کرکٹ ذمہ داران کے انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیانات

بھارت سے عالمی مقابلوں میں مسلسل شکستوں کے بعد پاکستان ٹیم شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو اپنے مداحوں کی جانب سے اخلاقی سپورٹ کی جتنی ضرورت آج ہے شاید پہلے کبھی نہ ہوگی۔ پاکستان ٹیم کو اس مشکل صورتحال سے نکالنے اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016 کے باقی ماندہ مقابلوں میں اچھی کارکردگی کے لیے ذمہ دار بورڈ کی جانب سے بھی حوصلہ افزائی درکار ہے مگر معلوم ہوتا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا تو باوا آدم ہی بگھڑا ہوا ہے۔

کوئی ہے جو ان بزرگانِ پی سی بی سے سوال کرے کہ اس وقت مستقبل کی مایوس کن صورت گری کرنا ضروری ہے؟ سب ہی جانتے ہیں کہ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی اپنا آخری ٹورنامنٹ کھیل رہے ہیں۔ اس کے بعد خود ان کے شائقین بھی انہیں ٹیم کا حصہ نہیں دیکھنا چاہتے مگر ایسے وقت میں یہ بیان داغنا کہ آفریدی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد کپتان نہیں رہیں گے اور کوچ وقار یونس کے دن بھی گنے جا چکے ہیں، انتہائی غیر ضروری اور قابل گرفت حرکت تھی۔

شہریارخان ایک بیوروکریٹ رہ چکے ہیں انہیں اچھی طرح اندازہ ہوگا کہ ٹائمنگ کی اہمیت کیا ہوتی ہے۔ کس طرح ایک معتبر شخص کے الفاظ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتے ہیں اور کس طرح وہی الفاظ غلط وقت پر ادا کرنے سے حوصلہ شکنی کا سبب بن جاتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے جنگ کے وسط میں کوئی حاکم اپنے سپہ سالار کی معزولی کا اعلان مشتہر کر دے اور پھر اس فوج سے یہ امید بھی رکھے کہ وہ فتح کے جھنڈے گاڑے گی۔

مجھے نہیں معلوم اس بیان کے بعد ٹیم کا مجموعی مورال کیسا ہوگا مگر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ٹیم میں گروپ بندی کی جو خبریں کردش کر رہی ہیں اس کے پس منظر میں یقینا یہی بیان کارفرما ہے۔ اب کون ہے جواس کپتان اور کوچ کو بہت سنجیدہ لے گا جن کی معزولی کا اعلان بھی ہوچکا ہو۔ اس کے علاوہ کھلاڑی ساری توجہ کھیل کی طرف دینے کی بجائے اپنی کرکٹ اور اپنے مستقبل کے سازگار نقوش پر بحث کرتی نظر آئے گی۔ گویا یہ گیارہ کھلاڑیوں پر مشتمل نظر آنے والی ٹیم گیارہ حصوں میں بٹ جائے گی جس میں شامل ہر فرد اپنی جگہ پکی کرنے کی کوشش کرے گا ناکہ متحد ہو کر کھیلنے کی۔

زبان کی لگام یہاں تک محدود رہتی تو پھر بھی خیر تھی مگر بزرگ موصوف نے تو وہ سب بھی کہہ دیا جو دشمن ٹیم بھی بیان کرتے ہوئے گھبرا رہی ہوگی۔ مثلاً یہ کہ گرین شرٹ سے زیادہ امیدیں وابستہ نہ کی جائیں کیونکہ اس ٹیم کے لیے میچ جیتنا ممکن ہی نہیں۔ میں سوچ کر بھی پریشان ہوں کہ اس بیان سے ان کھلاڑیوں کے کیا احساسات ہوں گے جو ابھی تک ٹیم کی فتح کے لیے میدان کے اندر اور باہر جان لڑا رہے ہیں۔ اور پھر وہ کیوں نہ جان لڑائیں، ابھی تو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی شروع ہوا ہے اور اپنے گروپ میں پاکستان اب بھی انڈیا سے بہتر ایوریج کے باعث دوسرے نمبر پر موجود ہے۔ گویا اعداد و شمار کے حساب سے اس وقت بھی پاکستان کے سیمی فائنل میں جانے کے امکانات کسی بھی دوسری ٹیم کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ زبان درازی اور قوائد و ضوابط کا عدم احترام صرف بورڈ ذمہ داران تک محدود نہیں بلکہ کئی کھلاڑی بھی اس بہتی ننگا میں ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں۔ اپنے آفریدی لالا کو ہی دیکھ لیں حال ہی میں دو بار میڈیا پر سوچے سمجھے بغیر بولنے کے نتائج بگت چکا ہے مگر خودنمائی کی عادت سے شراب کی لت کی طرح مجبور کیے دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاک-آسٹریلیا ایک روزہ سیریز برابر، 10 دلچسپ اعداد و شمار
shahid afridi statement

ایشیاکپ میں بنگلہ دیش سے ناکام واپسی شائد ایئر پورٹ سے ہی وہ سب کہہ دیا جو بند کمروں میں رپورٹ کی صورت پیش کرنا تھا۔ ناکامی کی سارا قصور سلیکٹرز پر ڈال کر وزیراعظم تک کو مداخلت کی اپیل بذریعہ ٹویٹر کر ڈالی جس پر بزدل بورڈ سنگین قدم تک نہ اٹھا سکا اور صرف تنبیہ پر گزارا کیا کہ ذرائع ابلاغ سے بلا ضرورت بات چیت پر پابندی ہو گی۔ مگر وہ آفریدی نے بھارت پہنچتے ہیں میڈیا کا سامنے یہ تک کہہ دیا کہ "جتنا پیار مجھے انڈیا ملا اتنا تو کبھی پاکستان می بھی نہیں ملا"۔ اس سے پاکستانی عوام بالخصوص آفریدی کے مداحوں کا دل تو دکھا ہی ساتھ پاکستان کی بھی رسوائی ہوئی۔

اس بیان کو بہتر انداز اور زاویے سے بھی پیش کیا جا سکتا تھا مگر میڈیا کے چکا چوند نے ایسا دماغ گمایا کہ آفریدی نے اپنے لئے ہی نئی آزمائش سر لے لی۔ ایک نئے تنازع کا آغاز ہو گیا اور اس پر پاکستان کے اندر سے جو شدید ردعمل آیا اس نے آفریدی کو اوٹ پٹانگ انداز میں وضاحتین کرنے پر مجبور کر دیا۔

ٹیم کے اندر اتحاد کا فقدان کتنی شدید نوعیت کا ہے، اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب 1992 کے عالمی کپ میں پاکستان کی قیادت کرنے والے عمران خان کولکتہ میں کھلاڑیوں کو حوصلہ بڑھانے پہنچے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ تھا کہ پوری ٹیم کے ساتھ ایک ہی اجتماعی ملاقات کی خبریں دیکھنے کو ملتی مگر جو کچھ میڈیا کے ذریعے دیکھنے کو ملا بہت اذیت ناک تھا۔ آفریدی صاحب میڈیا کی موجودگی میں ٹپس حاصل کر رہا ہے، عمر اکمل کپتان اور کوچ کی شکایات کا کھکاتہ کھولے میڈیا کی موجودگی میں اوپر کھلانے کی سفارش کر رہا ہے۔ ٹیم کا ڈسپلن اور اتحاد ساری دنیا کے سامنے تماشا بنا ہوا تھا مگر کوئی نہیں جو اس حوالے سے کوئی ایکشن لیتا۔

imran khan umar akmal

یقینا میڈیا کی نیوز میں رہنا اور ٹکر کا حصہ رہنے کا اپنا ہی نشہ ہے مگر ہمارے بورڈ ذمہ داران اور سینئر کھلاڑیوں کو اگر اب بھی سمجھ نہیں آئی کہ میڈیا کے سامنے کتنا بولنا ہے، کب بولنا اور کیا بولنا ہے تو سمجھ لیں میڈیا پر لگنے والا یہ تماشا آخری نہیں تھا۔

معیاری اور بامقصد گفتگو کیا ہوتی ہے اس کا مظاہرہ بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی کی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو سے لگایا جا سکتا ہے۔ جب پوچھا گیا کہ پاکستان کو عالمی مقابلوں میں مسلسل 11ویں بار شکست دینے پر آپ کیا محسوس کر رہے ہیں تو دھونی کا جواب آفریدی کی غیر سنجیدگی کا منہ چڑھا رہا تھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے بہت خوشی ہے مگر ایسا ہمیشہ نہیں ہو گا کہ ہم جیتتے رہیں، ایک دن ہاریں گے بھی ضرور کیونکہ پاکستان پر ہارنے کا دباؤ ہے تو انڈیا پر جیت کا دباؤ۔ اس بیان میں اپنی خوشی کے اظہار کے ساتھ قوم کو حقیقت پسند رہنے پر بھی تلقین موجود ہے۔

Facebook Comments