آسٹریلیا چیمپئن بنے گا، گریم سوان کی محمد عامر کی واپسی پر بھی کڑی تنقید

ٹی ٹوئنٹی کے سابق عالمی چیمپئن انگلستان کے گریم سوان کہتے ہیں کہ اس مرتبہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے لیے مضبوط ترین امیدوار آسٹریلیا ہے جبکہ انہوں نے محمد عامر کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی پر بھی سخت تنقید کی۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی آج، منگل، سے بھارت میں شروع ہو رہا ہے کہ جس کے افتتاحی مقابلے میں میزبان بھارت کا مقابلہ نیوزی لینڈ کے ساتھ ہوگا۔ البتہ سابق انگلش اسپنر نے ایک معروف برطانوی روزنامے میں لکھے گئے اپنے کالم میں آسٹریلیا کو 'فیورٹ' قرار دیا ہے۔

آسٹریلیا پانچ کوششوں کے باوجود کبھی کوئی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی نہیں جیت پایا، یہاں تک کہ 2010ء میں فائنل تک بھی پہنچا لیکن انگلستان کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوا۔ یعنی یہ وہ واحد عالمی اعزاز ہے جو اب تک آسٹریلیا کے پاس نہیں ہے۔

اسٹیون اسمتھ کی زیر قیادت آسٹریلیا "سپر10" مرحلے کے خطرناک ترین گروپ میں ہے جہاں اس کا مقابلہ میزبان بھارت، 2009ء کے چیمپئن پاکستان اور اس وقت بہترین روپ میں دکھائی دینے والے نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش سے ہوگا۔ گو کہ سوان نے برصغیر میں آسٹریلیا کے باؤلنگ دستے کی صلاحیت پر سوال اٹھایا ہے لیکن بلے بازی میں انہیں لاثانی قرار دیا ہے۔

"کسی ٹیم کے پاس اتنی زبردست بیٹنگ طاقت نہیں ہے۔ گلین میکس ویل، ڈیوڈ وارنر، شین واٹسن اور آرون فنچ سب فتح گر کھلاڑی ہیں۔ باؤلنگ میں البتہ سوال بنتا ہے۔ مچل اسٹارک زخمی ہیں اور ان کے پاس کوئی عالمی معیار کا اسپن باؤلربھی نہیں ہے لیکن بیٹنگ اور آئی پی ایل اور بگ بیش کے ذریعے حاصل کیا گیا ٹی ٹوئنٹی تجربہ بہت ہے۔"

australia-cricket

سوان نے مزید لکھا کہ "آسٹریلیا بالکل ویسا ہی ہے جیسے فٹ بال میں جرمنی، اسے پسند تو کوئی نہیں کرتا، لیکن وہ ہر اہم مرحلے اور مقام پر موجود ہوتا ہے۔ اس مرتبہ میرے خیال میں آسٹریلیا ٹرافی اٹھائے گا ۔" آسٹریلیا ٹورنامنٹ میں اپنا پہلا میچ جمعے کو دھرم شالا میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گا۔

آسٹریلیا کے علاوہ گریم سوان نے بھارت کے امکانات کو بہت زیادہ قرار دیا اور کہا کہ روی چندر آشون کے ساتھ اسپن باؤلنگ اور ویراٹ کوہلی جیسا بلے باز ان کے کلیدی کھلاڑی ہوں گے۔ گو کہ سوان نہیں سمجھتے کہ انگلستان اس مرتبہ جیتے گا لیکن انہوں نے ٹیم کے جارحانہ مزاج کی تعریف کی اور کہا کہ بین اسٹوکس ٹورنامنٹ کے نمایاں کھلاڑیوں میں سے ایک بن سکتے ہیں۔

سوان نے پاکستان کے تیز گیندباز محمد عامر کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کی وجہ سے پانچ سال تک پابندی بھگتنے کے بعد اس وقت محمد عامر پاکستان کے دستے کا اہم حصہ ہیں۔ وہ 2010ء میں لارڈز کے اس ٹیسٹ کے دوران جان بوجھ کر نو بال کرانے اور اس کے بدلے میں سٹے بازوں سے رقم بٹورنے والے گیندبازوں میں سے ایک تھے۔ اس مقابلے میں سوان انگلستان کی نمائندگی کررہے تھے، جن کا کہنا ہے کہ "میں لارڈز میں کھیلا تھا اور میں عامر کی واپسی کا حامی نہیں ہوں۔ دراصل انہیں دوبارہ کھیلنے کی اجازت دے کر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ کھلاڑی بدعنوانی میں ملوث ہو سکتے ہیں، پابندی کا عرصہ پورا کر سکتے ہیں اور نوجوانی میں ہی دوبارہ واپس بھی آ سکتے ہیں کیونکہ عامر کی اس وقت بھی عمر 23 سال ہے۔" البتہ انہوں نے یہ ضرور کہا کہ "بلاشبہ عامر بہت باصلاحیت باؤلر ہیں اور پاکستان کے اہم کھلاڑی ہیں۔" انہوں نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے شاہد آفریدی کو پاکستان کا اہم ترین کھلاڑی قرار دیا۔

Facebook Comments