کوشش ہے کہ حالات کو اِس قدر سازگار بنادیا جائے کہ یہ مقابلہ اچھے ماحول میں بخیر و عافیت ہوجائے۔"

اس سوال پر کہ اگر پاکستان سیکورٹی پر عدم اطمینان کا اظہار کرے اور کھیلنے سے انکار کردے تو ان پر کیا جرمانہ ہوگا؟ تو رچرڈسن کا کہنا تھا کہ ایسا موقع ہی نہیں آئے گا کیونکہ انہیں پوری امید ہے کہ پاکستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلنے کے لیے بھارت ضرور آئے گا۔

Facebook Comments