ورلڈ ٹی ٹوئنٹی، کوچ، کپتان اور کھلاڑیوں کے لیے ’آخری موقع‘

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس نے واضح طور پر کہا ہے کہ مسلسل خراب کارکردگی کے بعد اب ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اُن کے لیے، کپتان شاہد آفریدی کے لیے اور پوری ٹیم کے لیے آخری موقع ہے کہ وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے روٹھی ہی قوم کو مناسکیں۔

'میگا ایونٹ' کے لیے روانگی سے قبل ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ اگر خدانخواستہ پاکستان کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کی اجازت نہ ملتی تو ہم تنہائی کا شکار ہوسکتے تھے، اور کھلاڑیوں میں جیت کی لگن ماند پڑجاتی۔وقار یونس نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ایک، ایک کھلاڑی کے لیے بڑا چیلنج ہے، کیونکہ گزشتہ 6 ماہ سے ٹیم بالکل بھی اچھا کھیل پیش نہیں کررہی جس کی بہت زیادہ تکلیف ہے۔ اِس لیے بڑے موقع پر بڑی کارکردگی ماضی میں کی گئیں غلطیوں کا ازالہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چیلنج کو قبول کرتے ہوئے وہ کبھی نہیں گھبرائے، لیکن اِس بار محسوس ہورہا ہے کہ مقصد کے حصول میں شاید وہ کامیاب نہیں ہوسکے، اِسی لیے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ میگا ایونٹ صرف اُن کے لیے نہیں، بلکہ کپتان شاہد آفریدی اور پوری ٹیم کے لیے ایک آخری موقع ہے کہ ناراض قوم کو خوشی فراہم کرسکیں۔

کوچ جو سابق کپتان بھی رہے ہیں، نے کہا کہ "ہمیں اب بھی یاد ہے کہ ورلڈ کپ 2015ء میں قومی ٹیم اچھا کھیل پیش نہیں کرسکی تھی، لیکن اِس بار یہ ضرور ہے کہ مقابلے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے ہیں، جن میں کھلاڑی نسبتاً بہتر ہیں، پھر مقابلے بھی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے بجائے بھارت میں ہورہے ہیں جہاں کی وکٹیں اور ماحول کھلاڑیوں کے لیے انجانے نہیں ہیں۔ اِس لیے ہم یہ اُمید ضرور کرتے ہیں کہ اِس بار صورتحال ورلڈ کپ جیسی نہیں ہوگی۔

ایشیا کپ میں بنگلہ دیش کی وکٹوں کے بارے میں سوال پر وقار یونس نے کہا کہ گو کہ ایشیا کپ کی وکٹیں بہت مختلف تھیں اور امید ہےکہ بھارت میں ایسی وکٹیں نہیں ہوں گی۔ انہوں نے ایشیا کپ میں شکس کی وجہ بلے بازوںکو قرار دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اس حوالے سے کچھ راحت میسر آئے گی کیونکہ ان کے خیال میں 20 اوورز کے کھیل میں ایک، دو بلے باز بھی چل جائیں تو اچھا مجموعہ اکٹھا کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ کوچ نے اشارہ دیا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں قومی ٹیم احمد شہزاد اور خالد لطیف کے ساتھ میدان میں اترسکتی ہے، اور ان سے اُمیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں کہ وہ کچھ بہتر کھیل کا مظاہرہ کریں گے۔ لیکن مثبت باتوں کے درمیان انہوں نے یہ بات بھی کردی کہ غیر یقینی صورتحال کے سبب ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے قومی ٹیم کی تیاری اُس معیار کی نہیں ہیں، جو کسی بڑے ایونٹ کے لیے ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی کہا کہ " اِس کے باوجود ہم کوشش کریں گے کہ ابتدائی میچوں میں فتح سمیٹ کر حوصلوں کو بلند کرنے میں کامیاب ہوجائیں"۔

بھارت میں حالات اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ان کے اثرات کے بارے میں وقار یونس نے کہا کہ 1996ء اور 1999ء میں حالات آج سے کہیں زیادہ خراب تھے، لیکن اُن خراب حالات میں بھی قومی ٹیم نے فتوحات سمیٹی تھیں، لہٰذا ضرورت اِس امر کی ہے کہ کھلاڑی تمام پہلوؤں کو بھلا کر صرف کرکٹ پر توجہ رکھیں< اگر ایسا کرلیا گیا تو قومی ٹیم اچھے نتائج دے سکتی ہے۔ waqar-younis-shahid-afridi

کپتان شاہد آفریدی کے ساتھ اپنے مبینہ اختلافات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے وقار یونس نے کہا کہ ایسی خبریں سراسر جھوٹ اور غلط بیانی پر مبنی ہیں۔ ہمارے درمیان ایسا کچھ نہیں ہے، ہاں! جب پے درپے شکست کا سامنا ہو تو بعض اوقات حالات ایسے ہوجاتے ہیں، لیکن لڑائی یا اختلاف جیسا کچھ نہیں ہے۔ اِس موقع پر کوچ نے کہا کہ تمام پاکستانی اِس نازک موقع پر منفی باتوں کو بالائے طاق میں رکھتے ہوئے مثبت باتوں کا پرچار کریں۔ ٹیم کو اس وقت قوم کی حمایت کی اشد ضرورت ہے۔

19 مارچ کو میگا ایونٹ کے میگا میچ کے حوالے سے جب یہ پوچھا گیا کہ کلکتہ کے میدان میں پاکستان کا ریکارڈ بہت اچھا ہے جہاں قومی ٹیم کو چاروں ایک روزہ میچ میں بھارت کے خلاف فتح نصیب ہوئی ہے، وقار یونس کا کہنا تھا کہ میچ والے دن ماضی کے اعداد و شمار سے زیادہ یہ بات اہم ہوتی ہے کہ ہے اُس دن ٹیم کیسا کھیلتی ہے۔ ایڈن گارڈنز میں یہ دونوں ٹیموں کا پہلا ٹی ٹوئنٹی ہوگا، اِس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کس کو برتری حاصل ہے۔ لیکن یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ بھارت کی ٹیم زیادہ مضبوط ہے اور اُس کو قابو کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments