ناقابل یقین، انگلستان نے 230 رنز کا ہدف حاصل کرلیا

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے آغاز سے قبل ہم نے پیشن گوئی کی تھی کہ اس مرتبہ 200 رنز کا ہدف بھی عبور کرلیا جائے گا لیکن ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ عظیم کارنامہ انگلستان کرے گا، وہ بھی جنوبی افریقہ کے خلاف؟ کرس گیل کے ہاتھوں بری طرح پٹنے کے بعد انگلستان کے گیندباز تو آج پھر رحم و کرم پر دکھائی دیے لیکن جو روٹ کی کمال اننگز کی بدولت اس نے ریکارڈ 230 رنز کا ہدف آخری اوور میں صرف دو وکٹوں کے ساتھ حاصل کرلیا۔

ممبئی کے اس میدان پر کہ جہاں کچھ دن پہلے 182 رنز بنا کر بھی انگلستان ویسٹ انڈیز سے ہار گیا تھا، آج ٹاس جیت کر خود ہدف کے تعاقب کا فیصلہ کیا۔ جنوبی افریقہ نے اس دعوت کو پوری طرح قبول کیا اور ابتدائی 7 اوورز میں بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 96 رنز بنا کر ثابت کردیا کہ وکٹ بلے بازوں کے لیے کتنی سازگار ہے۔ آٹھویں اوور کی پہلی گیند پر کوئنٹن ڈی کوک 24 گیندوں پر 52 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، ان کی اننگز میں تین چھکے اور 7 چوکے شامل تھے۔ ان کی روانگی کے باوجود رنز بنانے کی رفتار میں لمحہ بھر کی سستی نہ آئی۔ ابراہم ڈی ولیئرز صرف 16 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے لیکن اس کے باوجود 9 اوورز میں "میٹر" 114 رنز کو چھو رہا تھا۔

ہاشم آملا 31 گیندوں پر 58 رنز بنانے کے بعد اس وقت آؤٹ ہوئے جب اسکور 133 رنز تھا۔ ان کی اننگز بھی تین چھکوں اور 7 چوکوں پر ہی مشتمل تھی۔ آملا کے جانے کے بعد ژاں-پال دومنی بلے بازی کے لیے آئے اور آتے ہی انگلستان پر تابڑ توڑ حملے شروع کردیے۔ کپتان فف دو پلیسی کے ساتھ انہوں نے صرف تین اوورز میں 36 رنز کا اضافہ کیا۔ ایسی وکٹ پر کہ جہاں دونوں کناروں سے بلے باز خوب رنز لوٹ رہے تھے، کپتان فف کی 17 گیندوں پر اتنے ہی رنز کی اننگز کچھ جچی نہیں۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد جنوبی افریقہ کے پاس 4.3 اوورز باقی تھے اور 169 رنز پہلے ہی موجود تھے۔

یہاں دومنی اور ڈیوڈ ملر نے اننگز کو پانچویں گیئر میں ڈالا۔ 60 رنز کا اضافہ کرکے انہوں نے انگلستان کے لیے 230 رنز کا ہدف کھڑا کیا۔ اس سے قبل ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ میں صرف ایک بار ہی ایسا ہوا ہے کہ کسی ٹیم نے 230 یا اس سے زیادہ کا ہف حاصل کیا ہو۔ ویسے اتنے بڑے ہدف کے دفاع میں ناکام رہنے والا پہلے بھی جنوبی افریقہ ہی تھا کہ جو 11 جنوری 2015ء کو ویسٹ انڈیز کے خلاف ایسا نہیں کر سکا تھا۔ پھر جب انگلستان کو اوپنرز جیسن روئے اور ایلکس ہیلز نے دو اوورز میں 45 رنز بنا ڈالے تو اندازہ ہو گیا تھا کہ جنوبی افریقہ آج بھی اسی "موڈ" میں ہے۔

اس طوفانی آغاز کے بعد انگلستان کے تین کھلاڑی 87 رنز پر آؤٹ ہو چکے تھے جن میں روئے کے 16 گیندوں پر 43 رنز سب سے نمایاں تھے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رنز پاور پلے کے اندر اندر بنا لیے گئے تھے یعنی چھٹے اوور میں ہی۔ یہاں انگلستنا کے کپتان ایون مورگن نے وہی کردار ادا کیا، جو جنوبی افریقہ کی اننگز میں فف کر رہےتھے۔ 15 گیندوں پر 12 رنز بنائے اور دسویں اوور میں جا کر آؤٹ بھی ہوگئے۔ انگلستان کو مزید 119 رنز کی ضرورت تھی اور گیندیں کل 62 ہی باقی بچی تھیں۔ سخت مشکل مرحلے میں جہاں جنوبی افریقہ کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا تھا جو روٹ آئے اور پھر جنوبی افریقہ کی ایک نہ چلی۔

آخر میں مرد میدان قرار پانے والے روٹ نے صرف 44 گیندیں کھیلیں اور چار چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے 83 رنز بنا کر میچ کا نقشہ ہی تبدیل کر دیا۔ جب وہ آؤٹ ہوئے تو انگلستان ہدف سے صرف 11 رنز کے فاصلے پر تھا اور 10 گیندیں اور چار وکیں بھی باقی تھیں۔ یہاں جنوبی افریقہ نے آخری زور لگایا اور میچ انتہائی سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہوگیا۔ گو کہ مقابلہ 19 اوورز میں ہی برابر ہوگیا تھا اور انگلستان کو جیتنے کے لیے چھ گیندوں پر صرف ایک رن کی ضرورت تھی لیکن کائل ایبٹ نے کرس جارڈن اور ڈیوڈ ولی کو آؤٹ کرکے تہلکہ مچا دیا تھا۔ جارڈن دومنی کے ایک شاندار کیچ کی وجہ سے آؤٹ ہوئے جبکہ اگلی ہی گیند پر ولی رن آؤٹ ہوگئے۔یہاں چوتھی گیند پر معین علی کے شاٹ نے مقابلے کا فیصلہ کردیا۔

انگلستان کے لیے ناقابل یقین جیت اور جنوبی افریقہ کے لیے ایک دل شکستہ ہار۔ انگلش کپتان ایون مورگن کا بعد میں کہنا تھا کہ 230 رنز کا ہدف دیکھ کر انہیں تو امید نہ تھی کہ کامیابی ملے گی لیکن صلاحیتوں کے بل بوتے پر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس کا پورا سہرا اوپنرز کو جاتا ہے کیونکہ انہی کا آغاز تھا کہ جس نے آنے والے بلے بازوں کو ہمت دی اور یوں ہم نے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔

فف دو پلیسی نے زندگی کا سب سے بڑا سبق سیکھا، جن کا کہنا تھا کہ آج ثابت ہوا کہ ٹی ٹوئنٹی میں کوئی ہدف ایسا نہیں ہوتا جس کا تعاقب نہ کیا جا سکے۔ اتنا بڑا اسکور کرنے کے بعد اگر ابتدائی چھ اوورز میں انگلستان پر زوردار حملہ کیا جاتا تو شاید نتیجہ مختلف ہوتا لیکن ہم ایسا نہ کر سکے اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

دو مقابلوں میں ایک کامیابی کے بعد اب انگلستان کو 23 مارچ کو افغانستان سے میچ کھیلنا ہے جہاں کامیابی کی صورت میں اس کے حوصلے مزید بلند ہو جائیں گے اور وہ 26 مارچ کو سری لنکا کے خلاف فیصلہ کن معرکے کے لیے بھرپور تیاری پکڑ لے گا۔

جنوبی افریقہ کے لیے یہ ہار دل شکستہ ہے۔ وہ بلند حوصلوں کے ساتھ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلنے آئے تھے لیکن گرتے ہی شہسوار ہی میدان جنگ میں۔ یہ پہلا مقابلہ تھا۔ اتوار کو انہیں افغانستان سے اگلا مقابلہ کھیلنا ہے اور بالترتیب ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کے خلاف، اس لیے ان کے پاس واپس آنے کے بہت مواقع ہیں۔ بس اس شکست کو اب ذہن پر سوار نہ کریں اور گیندبازوں کو حوصلہ دیں کہ جن کی حالت آج قابل رحم تھی۔ کاگیسو رباڈا نے چار اوورز میں 50 رنز دیے۔ ڈیل اسٹین کو صرف دو اوورز میں 35 رنز پڑ گئے۔ عمران طاہر نے 4 اوورز میں 28 رنز دے کر کچھ ہمت پکڑی لیکن کرس مورس کو 3 اوورز میں 39 اور کائل ایبٹ کو 3.4 اوورز میں 41 رنز کی ماریں سہنا پڑیں۔ تین وکٹیں ایبٹ کو ملیں اور دو کو رباڈا نے آؤٹ کیا لیکن حتمی بازی انگلستان کے نام رہی۔

Facebook Comments