ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سپر10 مرحلہ : بہترین و بدترین

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے پہلے مرحلے کے مقابلے تمام ہوئے اور اب "فائنل-4" کے لیے ہمارے پاس نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز، انگلستان اور بھارت کی شکل میں چار ٹیمیں موجود ہیں جو 30 اور 31 مارچ کو سیمی فائنل مقابلوں میں آمنے سامنے آئیں گی۔

گروپ 1 میں سے ویسٹ انڈیز نے ابتدائی تینوں مقابلے جیت کر سیمی فائنل میں جگہ پائی۔ یہ فتوحات جتنی غیر متوقع تھیں، اس سے بھی زیادہ انہونی ان کی آخری شکست تھی۔ افغانستان کے خلاف چوتھے مقابلے سے قبل یہی سمجھا جا رہا تھا کہ بڑے بڑوں کو چت کرنے والا ویسٹ انڈیز بغیر کسی مشکل کے جیتے گا اور ناقابل شکست روپ میں سیمی فائنل تک پہنچے گا لیکن افغانستان نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء کا سب سے بڑا اپ سیٹ کیا۔ اسی گروپ سے انگلستان کو پہلے مقابلے میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں مایوس کن شکست ہوئی لیکن اس کے بعد انگلش کھلاڑی اچھی طرح سنبھل گئے اور باقی تینوں مقابلے جیت کر شاندار انداز میں واپسی کی۔ دوسری طرف گروپ 2 میں نیوزی لینڈ نے میزبان بھارت سمیت کسی کو قریب پھٹکنے بھی نہ دیا اور چاروں مقابلے جیت کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔ اس گروپ سے یہاں تک آنے والی دوسری ٹیم بھارت کی تھی، جس نے واقعتاً بڑے کٹھن راستے عبور کیے۔ توقعات کے بوجھ تلے پہلے ہی مقابلے میں شکست، پھر روایتی حریف کا سامنا، اس کے بعد بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست سے بال بال بچنا اور آخر میں آسٹریلیا کے خلاف ایک شاندار کامیابی کہ جس میں اسے تین اوورز میں 39 رنز کی ضرورت تھی اور ویراٹ کوہلی نے دنیا پر ثابت کیا کہ وہ کتنے بڑے کھلاڑی ہیں۔ بھارت نے ہدف اس طرح حاصل کیا کہ پانچ گیندوں کا کھیل باقی تھا۔

اس تمہید کا مقصد سپر 10 مرحلے کی بہترین اور بدترین ٹیموں کا جائزہ لینا ہے کہ کس طرح کوئی توقعات سے بڑھ کر آگے گیا، اور کسی نے امیدوں کا گلا گھونٹا:

بہترین: نیوزی لینڈ

یہ آج کی بات نہیں ہے، نیوزی لینڈ بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے تحت ہونے والے تمام ایونٹس میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ 2014ء کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں سیمی فائنل تک رسائی سے محرومی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کے عالمی اعزاز کے لیے بلیک کیپس نے یہ اہم سنگ میل عبور کیا ہے اور باوقار اور بارعب انداز میں سیمی فائنل تک پہنچی ہے۔

نیوزی لینڈ جس گروپ میں تھا، وہ بہت خطرناک تھا۔ یہاں اسے روایتی حریف آسٹریلیا اور برصغیر کی تین خطرناک ٹیموں پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کا مقابلہ کرنا تھا۔ کپتان برینڈن میک کولم کی ٹورنامنٹ سے قبل اچانک ریٹائرمنٹ سے حالات مزید نازک دکھائی دیتے تھے لیکن کین ولیم سن کی قیادت میں نیوزی لینڈ نے ان تمام برجوں کو الٹ کر ثابت کردیا کہ وہ ایک خطرناک حریف ہے اور کسی ایک کھلاڑی کے جانے سے اسے کوئی فرق نہیں پڑا۔

اب تک نیوزی لینڈ نے جو فتوحات حاصل کی ہیں، ان میں مرکزی کردار اسپنرز مچل سینٹنر اور ایش سودھی کا ہے۔ چار مقابلوں میں دونوں نے کل 17 شکار کیے ہیں۔ بھارت کے خلاف محض 127 رنز بنانے کے بعد 49 رنز کی کامیابی کو بھلا کیسے بھلایا جا سکتا ہے کہ جہاں 10 میں سے 9 وکٹیں نیوزی لینڈ کے اسپنرز نے حاصل کی تھیں۔ یہ معاملہ محض بھارت کے خلاف نہیں تھا بلکہ دھرم شالا میں صرف 148 رنز بنانے کے بعد اسے آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا تھا لیکن نیوزی لینڈ نے آخری وقت تک مقابلہ کیا اور مقابلے کو اپنے حق میں کرلیا۔ اب تک نیوزی لینڈ کی فتوحات کا سہرا گیندبازوں کے سر ہی جاتا ہے کیونکہ چار مقابلوں میں صرف ایک بار ایسا ہوا کہ نیوزی لینڈ نے 150 سے زیادہ رنز بنائے ہوں، اور یہ مقابلہ پاکستان کے خلاف تھا، جہاں اس نے 180 رنز بنائے اور 34 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ باقی کسی میچ میں یہ سنگ میل تک عبور نہیں کیا لیکن پھر بھی گیندبازوں کی مدد سے کامیابی سمیٹی۔

اب نیوزی لینڈ 30 مارچ کو دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میں 2010ء کے چیمپئن انگلستان کا سامنا کرے گا۔

بدترین: بنگلہ دیش

بنگلہ دیش کوالیفائنگ مرحلے میں آئرلینڈ، عمان اور نیدرلینڈز کو شکست دے کر سپر 10 تک پہنچا۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں کوئی بھی میچ جیتنے سے قاصر رہا۔ ایشیا کپ میں پاکستان اور سری لنکا کو زیر کرکے فائنل تک پہنچنے کے بعد لگ رہا تھا بنگلہ دیش کچھ بدلا بدلا نظر آ رہا ہے لیکن ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں حالات یکسر مختلف دکھائی دیے۔ بھارت کے خلاف مقابلہ خاص طور پر بہت مایوس کن رہا جہاں اسے تین گیندوں پر صرف دو رنز کی ضرورت تھی اور دو مکمل طور پر سیٹ بلے باز کریز پر موجود تھے لیکن آخری تینوں گیندوں پر اس کی وکٹیں گریں اور یوں وہ ایک رن سے شکست کھا گیا۔ پاکستان کے خلاف پہلے مقابلے سے لے کر آخر میں نیوزی لینڈ تک، اسے کسی مقابلے میں کوئی کامیابی نہ ملی جو گزشتہ ایک ڈیڑھ سال کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے مایوس کن کہا جا سکتا ہے۔

بہترین: بھارت

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل ہی بھارت کو اعزاز کے لیے مضبوط ترین امیدوار سمجھا جا رہا تھا، اور اس کی وجہ تھی ٹیم کی حالیہ فارم۔ 2016ء میں کھیلے گئے 11 مقابلوں میں اسے صرف ایک شکست ہوئی تھی۔ لیکن ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے افتتاحی مقابلے میں ہی نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست نے اسے بہترین سبق دیا۔ حریف کو صرف 127 رنز پر محدود کرنے کے بعد بھارت کو جیت کا یقین تھا لیکن نیوزی لینڈ کے اسپنرز نے بازی پلٹ دیا۔ بھارت صرف 79 رنز پر ڈھیر ہوا اور اگلے مقابلے میں روایتی حریف پاکستان کا سامنا تھا۔ یہاں شکست اسے ٹورنامنٹ سے باہر کر سکتی تھی لیکن ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ بھارت کے ساتھ رہی اور اس نے ایک اور مقابلہ جیت کر اپنے امکانات زندہ رکھے۔ بنگلہ دیش کے خلاف مقابلے کو بھارت نے شاید بہت آسان لیا لیکن یہ اس کے لیے مشکل ترین معرکہ بن گیا۔ بنگلہ دیش کے بلے بازوں کی ناکام حکمت عملی نے اسے صرف ایک رن سے کامیابی بخشی۔ آسٹریلیا کے خلاف آخری 'کوارٹر فائنل نما' مقابلے میں بھارت کو آخری چار اوورز میں 47 رنز کی ضرورت تھی۔ یہاں ویراٹ کوہلی کی کمال اننگز نے اسے سیمی فائنل تک پہنچایا۔ انہوں نے 82 رنز بنائے جن میں سے آخری 32 صرف 12 گیندوں پر بنائے گئے۔ ان چار مقابلوں میں کوہلی 92 کے اوسط سے 184 رنز بنا چکے ہیں اور سیمی فائنل میں بھی وہی بھارت کے اہم ترین کھلاڑی ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  سیمی خان شنواری

بدترین: آسٹریلیا

Steven-Smith

پانچ مرتبہ ایک روزہ عالمی کپ جیتنے والے آسٹریلیا کو اپنا پہلا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے لیے اب مزید چار سال انتظار کرنا پڑے گا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف آسان مقابلے میں شکست کے بعد آسٹریلیا کی پریشانیوں میں اضافہ تو ہو ہی چکا تھا لیکن بھارت کے خلاف اہم مقابلے میں ناقص کپتانی اور منصوبہ بندی نے آسٹریلیا یقینی فتح سے محروم کیا اور یوں اس کے انتظار کو مزید طویل کردیا۔

نیوزی لینڈ کے خلاف صرف 143 رنز کے تعاقب میں ابتدائی 7 اوورز میں ایک وکٹ پر 52 رنز بن چکے تھے اور اگلے 13 اوورز میں محض 93 رنز کی ضرورت تھی لیکن اس کے باوجود ناکامی ہوئی۔پھر بھارت کے خلاف پہلے بلے بازی کرتے ہوئے ابتدائی چار اوورز میں ہی نصف سنچری بن چکی تھی، باآسانی 200 رنز کا ہدف دیا جا سکتا تھا لیکن آنے والے بلے باز پھر ناکام ہوئے اور صرف 160 رنز ہی بن سکے۔ گیندبازوں نے اس ہدف کو بھی بھارت کے لیے خاصا مشکل بنایا لیکن آخری چار اوورز کپتان اسٹیو اسمتھ کی غائب دماغی اور کوہلی کی کمال اننگز کی نذر ہوگئے اور بھارت مقابلہ جیت گیا۔

آسٹریلیا کے کوچ یرن لیمین کہتے ہیں کہ شکست کے بعد تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے پاس مچل اسٹارک اور پیٹرک کمنز نہیں تھے اس لیے ہم ہار گئے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم اچھا نہیں کھیلے، اس لیے شکست ہوئی۔

بہترین: افغانستان

یہ بات تو خیر سب کو معلوم تھی کہ افغانستان سیمی فائنل تک تو نہیں پہنچ سکتا لیکن یہ توقع ضرور تھی کہ وہ ایک اپ سیٹ ضرور کرے گا۔ اپنے آخری مقابلے میں اس نے ناقابل شکست ویسٹ انڈیز کو چت کرکے یہ توقعات پوری کر دکھائی۔ کوالیفائنگ مرحلے میں شاندار کھیل پیش کرنے اور آخری مقابلے میں زمبابوے کو شکست دے سپر 10 مرحلے تک پہنچنے کے بعد اس نے جنوبی افریقہ کو بھی مشکلات سے دوچار کیا۔ 210 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں افغان بلے بازوں نے ابتدائی دس اوورز میں دو وکٹوں پر 101 رنز بنا لیے تھے۔ جنوبی افریقہ کے مشہور زمانہ "اعصاب" جواب دے جاتے لیکن گیندباز اسے مقابلے میں واپس لے آئے۔ پھر بھی افغانستان نے 172 رنز ضرور بنائے۔

بدترین: جنوبی افریقہ

ایک اور عالمی ٹورنامنٹ، ایک اور اخراج، جنوبی افریقہ کی کہانی اس مرتبہ بھی مختلف نہیں رہی۔ جنوبی افریقہ اب تک ہونے والے چھ میں سے صرف دو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹس کے سیمی فائنل تک پہنچا ہے۔ لیکن اس مرتبہ فائنل-4 تک نہ پہنچنا ہر کسی کے لیے حیران کن ہے کیونکہ جس گروپ میں جنوبی افریقہ موجود تھا اسے نسبتاً آسان سمجھا جارہا تھا۔ کمزور ویسٹ انڈیز، پے در پے شکستوں سے بے حال سری لنکا، ناقابل یقین انگلستان اور سب سے ناتجربہ کار افغانستان کی موجودگی میں جنوبی افریقہ کا اگلے مرحلے تک نہ پہنچ پانا حیران کن ہے۔ پھر گزشتہ سال اکتوبر میں جنوبی افریقہ بھارت کا طویل دورہ بھی کر چکا تھا یعنی ان تمام ٹیموں سے زیادہ بھارت کے ماحول سے آشنا تھا۔

جنوبی افریقہ کی ناکامی کا حقیقی سفر اس وقت شروع ہوا جب 229 رنز بنانے کے باوجود اسے انگلستان کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ پھر ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست نے تو سارے دروازے ہی بند کردیے۔ سری لنکا کے خلاف آخری مقابلے میں 8 وکٹوں سے کامیابی حاصل کرکے کچھ عزت بحال کی، لیکن یہ اسے سیمی فائنل تک پہنچانے کے لیے کافی نہیں۔

بہترین: انگلستان

بلاشبہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل انگلستان کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا رہا تھا لیکن ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے مقابلے میں 183 رنز کے ہدف کے تحفظ میں ناکامی نے رہی سہی توقعات بھی ختم کردی تھیں۔ اس غیر متوقع شکست سے نکلنے کے لیے انگلستان کو ایک بڑی کامیابی کی ضرورت تھی لیکن ان کا اگلا مقابلہ جنوبی افریقہ سے تھا کہ جس نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 229 رنز مار دیے۔ 230 رنز کا ہدف ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ میں کبھی حاصل نہیں کیا گیا لیکن انگلستان نے جو روٹ کی بدولت ایسا کر دکھایا۔ آخری اوور میں دو وکٹوں سے کامیابی حاصل کرکے بتا دیا کہ انہیں نظر انداز نہ کیا جائے۔ پھر افغانستان اور سری لنکا کو شکست دے کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوا۔ انگلستان نے 2010ء میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتا تھا، جو اس کا واحد عالمی اعزاز ہے۔ اب وہ ایک مرتبہ پھر اس اعزاز سے صرف دو مقابلوں کے فاصلے پر ہے، دیکھتے ہیں اس بار کیا ہوتا ہے۔

بدترین: پاکستان

جو کارکردگی پاکستان گزشتہ ڈیڑھ دو سال سے دکھا رہا تھا، اس کے بعد یہ توقع رکھنا ہی غلط تھا کہ پاکستان سیمی فائنل تک پہنچے گا۔ گو کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ہمیشہ پاکستان کی کارکردگی عمدہ رہی ہے۔ وہ ابتدائی چاروں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹس کے سیمی فائنل تک پہنچا لیکن 2014ء کے بعد 2016ء میں بھی اسے پہلے ہی مرحلے میں اخراج کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے مقابلے میں بنگلہ دیش کے خلاف 55 رنز کی کامیابی نے کئی ٹوٹے ہوئے حوصلے جوڑے لیکن روایتی حریف بھارت اور اس کے بعد نیوزی لینڈ کے ہاتھوں ناکامی نے اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑا دیے۔ آسٹریلیا کے خلاف مقابلہ جہاں کامیابی ضروری تھی، پاکستان 194 رنز کے ہدف کو حاصل نہ کر سکا اور یوں 'بہت بے آبرو ہو کر' نکل گیا۔

Facebook Comments