پاکستان کی جیت کا واحد راستہ، شاہد آفریدی زخمی ہو جائیں

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل پاکستان کا واحد وارم-اپ مقابلہ دیکھنے کے بعد تو دل میں ایک "کمینی" سی خواہش جاگ رہی ہے کہ کاش شاہد آفریدی ایسے ان فٹ ہو جائیں کہ پورا ٹورنامنٹ نہ کھیل سکیں۔ لیکن افسوس کہ شاہد آفریدی کا شمار ان کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جوکبھی ان فٹ نہیں ہوتے، یا بہت کم ہوتے ہیں۔ یہ لکھنے کا مقصد ہرگز "آفریدی مخالف تحریک" چلانا نہیں بلکہ ان کی موجودگی میں پاکستان کو ہونے، یا نہ ہونے والے، نقصان اور فائدے پر غور کرنا ہے۔

پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے زوال کا شکار ہے۔ عالمی کپ 2007ء میں آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد سے آج تک، گزشتہ 9 سالوں میں فتوحات بہت کم ہیں اور شکستوں کے انبار ہیں اور یہ وقت جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا ہے قابل ذکر فتوحات کی تعداد کم ہوتی چلی گئی۔ آپ ہی بتائیں محدود طرز کی کرکٹ میں پاکستان نے آخری زبردست کامیابی کب حاصل کی تھی؟ ہو سکتا ہے آپ کہیں 2014ء کے ایشیا کپ میں جب بھارت کے خلاف پاکستان نے شاہد آفریدی کے دو چھکوں کی بدولت کامیابی حاصل کی تھی لیکن یاد رہے کہ اس کے باوجود پاکستان اپنے ایشیائی اعزاز کا دفاع نہیں کر پایا تھا۔ آخری بڑی کامیابی کے لیے ہمیں مزید پیچھے جانا پڑے گا۔ 2013ء کے اوائل میں پاک-بھارت ون ڈے سیریز میں کامیابی، وہ واقعی ایک قابل تعریف اور قابل فخر کارنامہ تھا اور اس کی خاص بات یہ تھی کہ شاہد آفریدی اس ٹیم میں شامل نہیں تھے۔ "بنا آفریدی" پاکستان نے نہ صرف ایک روزہ سیریز جیتی بلکہ ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی برابر کی۔ یعنی محض ان کے "نہ" ہونے کی برکت سے پاکستان کا بھلا ہوگیا۔

چلیں، کہیں اور نہیں جاتے، صرف بھارت کے خلاف مقابلوں ہی میں دیکھ لیتے ہیں۔ پہلے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا فائنل، شاہد آفریدی ایک ایسے موقع پر میدان میں آئے جب میچ بنایا جا سکتا تھا لیکن ایسا شاٹ کھیل کر گئے کہ بگاڑ کر چلے گئے۔ بعد میں مصباح الحق نے سر توڑ کوشش کرلی لیکن پاکستان کو جتوا نہ سکے اور اس شکست کا داغ بھی ہمیشہ کے لیے ان کر دامن پر لگا۔ دوسرا موقع عالمی کپ 2011ء کا سیمی فائنل جو اتنا ہی اہم مقابلہ تھا جتنا اس سے قبل ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا فائنل۔ یہاں شاہد آفریدی نے کپتان ہونے کے باوجود غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور ایک اور بے وقوفانہ شاٹ کے ذریعے پاکستان کی شکست کی راہ ہموار کی۔ لیکن شکست کے بعد یہ کہنا کہ وہ "اصل" میں باؤلر ہیں، ہرگز ہرگز اس نقصان کی تلافی نہیں کر سکتا جو "لالا" کی غیر ذمہ داری سے پاکستان کو پہنچتا ہے۔ انہیں اگر مستند بیٹسمین تسلیم نہ بھی کیا جائے تو 19 سال کا تجربہ رکھنے والے کسی بھی بلے باز سے اتنی توقع تو ہونی چاہیے کہ وہ نازک مرحلے پر اپنے تجربے کو بروئے کار لائے اور بگڑتی ہوئی صورت حال کو بنانے کی کوشش کرے۔ لیکن یہ صلاحیت شاہد آفریدی میں مکمل طور پر مفقود ہے بلکہ ان میں یہ "سہولت میسر نہیں"۔

یہ بھی پڑھیں:  اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو!

گزشتہ ایک دہائی میں جس پاکستانی کھلاڑی نے بھارت کے خلاف کارکردگی دکھائی ہے وہ شاہد آفریدی نہیں بلکہ عبد الرزاق ہیں۔ وہی عبد الرزاق کہ جب وہ وسیم اکرم کی قیادت میں کھیلتے تھے تو انہیں تیسرے نمبر پر کھیلنے کے لیے بھیجا تھا، لیکن آفریدی کی "قائدانہ نظر" انہیں آٹھویں نمبر پر بھیجتی رہی۔ یوں دنیا کے بہترین آل راؤنڈر کا کیریئر تباہ ہو کر رہ گیا اور جو کسر رہ گئی وہ محمد حفیظ نے پوری کردی اور یوں عبد الرزاق پاکستان کرکٹ چھوڑ گئے۔ یعنی ان کے برابر کی عمر رکھنے والے شاہد آفریدی اور محمد حفیظ کھیل رہے ہیں، لیکن عبد الرزاق باہر ہیں۔

اب جبکہ شاہد آفریدی کی قیادت میں پاکستان لگ بھگ ہر ٹی ٹوئنٹی سیریز ہار رہا ہے، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی آن پہنچا ہے جو اب تک کی اطلاعات کے مطابق شاہد آفریدی کی آخری بین الاقوامی مہم ہے، لیکن اگر وہ ایسے ہی کھیلتے رہے تو کوئی بعید نہیں کہ پاکستان کے لیے نتیجہ 2014ء والا ہی ہو جائے یعنی پہلے ہی مرحلے میں باہر۔

Facebook Comments