دوسرا سیمی فائنل کس کا؟ ہند کا یا غرب الہند کا؟

انگلستان کی نیوزی لینڈ پر تاریخی کامیابی کے بعد اب وہ لمحہ آنے ہی والا ہے کہ جس میں فیصلہ ہوگا کہ 3 اپریل کو کلکتہ میں 'بابائے کرکٹ' کا مقابلہ کون کرے گا؟ بھارت یا ویسٹ انڈیز؟ ممبئی کا وانکھیڑے اسٹیڈیم وہ خوش قسمت میدان ہے جہاں آج کرس گیل اور ڈیوین براوو کا مقابلہ ویراٹ کوہلی اور مہندر سنگھ جیسے کھلاڑیوں سے ہوگا۔

اگر موازنہ کریں تو بھارت نے ٹیسٹ اور ایک روزہ پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی میں بھی مسلسل بہتری کی کوشش کی ہے جبکہ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی تو شاید چاہتے بھی نہیں کہ وہ مختصر ترین طرز کی اس کرکٹ کے علاوہ کچھ کھیلیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ویسٹ انڈیز کو ٹی ٹوئنٹی میں خطرناک شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے کھلاڑی جھپٹ کر پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

اس وقت بھارت اور ویسٹ انڈیز دونوں کے پاس متعدد ایسے کھلاڑی ہیں جو بھرپور فارم میں ہیں اور ماضی قریب میں ٹیم کو فتوحات بھی دلوا چکے ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے بھی ہیں جو اچھی فارم کی تلاش میں ہیں لیکن کامیابی نہیں مل رہی۔ ایسے ہی کھلاڑیوں میں ویسٹ انڈیز کے دنیش رامدین اور بھارت کے سریش رینا شامل ہیں جو گزشتہ دو سالوں سے ایک نصف سنچری بنانے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے۔ اسی طرح ڈیوین براوو اور یووراج سنگھ کا معاملہ ہے۔ کیونکہ یووراج زخمی ہونے کی وجہ سے باہر ہوگئے ہیں اس لیے بھارت کے لیے نئی آزمائش یہ بھی ہے کہ اہم مقابلے میں ان کی جگہ کس کو موقع دیا جائے۔ یہ اجنکیا راہانے بھی ہو سکتے ہیں، منیش پانڈے اور پون نیگی بھی۔ اگر راہانے کو موقع دیا گیا تو بھارت یقیناً یووراج کی گیندبازی کو یاد کرے گا۔

دونوں ٹیموں میں ایک اور قدر مشترک ہے کہ دونوں کے متعدد کھلاڑیوں کا یہ آخری ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ہوگا اور وہ اسے یادگار بنانے کے لیے بھرپور کارکردگی کی کوشش کریں گے۔ ان میں سب سے نمایاں ہیں دھونی اور گیل۔ اس لیے ایک زبردست مقابلے کی توقع رکھیں۔

Virat-Kohli

اگر گزشتہ پانچ مقابلوں کی کارکردگی کی بات کی جائے تو یہاں دونوں ٹیمیں برابر دکھائی دیتی ہیں۔ آخری پانچ مقابلوں میں دونوں کو ایک، ایک شکست ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  عالمی درجہ بندی، پاکستانی کھلاڑیوں کا نامہ اعمال

بھارت نے آخری بار اس میدان پر جنوبی افریقہ کے خلاف ایک روزہ مقابلہ کھیلا تھا جہاں روی چندر آشون نہیں کھیلے تھے اور مہمان نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 438 رنز بنا ڈالے تھے۔ اس میدان پر طویل عرصے سے کوئی مقابلہ نہ کھیلنے والے آشون کی آسٹریلیا کے خلاف کارکردگی بھی کچھ خاص نہیں تھی اس لیے ان پر کافی دباؤ ہوگا لیکن ان کا باؤلنگ لائن اپ میں شامل ہونا بھی حریف کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

دوسری جانب ویسٹ انڈیز کو سیموئیل بدری کی صورت میں ایک زبردست اسپنر حاصل ہے جو ابتدائی 6 اوورز کے دوران گیندبازی کی شاندار صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا سامنا کرتے ہوئے اب تک بلے بازوں کو دو چیلنجز کا سامنا رہا ہے ایک تو رنز بنانے میں مشکل دوسرا وکٹ گرنے کا خطرہ۔ اس لیے ویسٹ انڈیز کی باؤلنگ کے دوران بدری کا کردار بہت اہم ہوگا۔

ٹیموں کے معاملے میں بھارت میں ایک تبدیلی تو یقینی ہے، یووراج کی جگہ کسی ایک کھلاڑی کی شمولیت۔ زیادہ تر امکانات منیش پانڈے کے کھیلنے کے ہیں۔ بھارت کا ممکنہ دستہ یہ ہو سکتا ہے:

مہندر سنگھ دھونی (کپتان، وکٹ کیپر)، روہیت شرما، شیکھر دھاون، ویراٹ کوہلی، سریش رینا، منیش پانڈے، ہردیک پانڈے، رویندر جدیجا، روی چندرا آشون، جسپریت بمراہ اور اشیش نہرا

دوسری طرف ویسٹ انڈیز کو بھی آندرے فلیچر کے زخمی ہونے کی وجہ سے ایک تبدیلی لازمی کرنا ہوگا۔ ممکنہ طور پر یہ جگہ لینڈل سیمنز بھریں گے۔ممکنہ ٹیم یہ ہوگی:

ڈیرن سیمی (کپتان)، دنیش رامدین (وکٹ کیپر)، کرس گیل، جانسن چارلس، لینڈل سمنز، مارلن سیموئلز، ڈیوین براوو، آندرے رسل، کارلوس بریتھویٹ، سلیمان بین اور سیموئیل بدری۔

اگر وکٹ کی بات کی جائے تو اب تک ہونے والے مقابلوں کو دیکھتے ہوئے بلے بازوں کے لیے سازگار وکٹ معلوم ہوتی ہے، لیکن یہ عین ممکن ہے کہ اِس مقابلے کے لیے وکٹ اسپنرز کے لیے سازگار ہو۔ ایسا ہونے کی صورت میں کہیں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے سپر 10 مرحلے کے افتتاحی مقابلے والی کہانی نہ ہو جائے کہ جہاں دوسرے کے لیے کھودے گئے گڑھے میں بھارت خود گرگیا تھا۔ ویسے اس وکٹ پر بننے والا سب سے کم اسکور 172 ہے جو افغانستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف بنایا تھا جو ظاہر کرتا ہے کہ ممبئی کی وکٹ میں بہت رنز ہیں۔

Facebook Comments