پاکستان و بھارت: روایتی حریف اور جذباتی نفرت

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں گھمسان کا رن بس پڑنے ہی والا ہے۔ شائقین کا کرکٹ بخار عروج پر ہے، فیس بک پر بھی پروفائیل تصاویر اپنی پسندیدہ ٹیموں کے رنگوں میں رنگ رہے ہیں۔ اچھے کھیل کے قدر دان اور قومی ٹیم کی مسلسل ناقص کارکردگی سے نالاں افراد دوسری ٹیموں کی حمایت کرتے بھی نظر آ رہے ہیں۔ کوئی ویسٹ انڈیز پر اپنے جذبات آزما رہا ہے تو کسی کی امیدوں کا محور نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا ہیں۔ اس دوران کچھ دلچسپ واقعات بھی دیکھنے کو ملے۔ کچھ دوست بھارت کی حمایت میں اپنی فیس بک تصاویر "نیلی" کر بیٹھے اور پھر حسب توقع بہت سے اجلے تن کے میلے لوگ چیختے چلاتے، اندھے جذبات کے زہر میں بجھے ہوئے طنز اور طعنوں کے نشتر لیے چڑھ دوڑے۔ کسی نے "بے وفا" اور "وطن دشمن" گردانا تو کسی نے مزید آگے بڑھ کر "غدار" اور "ہندو" کے القابات سے نوازا۔

یہ متعصب رویہ ہماری ناقص عقل سے تو بالاتر ہے۔ یوں تو ہم اعلیٰ ظرفی اور کھیل کی قدر دانی کے بڑے دعویدار ہیں مگر حقیقت ہاتھی دانتوں کی طرح کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ حقیقت یہ ہےکہ انڈین پریمیئر لیگ میں تمام ٹیمیں اور ان کے 70 فیصد کھلاڑی بھارتی ہی ہوتے ہیں مگر ہم سب کی کوئی نہ کوئی پسندیدہ ٹیم ضرور ہوتی ہے، جس کو ہم کسی نہ کسی حد تک سپورٹ کرتے ہیں۔ پھر فٹ بال ورلڈ کپ میں ہم ارجنٹائن، برازیل، اٹلی و فرانس، یعنی "یہود و نصاریٰ" کی قصیدہ گوئی کرتے نہیں تھکتے۔ ہزاروں پاکستانیوں کی فیس بک پروفائل تصاویرپر میسی، رونالڈو اور نیمار جلوہ افروز ہیں۔ لیگ مقابلوں میں ریال میڈرڈ و بارسلونا کےلیے تو زبان "زِندانِ دَندان" سے آزاد ہوتی دکھائی دیتی ہے اور وہ لمحہ نہیں جب ان کے لیے رِطبُ اللسان نہ ہو۔ یہی رویہ ہر لحاظ سے درست بھی کیونکہ یہی تو اصل "اسپورٹس مین اسپرٹ" ہے۔ آپ کو ہر اچھے کھلاڑی، عمدہ کھیل اور بہترین ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ چاہے وہ آپ کے حریف ہی کیوں نہ ہوں؟

ہاں! توبات چل رہی تھی پروفائل تصاویر کو رنگنے کی۔ نیوزی لینڈ و آسٹریلیا اور دیگر ٹیموں کی مدد پر خاموش رہتی زبانوں میں بھارت کی قدردانی دیکھ کر طوفان برپا ہوگیا ہے۔ آپ اسے روایتی تعصب کہہ لیں یا کچھ اور، کرکٹ کے مداح کی حیثیت سے میری ذاتی رائے یہی ہے کہ کسی دوسری ٹیم کی حمایت کا مطلب اس ملک، اس کی افواج اور پالیسیوں کی حمایت کرنا نہیں ہوتا بلکہ اس کا مقصد محض کھیل کے میدان میں اچھی کارکردگی کا اعتراف ہوتا ہے۔ جب لوگ ضروری کام چھوڑ چھاڑ کر اپنے قیمتی وقت سے کچھ لمحات نکال کر ہزاروں امیدوں کے ساتھ کرکٹ میچ دیکھتے ہیں تو داد و تحسین ان کھلاڑیوں سے منسوب کرنا ان کا جائز حق ہے جو انہیں مایوس نہ کریں۔ چاہے ان کا تعلق کسی بھی رنگ، مذہب یا ملک سے ہو۔

اس بات کہ ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اپنے ملک کے کھلاڑیوں کی حمایت نہ کی جائے، بلکہ کھلے دل کے ساتھ ایک آزاد ملک کے کچھ آزاد شہریوں کی رائے کا بھی احترام کیا جائے اور یہی اچھے کھیل کی قدر دانی ہے اور ہرگز ملک و قوم کے مفادات سے متصادم نہیں۔ اگر ایسا نہیں تو ہم اور ان لوگوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا جو پاکستان کے بھارت آنے پر پچیں کھود دینے کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔

بھارت کے بلے باز ویراٹ کوہلی محمد عامر کو تحفے میں اپنا بیٹ دیتے ہوئے

بھارت کے بلے باز ویراٹ کوہلی محمد عامر کو تحفے میں اپنا بیٹ دیتے ہوئے

Facebook Comments