"سانحہ بنگال" میں سب کے لیے سبق

بنگلہ دیش کی گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے کارکردگی بہت نمایاں ہے، خاص طور پر محدود طرز کی کرکٹ میں کہ جس میں وہ عالمی کپ 2015ء کو کوارٹر فائنل تک پہنچا، پھر پاکستان، بھارت اور جنوبی افریقہ جیسی ٹیموں کو ایک روزہ سیریز میں شکست دی اور حال ہی میں ایشیا کپ کے فائنل تک پہنچا۔ اس کارکردگی کی بنیاد پر توقع کی جا رہی تھی کہ بنگلہ دیش ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء میں نئی نویلی توقعات پر پورا اترے گا۔ کوالیفائنگ مرحلے میں تو جیسی جامع کارکردگی بنگال کے "شیروں" نے دکھائی، اس نے کئی "بڑوں" کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ لیکن بدقسمتی سے بنگلہ دیش "گروپ آف ڈیتھ" میں مارا گیا۔

پاکستان کے خلاف کہ جہاں جیت کی توقع سب سے زیادہ تھی، اسے بری طرح شکست ہوئی۔ حوصلے ٹوٹے اور آسٹریلیا کے خلاف فیصلہ کن ضرب نہ لگا سکا لیکن اصل "دل شکن" ہار تو وہ ہے جو ابھی ہولی سے ایک دن قبل بھارت کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ بنگلور کے ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں بنگلہ دیش 147 رنز کے معمولی ہدف کے تعاقب میں بہترین مقام پر تھا۔ پہلی گیند پر چوکے سے لے کر اسے اوور میں کیچ چھوٹنے کی وجہ سے ملنے والی نئی زندگی تک، یہاں تک کہ آخری اوور کی شروعات ہونے پر بھی حالات بنگلہ دیش کے حق میں تھے۔ جب مشفق الرحیم نے دوسری اور تیسری گیند پر ہردیک پانڈيا کو دو کرارے چوکے رسید کیے تو گویا فیصلہ کن ضرب لگ گئی۔ لیکن حقیقت یہی تھی کہ بنگلہ دیش اب بھی ہدف سے 2 رنز دور تھا اور اس حقیقت کا مشفق، محمود اللہ اور کروڑوں بنگلہ دیشیوں سمیت بھارت کی شکست کے خواہاں کروڑوں دیگر کرکٹ شائقین کو بھی اندازہ نہیں تھا۔ ان کے خیال میں تین گیندوں پر 2 رنز کا مطلب ہے لازمی کامیابی۔ مشفق نے دوسرا چوکا لگانے کے بعد جشن منانا بھی شروع کردیا تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا، جہاں بنگلہ دیش مقابلے پر اپنی گرفت کھو بیٹھا۔ مشفق جذبات کی رو میں بہہ گئے۔ اگلی گیند پر "فاتحانہ چھکا" لگا کر تاریخی کامیابی سمیٹنے کی کوشش ناکام ہوئی اور مشفق آؤٹ ہوگئے۔ یہی نہیں بلکہ آخری دو گیندوں پر درکار دو رنز کے لیے محمود اللہ جیسا ٹھنڈے دماغ کا بلے باز بھی "جذبات" پر قابو نہ رکھ سکا اور رویندر جدیجا کے کیچ نے بازی پلٹ دی۔ صرف دو گیندیں بھارت کو مقابلے میں واپس لے ائیں۔ آخری گیند پر درکار دو رنز تو کجا برابری کے لیے ضرورت ایک رن بھی نہ دوڑا جا سکا اور بھارت صرف ایک رن سے جیت گیا اور بنگلہ دیش زخم چاٹتا رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  سرفراز احمد کا متبادل کون؟ محمد رضوان یا عمر اکمل؟

اس فتح/شکست میں سب کے لیے ایک سبق ہے۔ قبل از وقت ہمت ہار دینا یا کامیابی کا جشن منانا دونوں یکساں طور خطرناک ہیں۔ بنگلہ دیش نے نہ صرف اپنے لیے ایک سنہری موقع گنوایا اور سیمی فائنل کی دوڑ سے اخراج کا سامان کیا، بلکہ بھارت کو بھی نئی زندگی عطا کی ہے جو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد ویسے ہی بے حال تھا اور پاکستان کے مقابلے میں کامیابی ہی اس کا واحد قابل ذکر کارنامہ تھی۔

Facebook Comments