پاک-بھارت مقابلہ کلکتہ منتقل کردیا گیا

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء کا پہلا مرحلہ شروع ہوچکا لیکن سب سے بڑے میچ یعنی پاک-بھارت مقابلے پر شک کے بادل ابھی تک چھائے ہوئے تھے۔ یہ مقابلہ دھرم شالا میں ہو پائے گا یا کہیں اور کھیلا جائے گا، اس حوالے سے تذبذب کی جو کیفیت تھی وہ بالآخر ختم ہوا۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن نے اعلان کردیا ہے کہ کھلاڑیوں کی حفاظت کے پیش نظر پاک-بھارت مقابلہ دھرم شالا کے بجائے کلکتہ منتقل کردیا گیا ہے جہاں کا میدان ایڈن گارڈنز 19 مارچ کو دونوں روایتی حریفوں کی میزبانی کرے گا۔

بھارت میں انتہا پسندوں کی جانب سے شدید مخالفت اور پھر ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ ویر بھادر سنگھ کی جانب سے پاکستان کے کھلاڑیوں کو حفاظت فراہم نہ کرنے کے اعلان کے بعد خدشات بہت زیادہ بڑھ گئے تھے یہاں تک کہ حکومت پاکستان نے ایک وفد بھارت بھیجا کہ وہ دھرم شالا میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے اور حالات کا خود مشاہدہ کرے۔ وطن واپسی پر وفد نے دھرم شالا کو پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے غیر محفوظ قرار دیا اور حکومت کو تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ حکومت اور بورڈ نے اس رپورٹ کی روشنی میں مضبوط موقف اپنایا اور بھارت سے حکومتی سطح پر حفاظت کی یقین دہانی طلب کی یا پھر میچ کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔

بہرحال، اب پاکستان کے کھلاڑیوں کا طویل انتظار ختم ہوا جو بدھ کو بھارت روانہ نہیں ہو سکے تھے۔ اب جلد از جلد دونوں ٹیمیں پڑوسی ملک کے لیے پرواز کریں گی جہاں پاکستان کا پہلا مقابلہ 16 مارچ کو کلکتہ میں ہی کوالیفائنگ راؤنڈ سے آنے والی ٹیم سے ہوگا۔

Eden-Gardens-Kolkata

Facebook Comments