بھارتی بورڈ کے لیے نئی پریشانی، کلکتہ بھی دھمکیوں کی زد میں

بھارت کے شدت پسندوں نے اپنے ہی ملک کے کرکٹ بورڈ کے لیے مسائل کھڑے کردیے ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی میزبانی کرنے والے بھارت کو پہلے دھرم شالا میں مصیبت کا سامنا کرنا پڑا، اور اب کلکتہ میں مصیبت بھگت رہا ہے۔ اینٹی ٹیررسٹ فرنٹ آف انڈیا نامی ایک شدت پسند تنظیم نے دھمکی دی ہے کہ وہ ایڈن گارڈنز، کلکتہ کی پچ بھی کھود ڈالے گا کہ جہاں 19 مارچ کو ہونے والا پاک-بھارت مقابلہ منتقل کیا گیا ہے۔

دونوں روایتی حریفوں کا اہم مقابلہ پرفضا مقام دھرم شالا میں کھیلا جانا تھا لیکن شدت پسندوں کی جانب سے سخت مخالفت اور صوبائی انتظامیہ کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں کو حفاظت فراہم نہ کرنے کے اعلان کے بعد اسے گزشتہ روز کلکتہ منتقل کیا گیا تھا۔ جن غنڈوں نے دھرم شالا کی پچ کھودنے کی دھمکی دی تھی ان میں یہی نام نہاد اینٹی ٹیررسٹ فرنٹ بھی شامل تھا کہ جس کے صدر وریش شانڈیلیا کہتے ہیں کہ ہم کلکتہ کی پچ بھی کھود ڈالیں گے۔ مطالبہ کرتے ہیں کہ جب تک ممبئی، پٹھان کوٹ اور دیگر حملوں کے ماسٹر مائنڈ افراد بھارت کے حوالے نہیں کیے جاتے، تب تک پاکستان کے ساتھ کوئی میچ نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈے سمیت کلکتہ کے مختلف مقامات پر مظاہرے بھی کریں گے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان کو ایسی دھمکیوں کا سابقہ ہے حالانکہ بھارت کے کھلاڑیوں کو کبھی پاکستان میں ایسی بے وقوفانہ حرکات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ 1999ء میں بھی جب پاکستان 12 سال کے طویل عرصے کے بعد بھارت کے دورے پر پہنچا تھا تو شیوسینا کے غنڈوں نے پہلے ٹیسٹ کے میزبان دہلی کے فیروز شاہ کوٹلا اسٹیڈیم کی پچ کھود ڈالی تھی۔ میچ کو بعد ازاں چنئی منتقل کردیا گیا جہاں ایک یادگار ٹیسٹ کھیلا گیا۔

feroz-shah-kotla-stadium-1999

Facebook Comments