پاک-بھارت مقابلہ: فائنل سے پہلے فائنل

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا سب سے بڑا مقابلہ، جسے "فائنل سے پہلے فائنل" کا درجہ حاصل ہے، بس اب چند گھنٹے دور ہے۔ گروپ 2 کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء کا مشکل ترین گروپ سمجھا جا رہا ہے اور یہاں پاک-بھارت مقابلہ جو جیتے گا اس کے لیے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنا آسان ہو جائے گا۔

پاک-بھارت مقابلہ پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق شام ساڑھے 7بجے اور بھارت کے مقامی وقت کے مطابق شام 7 بجے شروع ہوگا۔

پاک-بھارت مقابلے کے ساتھ ہمیشہ کروڑوں دل دھڑکتے ہیں۔ کرکٹ کا بخار سرحد کےدونوں طرف اپنے عروج کو پہنچ جاتا ہے۔ گو کہ پاکستان عالمی کپ میں کبھی کسی مقابلے میں بھارت سے نہیں جیت پایا اس لیے اس مرتبہ بھی بھارت کا اعتماد زوروں پر ہے لیکن تازہ مقابلے کو گرمایا ہے دونوں ٹیموں کی حالیہ کارکردگی نے۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف بھاری کامیابی حاصل کی ہے جبکہ بھارت کو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں بھیانک شکست ہوئی ہے۔ اس نے پاک-بھارت مقابلے کے حوالے سے سنسنی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کے خلاف پاکستان کا پلڑا بھاری ہوگا؛ سنیل گاوسکر

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کرکٹ کے دو عظیم ترین کھلاڑی عمران خان اور وسیم اکرم بھی کلکتہ میں موجود ہیں اور پاکستان کے کھلاڑیوں کو معاونت بھی دیں گے اور مشکل حالات میں اعصابی طور پر مضبوط رکھنے میں مدد دیں گے، ایک غیر متوقع نتیجے کی امید کی جا سکتی ہے۔

دوسری طرف بھارت کی کوشش ہوگی کہ وہ بڑے مقابلوں میں ناقابل شکست رہنے کے ریکارڈ کو ٹوٹنے نہ دے۔ پاکستان کی باؤلںگ، اور کسی حد تک بلے بازی، کو بھی موقع نہ دیا جائے کہ وہ حاوی ہو سکے۔ بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن اپ نیوزی لینڈ کی اوسط باؤلنگ کے خلاف جس طرح ریت کی دیوار ثابت ہوئی ہے، اس سے کئی آنکھیں چمک اٹھی ہیں لیکن ویراٹ کوہلی، سریش رینا، روہیت شرما، شیکھر دھاون، یووراج سنگھ اور مہندر سںگھ دھونی پر مشتمل بیٹنگ لائن کو صرف ایک مقابلے کی خراب کارکردگی کی بنیاد پر کمزور گرداننا حماقت ہوگی۔

کلکتہ کی پچ بلے بازوں کی جنت سمجھی جاتی ہے اور اگر موسم نےکوئی چھیڑ چھاڑ نہ کی تو توقع یہی ہے کہ مقابلہ ہائی اسکورنگ ہوگا۔ پاکستان کے بلے باز بھی گزشتہ مقابلے میں بنگلہ دیش کے خلاف 201 رنز بنانے کے بعد ہمت بڑھا چکے ہیں۔ دیکھتے ہیں آج کی بازی کس کے نام رہتی ہے ؟

virat-kohli-shahid-afridi

Facebook Comments