ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے چند حیران کن پہلو

بالآخر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء میں وہ دن آ ہی گیا کہ جو فیصلہ کرے گا کہ سال کا سب سے بڑا مقابلہ کھیلنے کا حقدار کون ہے۔ سپر10 مرحلے کے بعد ویسٹ انڈیز، انگلستان، نیوزی لینڈ اور بھارت سیمی فائنل کھیلنے کے حقدار قرار پائے ہیں اور ان میں سے انگلستان اور نیوزی لینڈ آج یعنی بدھ کو دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میں کھیلیں گے لیکن یہاں تک پہنچنے سے قبل بہت سے ایسے مراحل گزر چکے ہیں جنہیں ہم ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل ناممکنات میں شمار کررہے تھے۔ اب یہ حقیقت کا روپ دھارے ہمارے سامنے کھڑے ہیں، آپ حیران ہیں اور ہم پریشان۔

جنوبی افریقہ "ایک مرتبہ پھر"

بھارت کے ساتھ ساتھ اس مرتبہ جس ملک کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے لیے مضبوط ترین امیدوار قرار دیا جا رہا تھا وہ جنوبی افریقہ تھا لیکن نہ صرف جنوبی افریقہ بلکہ ایک اور 'فیورٹ' آسٹریلیا بھی اس بار سیمی فائنل سے قبل ہی دوڑ سے باہر ہوگئے۔ آسٹریلیا تو چلیں پانچ بار ایک روزہ عالمی کپ جیت چکا ہے لیکن جنوبی افریقہ کی بدقسمتی کا سلسلہ کچھ زیادہ ہی دراز ہوگیا ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے تحت ہونے والے تمام ہی بڑے ٹورنامنٹس میں ناکامی و نامرادی اس کے دامن سے چمٹی رہتی ہے۔ ہر مرتبہ ایسا لگتا ہے کہ اس بار چیمپئن وہی ہوگا اور ہر بار ناک-آؤٹ مرحلے میں اس کے اعصاب جواب دے جاتے ہیں۔ لیکن ماضی کی برعکس اس بار جنوبی افریقہ ابتدائی مرحلے ہی میں گھبراہٹ سے دوچار دکھائی دیا۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں جنوبی افریقہ کی کارکردگی، اور نتائج، دیکھ کر اس لیے بھی زیادہ دکھ ہوا کہ 'میگا ایونٹ' سے عین پہلے اس کی کارکردگی شاندار تھا۔ بھارت کے خلاف بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی جیتی اور انگلستان کو بھی شکست دی لیکن آسٹریلیا کے ہاتھوں ہوم سیریز ہارنے کے بعد اسے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بڑا دھچکا پہنچا اور ایک نسبتاً آسان گروپ سے سیمی فائنل تک بھی نہ پہنچ سکا۔

صرف دو سنچریاں

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء "بلے بازوں کی جنت" یعنی بھارت میں کھیلا جا رہا ہے۔ توقعات تھیں کہ اس مرتبہ رنز کے انبار لگ جائیں گے اور دنیا کے بہترین بلے بازوں کی شاندار اننگز دیکھنے کو ملیں گی لیکن پورے ٹورنامنٹ میں ہمیں صرف دو سنچریاں دیکھنے کو ملیں بلکہ مرکزی "سپر 10" مرحلے میں تو صرف ایک، جو کرس گیل نے انگلستان کے خلاف بنائی۔ گو کہ متعدد بلے باز 80 رنز سے آگے گئے اور بیشتر کی اننگز ناقابل شکست بھی رہیں لیکن کوئی بھی تہرے ہندسے میں قدم نہ رکھ سکا۔ جو روٹ کی جنوبی افریقہ کے خلاف 83، ویراٹ کوہلی کی آسٹریلیا کے خلاف 82 اور مارٹن گپٹل کی پاکستان کے خلاف 80 رنز کی اننگز شاہکار تھیں لیکن سنچری میں تبدیل نہ ہو سکیں۔ اب صرف تین مقابلے ہی رہ گئے ہیں، یعنی دو سیمی فائنلز اور ایک فائنل۔ یہاں جو بھی سنچری بنائے گا وہ مدتوں یاد رکھی جائے گی۔

ویسٹ انڈیز کی بلند پروازی

بھارت پہنچنے سے قبل ویسٹ انڈیز غالباً واحد دستہ تھا کہ جو زبردست داخلی مسائل سے دوچار تھا۔ کھلاڑی بورڈ کے ساتھ مالی معاملات پر رضامند نہیں تھے، متعدد کھلاڑی بہانے بنا کر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی مہم سے باہر ہوگئے۔ کیرون پولارڈ اور سنیل نرائن نے دستے سے نام واپس لینے والوں میں سب سے نمایاں تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ دوسرے یا تیسرے درجے کی ویسٹ انڈین ٹیم ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلے گی۔ پاکستان کے بعد اگر کسی ٹیم کے 'سپر 10' میں ہی باہر ہونے کے بعد امکانات تھے تو وہ ویسٹ انڈیز ہی تھا لیکن حیران کن طور پر ویسٹ انڈیز نے ابتدا ہی سے حریفوں پر زبردست حملے کیے اور انگلستان، جنوبی افریقہ اور سری لنکا جیسی ٹیموں کے خلاف شاندار کامیابیاں حاصل کرکے سب سے پہلے سیمی فائنل تک پہنچا۔ گو کہ اسے سیمی فائنل سے قبل افغانستان کے ہاتھوں ایک اپ سیٹ شکست ہوئی ہے لیکن سیمی فائنل میں وہ پوری قوت جھونک دے گا اور بھارت کو شکست دے کر ایک مرتبہ پھر فائنل تک پہنچنے کی کوشش کرے گا۔ ویسٹ انڈیز کی اب تک کی کارکردگی بھی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء کا ایک حیران کن پہلو ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  یہ 'پلے آف' کیا ہے؟

بلند حوصلہ افغانستان

افغانستان کا سپر 10 مرحلے تک پہنچنا ہی بہت بڑی کامیابی تھا کیونکہ عام خیال تھا کہ زمبابوے کوالیفائی کرے گا لیکن افغان کھلاڑیوں نے اہم مقابلے میں اسی حریف کو چت کیا اور اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کی۔ یہاں ان کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ خطرے کی پہلی گھنٹی انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف بجائے جہاں 210 رنز کے بڑے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے انہوں نے ابتدائی 10 اوورز میں محض دو وکٹوں پر 101 رنز بنا ڈالے۔ جنوبی افریقہ نے بمشکل انہیں 172 رنز تک محدود کیا اور مقابلہ جیتا لیکن دل افغانستان نے جیتے۔ لیکن افغانوں نے صرف دل جیتنے پر ہی اکتفا نہیں بلکہ آخری مقابلے میں ناقابل شکست ویسٹ انڈیز کو ہرا کر عیاں کردیا کہ وہ مستقبل میں بڑوں کے لیے خطرے کا سامان ہوں گے۔ ویسٹ انڈیز کو محض شکست دینا ہی کارنامہ نہیں تھا بلکہ اصل کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے صرف 123 رنز کا کامیابی سے دفاع کیا۔

لڑکھڑاتا بھارت

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے آغاز میں سمجھا جارہا تھا کہ بھارت بغیر کسی مقابلے میں شکست کھائے اور باآسانی فتوحات حاصل کرتا ہوا سیمی فائنل تک پہنچے گا لیکن سپر 10 مرحلے کے افتتاحی مقابلے میں ہی اسے نیوزی لینڈ سے شکست ہوئی۔ پھر جس طرح اس نے بنگلہ دیش کے خلاف مقابلہ محض ایک رن سے جیتا، اس نے بھارت کی تیاری کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ گوکہ آسٹریلیا کے خلاف اہم ترین مقابلے میں بھارت کو کامیابی ملی لیکن اس کامیابی پر ذرا غور کیجیے کہ اگر ویراٹ کوہلی ناقابل شکست 82 رنز نہ بناتے تو شاید وہی حال ہوتا جو نیوزی لینڈ کے خلاف مقابلے میں ان کی ناکامی کی صورت میں بھارت کا ہوا تھا۔ جہاں پوری ٹیم صرف 79 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی۔

اب ویسٹ انڈیز کے خلاف ہونے والے سیمی فائنل میں بھارت کا انحصار ویراٹ کوہلی پر ہے۔ اگر وہ ناکام رہے تو بھارت کو سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Facebook Comments