ورلڈ ٹی ٹوئنٹی، سیمی فائنل مقابلوں کا منظرنامہ

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء کے سیمی فائنل کھیلنے والے خوش نصیبوں کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ کل یعنی بدھ سے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کے فائنل-4 مقابلے بھی شروع ہو جائیں گے۔ جو جیتے گا وہ دنیائے کرکٹ کے دوسرے بڑے اعزاز کے لیے مدمقابل آئیں گے جبکہ شکست خوردہ زخم چاٹتے ہوئے وطن واپسی کی راہ لیں گے۔

مردوں کے ایونٹ میں ہمیں پہلا سیمی فائنل ناقابل شکست نیوزی لینڈ اور بلند حوصلہ انگلستان کے درمیان نظر آئے گا۔ دونوں دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میں مدمقابل ہوں گے۔ انگلستان 2010ء کے بعد پہلی بار ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے سیمی فائنل تک پہنچا ہے اس لیے بھرپور کوشش کرے کہ ایک مرتبہ پھر چھ سال پرانی تاریخ دہراتا ہوا فائنل تک پہنچے اور یہ اعزاز دوسری بار جیتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا مقابلہ ٹورنامنٹ کی سب سے کامیاب اور مضبوط ٹیم نیوزی لینڈ سے ہے۔ بلاشبہ دونوں کو بہترین بلے بازوں کا ساتھ حاصل ہے، جن میں نیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل اور کین ولیم سن اور انگلستان کے جو روٹ اور جوس بٹلر نمایاں ہیں ۔ جہاں ان چاروں بلے بازوں کا کردار کلیدی ہوگا وہیں پر اسپن گیندباز بھی فیصلہ کن ہو سکتے ہیں جو اب تک نیوزی لینڈ اور انگلستان کی کامیابیوں میں نمایاں رہے ہیں۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا دوسرا سیمی فائنل جمعرات کو ممبئی میں میزبان بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہوگا۔ بھارت نے جس طرح آخری مقابلے میں آسٹریلیا کو شکست دی ہے، اس کے بعد یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس وقت بھارت کی اڑان سب سے بلند ہے۔ بالخصوص ویراٹ کوہلی مسلسل بہترین کھیل پیش کررہے ہیں اور اگر ان کی کارکردگی برقرار رہی تو بھارت نہ صرف سیمی فائنل بلکہ اعزاز بھی جیت سکتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ ان کا مقابلہ ویسٹ انڈیز سے ہے جو گزشتہ تینوں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کم از کم سیمی فائنل تک ضرور پہنچا ہے۔ یہی بات ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ان کی بہترین کارکردگی کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ کرس گیل نے انگلستان کے خلاف شاندار سنچری بنانے کے بعد سے اب تک صرف دو گیندوں کا سامنا کیا ہے۔ اگر سیمی فائنل میں گیل کا بلّا چل گیا تو میزبان کو جائے پناہ نہیں ملے گی۔ اسی طرح کوہلی مقابلے کو اختتام تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس لیے ہمیں ایک زبردست مقابلہ دیکھنے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاک-آسٹریلیا ایک روزہ سیریز برابر، 10 دلچسپ اعداد و شمار

یہ تو مردوں کے سیمی فائنلز ہوگئے۔ خواتین میں میزبان بھارت اور پاکستان دونوں ہمیں باہر دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں پہلا مقابلہ روایتی حریف انگلستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا جائے گا۔ دہلی میں ہونے والے اس مقابلے سے قبل انگلستان کو معلوم ہے کہ اگر اسے پہلی بار عالمی چیمپئن بننا ہے تو اسے آسٹریلیا کو قابو کرنا ہوگا جو اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ آسٹریلیا تین مرتبہ ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپئن بن چکا ہے بلکہ دو مرتبہ انگلستان ہی کو شکست دے کر یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔ انگلستان کا تمام تر انحصار تجربہ کار چارلوٹ ایڈورڈز پر ہے جو بہترین فارم میں دکھائی دے رہی ہیں جبکہ آسٹریلیا ایلیسا پیری پر تکیہ کرے گا، جن پر ایک اچھی کارکردگی اب بھی ادھار ہے۔

دوسرا سیمی فائنل جمعرات کو دہلی ہی میں نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کی خواتین ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا۔ نیوزی لینڈ کی خواتین مردوں کی طرح اپنے تمام گروپ مقابلے جیت کر یہاں پہنچی ہیں، جس میں آسٹریلیا کے خلاف ایک یادگار کامیابی بھی شامل ہے۔ نیوزی لینڈ کی آف اسپنر لی کاسپیرک اب تک 25 وکٹیں حاصل کر چکی ہیں۔ اب سیمی فائنل میں بھی ان سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ جبکہ ویسٹ انڈیز اپنی راہ میں حائل بڑی رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے سیمی فائنل تک پہنچا ہے۔ تمام کھلاڑیوں کے لیے کپتان اسٹیفنی ٹیلر کی کارکردگی بہترین مثال ہے۔ جس طرح پاکستان اور بھارت کو شکست دے کر ویسٹ انڈیز سیمی فائنل تک پہنچا ہے، توقع ہے کہ اچھی بلے بازی کی بدولت نیوزی لینڈ کو بھی نکیل ڈالنے میں کامیاب رہے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مردوں میں صرف نیوزی لینڈ ایسی ٹیم ہے جو اب تک ورلڈ ٹی ٹوئنٹی چیمپئن نہیں بنی۔ تو کیا خیال ہے؟ کس کی حمایت کرنی چاہیے؟

Facebook Comments