آفریدی-پی سی بی تنازع 'خوش اسلوبی' سے طے پانے کے قریب

گزشتہ ماہ دورۂ ویسٹ انڈیز کے بعد سابق کپتان شاہد آفریدی اور پی سی بی کے درمیان شروع ہونے والا تنازعہ 'خوش اسلوبی' سے اختتام پذیر ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ حالیہ تنازع میں سیاسی مداخلت کے بعد امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ اب اس کا نتیجہ بھی 'سیاسی' انداز ہی سے نکلے گا اور حقیقت بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں رہی۔ شاہد خان آفریدی کی جانب سے بورڈ کے چیئرمین کے خلاف براہ راست اعتراضات کرنے اور چیئرمین بورڈ کا آفریدی کی ریٹائرمنٹ پر ' سانوں کی! ' والے رویہ کے بعد حیرت انگیز طور پر دونوں کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات کے بعد معاملات طے پا جانا 'کچھ لو اور کچھ دو' والا معاملہ محسوس ہورہا ہے۔

شاہد آفریدی اور اعجاز بٹ (فائل فوٹو)

سابق کپتان کی چیئرمین کرکٹ بورڈ سے ہونے والی اہم ملاقات کے بعد دونوں فریقین تمام معاملات کو عدالت سے باہر طے کرنے پر رضامند نظر آتے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد قومی امکان ہے کہ شاہد آفریدی سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست واپس لے لیں گے جس کے عوض انہیں بیرون ملک ہمشائر کاؤنٹی کی نمائندگی اور سری لنکن لیگ و دیگر ٹورنامنٹس میں شرکت کا اجازت نامہ جاری کردیا جائے گا۔ بعض ذرائع کے مطابق شاہد آفریدی کے انضباطی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے پر بھی رضامندی ظاہر کردی ہے جو چند 'ضروری' کاروائیوں کے بعد آفریدی پر جرمانہ عائد کرتے ہوئے انہیں این او سی جاری کرے گی۔

اس معاملے کا ایک 'سیاسی' پہلو ملاقات کے دوران صدر آصف علی زرداری کے قریبی رفقاء کی موجودگی بھی۔ نیز پی سی بی کی جانب سے ملاقات کے بارے میں تفصیلات سے آگاہی فراہم کرنے سے گریز اور شاہد آفریدی کے وکلا کی اپنے موکل کی اس ملاقات کے بارے میں لاعلمی کا اظہار بھی بہت سے سوالات جنم دے رہا ہے۔

شاہد آفریدی کے اس غیر معمولی لچک دار رویے کی بڑی وجہ ہمپشائر کاؤنٹی کی جانب سے ان کا متبادل تلاش کیے جانے کی خبریں ہوسکتی ہیں۔ شاہد آفریدی کی این او سی منسوخ کیے جانے کے بعد ہمپشائر کاؤنٹی نے شاہد آفریدی کی جگہ ویسٹ انڈین بلے باز کرس گیل سے رابطوں کا عندیہ دیا تھا۔

یاد رہے کہ پی سی بی نے آفریدی کے خلاف انضباطی کاروائی کرتے ہوئے دورہ آئرلینڈ کے لیے شاہد آفریدی کی جگہ مصباح الحق کو کپتان بنادیا تھا جس پر شاہد آفریدی نے اولاً عدم دستیابی کا اور بعد ازاں بورڈ کے رویے پر احتجاجاً ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا تھا۔ آفریدی کی جانب سے بورڈ کے چیئرمین و دیگر اراکین پر براہ راست تنقید کے جواب میں پی سی بی نے آفریدی کا مرکزی معاہدہ اور اجازت نامے منسوخ کردیے تھے۔ ساتھ ہی آفریدی کو پی سی بی کی سہ رکنی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت بھی جاری کی گئی جس پر شاہد آفریدی نے سندھ ہائی کورٹ میں بورڈ کے خلاف درخواست دائر کرتے ہوئے انضباطی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ نے جمعرات، 16 جون کو کیس کی مزید سماعت کرنی ہے تاہم معاملات طے پا جانے کے باعث کیس خارج کیے جانے کے واضح امکانات موجود ہیں۔

Facebook Comments