ورلڈ ٹی ٹوئنٹی: پاکستانی گیندباز ہی امید کی آخری کرن

بلاشبہ ایشیا کپ میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی، بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست نے اسے فائنل کی دوڑ سے باہر کیا لیکن اِس شکست کے باوجود گیندبازوں نے کر دکھایا ہے، وہ پاکستان کی بدترین مہم کا ایک خوش کن پہلو تھا۔ یہی وہ گیندباز تھے کہ جن کے سامنے بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن بھی محض 84 رنز کے تعاقب میں لڑکھڑاتی دکھائی دی۔ صرف 8 رنز پر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے کے بعد اگر ویراٹ کوہلی کی وکٹ بھی مل جاتی تو شاید پاک-بھارت مقابلے کا نتیجہ کچھ اور ہوتا۔بہرحال، اب امید ہے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کا "باؤلنگ حملہ" مزید خطرناک روپ اختیار کرے گا، جس کے سرخیل ہوں گے 23 سالہ محمد عامر۔ جی ہاں! وہی گیندباز کہ جنہوں نے صرف 17 سال کی عمر میں دنیا میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے لیکن اسپاٹ فکسنگ کی دلدل میں پھنس کر اپنے کیریئر کے پانچ قیمتی سال گنوا بیٹھے۔ اپنے کیے کی پوری، بلکہ حد سے بھی زیادہ، سزا پانے کے بعد جب ان کی واپسی کی راہ ہموار ہوئی تو ہر طرف سے مخالفت کی گئی لیکن بین الاقوامی کرکٹ کونسل، پاکستان کرکٹ بورڈ اور چند خیر خواہوں کی مدد سے عامر دنیائے کرکٹ میں واپس آئے اور اب مخالفین تک ملک کے وقار کے لیے عامر کی جانب سے دیکھ رہے ہیں۔ گیندبازی میں اس کارکردگی کے باوجود ایشیا کپ میں پاکستان کے ساتھ کیا ہوا، اسے اب بھول جانا چاہیے اور اب وقت یہ سوچنے کا ہے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کس طرح کامیابی کو اپنا رفیق بنایا جائے۔

اگر پاکستانی گیندبازی پر نظر ڈالیں تو عامر کے ساتھ ساتھ ہمیں محمد عرفان، وہاب ریاض اور محمد سمیع بھی نظر آتے ہیں یعنی "رفتار تو برق رفتار ہے"۔ پھر اسپن باؤلنگ میں کپتان شاہد آفریدی کو تجربہ کار شعیب ملک اور نوجوان عماد وسیم کا ساتھ میسر ہے۔ یوں گیندبازی کے لحاظ سے تو پاکستان کو ’مکمل پیکیج‘ کہا جا سکتا ہے اور کاغذ پر تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ اگر باؤلرز کا جادو چل گیا تو دنیا کی کسی بھی بیٹنگ لائن کا سامنے ٹکنا ممکن نہیں ہوگا۔

Mohammad-Amir

دراصل گیندبازوں سے فتح کی امید اس لیے لگائی جا رہی ہے کہ رواں سال قومی کرکٹ ٹیم نے 7 میں سے 3 مقابلوں میں کامیابی حاصل کی ہے اور تینوں کے پیچھے باؤلرز ہی کا ہاتھ تھا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف دس وکٹوں کی شکست کو نکال دیں تو گیندبازوں نے ہر مقابلے میں ابتدائی چھ اوورز میں ہی مخالف کی کم از کم ایک وکٹ ضرور حاصل کی ہے۔ محمد عامر سے ہٹ کر دیکھيں تو محمد عرفان نمایاں ہیں۔ انہوں نے ہر 19 ویں گیند پر وکٹ لی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر طویل قامت باؤلر کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے ٹی ٹوئنٹی طرز میں صرف ساڑھے پانچ کے اکانمی ریٹ سے باؤلنگ کی ہے یعنی جس فارمیٹ میں بلے بازوں کے سامنے باؤلرز کی ایک نہیں چلتی، وہاں عرفان نے اپنے سامنے کسی بیٹسمین کی نہیں چلنے دی۔ یہی وہ ڈالا گیا دباؤ ہے جس کی وجہ سے وہ خود بھی، اور دوسرے کنارے پر موجود باؤلرز بھی وکٹیں لے اڑتے ہیں۔ ابتدائی اوورز میں تیز گیندباز حریف بلے بازوں پر دھاک بٹھا دیں تو بیچ کے اوورز میں اسپنرز کا کام آسان ہو جاتا ہے۔ ابتدائی اوورز میں وہاب ریاض بہت مہنگے ثابت ہو رہے ہیں لیکن آخری اوورز میں ان سے بہتر باؤلنگ کرنے والے اس وقت کم دکھائی دیتے ہیں۔ وہ صرف رنز ہی نہیں روکتے بلکہ وکٹوں کے حصول میں بھی کامیابی سمیٹتے ہیں۔ اس کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ باؤلنگ میں پاکستان کا مقابلہ بہت کم ٹیمیں کر پائیں گی۔

پاکستانی گیندبازوں کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ ہر کچھ اوورز کے بعد وہ مسلسل وکٹیں حاصل کرتے رہتے ہیں جس سے رنز روکنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ مثال کے طور پر آکلینڈ میں ہونے والے پاک-نیوزی لینڈ مقابلے میں جب میزبان صرف ایک وکٹ پر 89 رنز بنا چکا تھا تو 200 رنز کا مجموعہ صاف دکھائی دیتا تھا۔ لیکن یہاں پاکستان نے اگلے 19 رنز پر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ پھر ویلنگٹن میں ہونے والے مقابلے میں بھی 57 رنز پر کوئی وکٹ نہیں گری تھیں لیکن صرف پانچ رنز کے اضافے سے دو کھلاڑی آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ایشیا کپ میں بنگلہ دیش کے خلاف اہم مقابلے میں 83 رنز پر حریف کے دو ہی کھلاڑی آؤٹ تھے لیکن محمد عامر کی باؤلنگ کی وجہ سے اگلے 21 رنز پر تین وکٹیں گرچکی تھیں اور بنگلہ دیش 104 رنز پر آدھے بلے بازوں سے محروم ہوچکا تھا۔

اس لیے یہ سمجھنا کہ پاکستان کے پاس دنیا کا بہترین باؤلنگ اٹیک موجود ہے، ہرگز غلط نہیں ہے۔ اگر (یہ بہت بہت بہت بڑا اگر ہے) پاکستان 7 سال بعد ایک مرتبہ پھر ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپئن بننا چاہتا ہے تو اس کے بلے بازوں کو اپنے کاندھوں پر ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔ یہ وہ کمزور کڑی ہے، وہ ٹوٹی ہوئی ٹانگ ہے جسے پاکستان کو گھسیٹنا پڑ رہا ہے۔ اگر یہ جم کر کھڑی ہوگئی تو بعید نہیں کہ پاکستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے مضبوط ترین امیدوار کے پر ابھرے۔

Facebook Comments