عمان کی تہلکہ خیز آمد، سنسنی خیز مقابلہ اور آئرلینڈ کو شکست

عمان نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء میں اپنے پہلے ہی مقابلے میں نسبتاً تجربہ کار آئرلینڈ کو شکست دے کر تہلکہ مچا دیا ہے۔ ایک انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد عمان نے آخری اوور میں 155 رنز کا ہدف اس وقت حاصل کیا جب اس کی محض دو وکٹیں باقی بچی تھیں۔ آئرلینڈ کے لیے یہ شکست کسی سانحے سے کم نہیں ہے کیونکہ اس کے اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کرنے کے امکانات کو سخت ٹھیس پہنچی ہے جبکہ عمان کے لیے یہ ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔

دھرم شالا میں ہونے والے کوالیفائنگ مرحلے کے چوتھے مقابلے میں آئرلینڈ نے ٹاس جیتا اور پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ ساتویں اوور تک 48 رنز کی افتتاحی شراکت داری ہوچکی تھی جسے ذیشان مقصود کے ایک ناقابل یقین کیچ نے ختم کیا۔ عامر کلیم کی گیند پر پال اسٹرلنگ کا ایک تیز شاٹ کورز میں موجود ذیشان کے قریب سے گزرا اور انہوں نے ہوا میں جست لگاتے ہوئے ایک ایسا کیچ لیا جو لگتا ہے کہ ٹورنامنٹ کا بہترین کیچ بنے گا۔ بہرحال، اس کیچ کے باوجود آئرلینڈ کے حوصلے پست نہ ہوئے بلکہ کپتان ولیم پورٹرفیلڈ اور گیری ولسن بارہویں اوور میں ہی مجموعے کو 84 تک لے آئے۔ عمان نے پورٹرفیلڈ کو آؤٹ کرکے رنز کو کچھ دھیما کیا لیکن 15 اوورز میں صرف دو وکٹوں پر 112 رنز بنا لینے کے بعد آئرلینڈ ایک بڑا مجموعہ حاصل کرنے کے لیے تیار تھا۔ آخری پانچ اوورز میں 42 رنز بنا کر اس نے کافی حد تک اس میں کامیابی بھی حاصل کی لیکن خود آئرش کھلاڑیوں کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ رنز ناکافی ہیں۔ شاید انہیں یہ اطمینان ہو کہ ابھی کچھ دیر پہلے اسی میدان پر نیدرلینڈز لگ بھگ اتنے ہی ہدف کے تعاقب میں ناکام ہوگیا تھا۔

بہرحال، عمان نے ہدف کے تعاقب میں بہترین آغاز لیا۔ خاور علی اور ذیشان مقصود نے نویں اوور تک انہیں بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 69 رنز تک پہنچا دیا۔ اگر آنے والے بلے باز بھی اسی تسلسل کو جاری رکھتے تو کامیابی باآسانی عمان کو ملتی لیکن اس کے بعد وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا جو عمان کی پیش قدمی کو سخت مشکل میں ڈال گیا۔ پہلے خاور علی کی 34 رنز کی اننگز تمام ہوئی۔ پھر ذیشان مقصود 38 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ یہاں تک کہ 14 اوورز مکمل ہونے تک عدنان الیاس، مہران خان اور عامر کلیم بھی آؤٹ ہو چکے تھے یعنی پورا مڈل آرڈر آئرلینڈ کے گیندبازوں کے رحم و کرم پر آ گیا۔ صرف 90 رنز پر 5 کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے بعد عمان کو آخری پانچ اوورز میں 65 رنز کی ضرورت تھی جس کو حاصل کرنے کے لیے کسی ایک بلے باز کی جانب سے غیر معمولی اننگز کی ضرورت تھی۔ یہ اننگز دکھائی 'مرد میدان' عامر علی نے۔ انہوں نے صرف 17 گیندوں پر ایک چھکے اور 5 چوکوں کی مدد سے 32 رنز بنائے اور آخری اوور میں جا کر اس وقت آؤٹ ہوئے جب عمان ہدف سے صرف تین رنز کے فاصلے پر تھا۔ عمان کو آخری اوور میں 14 رنز کی ضرورت تھی جب گیند میکس سورنسن کو تھمائی گئی جو شاید سخت دباؤ برداشت نہ کر سکے اور پہلی ہی گیند نو-بال پھینک دی جس پر چوکا بھی پڑا۔ گو کہ فری ہٹ پر زیادہ نقصان نہیں ہوا، جو وکٹوں میں ضرور گھسی اور بائے کے ایک رن پر مکمل ہوئی۔ اگلی گیند پر میکس نے تھرڈمین کی جانب چوکا کھایا اور معاملہ تین گیندوں پر تین رنز تک آ گیا۔ اگر اس جگہ پر عامر وکٹوں کے پیچھے کیچ نہ دے جاتے تو عمان باآسانی جیت جاتا لیکن 'ایک ڈرامائی موڑ' ضرور آیا۔ عامر آؤٹ ہوئے اور اب دو گیندوں پر تین رنز کی ضرورت تھی۔ آنے والی گیند نے نہ صرف بلے باز بلکہ وکٹ کیپر کو بھی غچہ دے دیا اور بائے کے چار رنز کے لیے روانہ ہوگئی۔ یعنی آئرلینڈ اعصاب پر قابو نہ رکھ سکا اور عمان جیت گیا۔

جس طرح بنگلہ دیش نے آخری اوور میں نیدرلینڈز کے خطرے پر قابو پایا تھا، آئرلینڈ اس طرح نہ کرسکا۔ اسے میکس سورنسن کی بدقسمتی کہیں یا عمان کی خوش قسمتی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ عمان کی یادگار فتح تاریخ میں درج ہوچکی ہے۔ اس کامیابی کے بعد میدان میں زبردست جشن منایا گیا اور واقعی عمانی کھلاڑی اس کے حقدار بھی تھے۔

عمان اب اپنا اگلا مقابلہ 11 مارچ کو نیدرلینڈز سے کھیلے گا جبکہ آئرلینڈ کو اسی روز مشکل حریف بنگلہ دیش کا سامنا کرنا ہے۔

Facebook Comments