راشد لطیف افغانستان کے کوچ کے عہدے سے مستعفی

پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف نے افغانستان کرکٹ ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے استعفی دے دیا۔ افغانستان کرکٹ بورڈ نے ان کا استعفی قبول کر لیا ہے۔

راشد لطیف پاکستان 'اے' کے خلاف افغانستان کی کارکردگی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

راشد لطیف نے معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو ڈاٹ کام کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ "میں پاکستان اے کے خلاف سیریز میں شکست کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور اس لیے اپنے عہدے سے استعفے دے رہا ہوں، میں اپنی ذاتی ذمہ داریوں کے باعث اس سلسلے کو مزید جاری نہیں رکھ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے افغانستان کے ساتھ گزارے گئے اپنے دور کا خوب لطف اٹھایا اور ان کھلاڑیوں اور افغان ثقافت کے حوالے سے بہت کچھ سیکھا۔

راشد لطیف نے گزشتہ سال جولائی میں بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے افغانستان ٹیم میں شمولیت اختیار کی اور اگست میں کبیر خان کے کوچ کا عہدہ چھوڑنے کے بعد افغان کوچ کی ذمہ داری سنبھالی۔ ان کی زیر نگرانی افغانستان نے ایشین گیمز کے سیمی فائنل میں پاکستان کو شکست دی لیکن فائنل میں بنگلہ دیش سے شکست کھا گئی۔ انہوں نے آئی سی سی انٹرکانٹی نینٹل کپ میں اسکاٹ لینڈ اور 2011ء کے عالمی کپ کے لیے وارم اپ میچ میں کینیڈا کو بھی زیر کیا۔

تاہم گزشتہ ماہ پاکستان 'اے' کے خلاف تین ایک روزہ میچز کی سیریز میں انہیں بری طرح سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

راشد لطیف کا افغانستان کے ساتھ معاہدہ 20 جولائی تک کا ہے اور سمجھا جا رہا ہے کہ کھلاڑی ایک مرتبہ پھر کبیر خان کو واپس لانا چاہتے ہیں اور راشد لطیف نے اسی لیے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کی پوزیشن خراب کرنے کے لیے کھلاڑیوں نے پاکستان 'اے' کے خلاف ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کبیر خان اس وقت متحدہ عرب امارات سے منسلک ہیں۔

افغانستان اب اگست میں کینیڈا کے خلاف انٹر کانٹی نینٹل کپ کے دو میچز کھیلے گا جو کینیڈا ہی میں کھیلے جائیں گے۔

Article Tags

Facebook Comments