ورلڈ ٹی ٹوئنٹی: ستارے جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور پاکستان کے ساتھ

کھیل کوئی بھی ہو، اچھے نتیجے کے لیے ضروری ہے کہ میدان میں جان لڑا دی جائے۔ جو محنت کرے گا، کامیابی اس کا مقدر بنے گی لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ کسی نہ کسی حد تک، چاہے بہت معمولی ہی سہی قسمت کا بھی عمل دخل ہے۔ ہندوستان ویسے ہی جوتشیوں اور نجومیوں کا دیس ہے جہاں ستاروں کی چالیں جاننے والے کہتے ہیں کہ عالمی چیمپئن بننے کے لیے قسمت جنوبی افریقہ کے حق میں دکھائی دیتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں کا حقیقت سے دور پرے کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس موقع پر جب ملین ڈالرز کا سوال یہ ہے کہ آخر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کون جیتے گا؟ اس پہلو سے غور کرنا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ چلیں تفریح طبع کے لیے ہی سہی!

گرینسٹون لوبو خود کو ایک سائنسی جوتشی کہتے ہیں جو اپنے کام "تحقیق کی بنیاد" پر کرتے ہیں۔ وہ ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ عالمی کرکٹ کے بڑے اعزازات کی دوڑ میں ہمیشہ مضبوط امیدوار رہتا ہے لیکن عین اس وقت "بھٹک" جاتا ہے جب "منزل" سامنے ہوتی ہے۔ پروٹیز کے بیشتر کھلاڑیوں کے ستاروں کی چال کہتی ہے کہ اس مرتبہ جنوبی افریقہ ’چوکرز‘ کا دھبہ مٹانے کامیاب ہو سکتا ہے۔ گو کہ کپتان فف دو پلیسی کے ستارے اتنے دمکتے نہیں دکھائی دیتے لیکن مجموعی صورت حال جنوبی افریقہ کے حق میں دکھائی دے رہی ہے۔

دوسری طرف آسٹریلیا ہے جس کے پاس شاندار موقع ہے کپتان اسٹیو اسمتھ سمیت متعدد ایسے کھلاڑی ہیں جو فتح گر ہیں۔ کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کے ستارے بھی حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

آسٹریلیا کے کوچ ڈیرن لیمین کی بات کریں تو بطور کھلاڑی بھی وہ ٹیم کے لیے بہت خوش قسمت رہے ہیں اور کوچ کی حیثیت سے بھی ان کی کارکردگی مثالی ہے۔ ان کو دیکھتے ہوئے خیال کیا جا رہا ہے کہ آسٹریلیا اس مرتبہ، پہلی مرتبہ، ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپئن بن سکتا ہے۔ جنوبی افریقہ کے پاس دوسرا امکان اسی کا ہے۔

اب سب سے دلچسپ پہلو، ستاروں کی چال کہتی ہے کہ قسمت کا تیسرا دھنی پاکستان ہو سکتا ہے۔ جی ہاں! ہر طرف سے تنقید اور طعن و تشنیع کا نشانہ بننے والا پاکستان، جسے اس بار کمزور ترین ٹیم شمار کیا جا رہا ہے، قسمت کے بل بوتے پر مخالفین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا سکتا ہے۔ پاکستان کے پرستاروں کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ ستاروں کی روشنی میں پاکستان اعزاز کے مضبوط امیدواروں میں سے ایک ہے۔ شاہد آفریدی کے ستارے بتاتے ہیں کہ وہ کپتان کی حیثیت سے ایک عالمی اعزاز جیت سکتے ہیں اور چونکہ یہ ان کے لیے آخری موقع ہے اس لیے عجب نہیں کہ وہ عالمی کپ یہی ہو۔ پھر کوچ وقار یونس کا معاملہ بھی مختلف نہیں۔ گو کہ کوچ کی حیثیت سے ان کی کارکردگی مثالی نہیں رہی لیکن ان کے ستارے بھی بتاتے ہیں کہ جانے سے پہلے وہ ایک بڑی کامیابی دلا سکتے ہیں۔

pakistan-t20-team

بات صرف ستاروں کی نہیں بلکہ کارکردگی کا بھی جائزہ لیں تو اندازہ ہو رہا ہے کہ "میگا ایونٹ" میں پاکستان مخالفین کو شکست سے دوچار کر سکتا ہے۔ گیندباز تو ہمیشہ پاکستان کے لیے فتوحات سمیٹتے رہتے ہیں لیکن بلے بازوں کو درپیش مشکلات بھارت کی مددگار وکٹوں پر کم ہوں گی اور اس کا پہلا اظہار بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں ہوچکا ہے کہ جہاں پاکستان نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 201 رنز بنائے۔

اب بات کرتے ہیں کہ کس کے جیتنے کا امکان نہیں ہے اور وہ اپنے شائقین کو مایوس کریں گے۔ سب سے پہلے بھارت، پھر ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش۔ آپ کو حیرانی ہو رہی ہے نا؟ ستارے یہی کہتے ہیں کہ ان چاروں کے جیتنے کے امکانات سب سے کم ہیں۔ بھارت کے کپتان مہندر سنگھ دھونی اور ویسٹ انڈیز کے ڈیرن سیمی کے نصیب میں کامیابی نہیں لکھی جبکہ نیوزی لینڈ بہت خطرناک ضرور ہے لیکن کین ولیم سن اور مر اور تجربہ ان کی کامیابی کی جانب سے جانے سے روک رہا ہے۔ ہاں! اگر برینڈن میک کولم ہوے تو صورت حال مختلف ہو سکتی تھی۔ بنگلہ دیش کی کارکردگی گرچہ گزشتہ ایک سال میں کافی بہتر ہوئی ہے لیکن ورلڈ ٹی ٹوئنٹی چیمپئن بننے کے لیے انہیں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

اب رہ گئے سری لنکا اور انگلستان۔ ان کے امکانات ضرور موجود ہیں لیکن انتہائی کم۔ ایون مورگن کی زیر قیادت انگلستان کی کارکردگی بلاشبہ بہترین ہے لیکن ستارے کہتے ہیں کہ مستقبل میں بھی ان کی کارکردگی تو اچھی رہے گی لیکن ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کا امکان معدوم ہے۔ پھر اینجلو میتھیوز کی کپتانی میں سری لنکا پے در پے شکستوں کے بعد بہت کمزور حالت میں ہے۔ انہیں اپنے اعزاز کا دفاع کرنا ہے لیکن ستارے بھی ساتھ نہیں۔

باتیں جو بھی ہوں، جیتے گا وہ جو ہمت رکھے گا، جم کر کھیلے گا اور اپنی جان لڑائے گا، وہ بھی عقل کے ساتھ۔

cricket-ball

Facebook Comments