دوسرا سیمی فائنل، کن کھلاڑیوں پر ہوں گی نظریں

ورلڈ ٹی ٹوئںٹی کا دوسرا سیمی فائنل چند گھنٹوں میزبان بھارت اور ویسٹ انڈیز کے مابین ممبئی میں کھیلا جائے گا۔ فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بھارت ویسٹ انڈیز سے زیادہ پراعتماد دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہ بہت سخت مقابلوں کی بھٹی سے ہو کر یہاں تک پہنچا ہے جبکہ ویسٹ انڈیز ابتدائی تینوں مقابلے جیتنے کے بعد سیمی فائنل سے قبل افغانستان کے ہاتھوں غیر متوقع شکست کھا چکا ہے جس سے یقیناً حوصلے متاثر ہوئے ہوں گے لیکن محدود طرز کی اس کرکٹ کی خوبصورتی یہی ہے کہ ایک، دو کھلاڑیوں کی کارکردگی بھی کامیابی دلا سکتی ہے۔ آئیے ان چند کھلاڑیوں کا جائزہ لیتے ہیں کہ جن کی کارکردگی سیمی فائنل کے نتیجے پر اثر انداز ہوسکتی ہے:

ویراٹ کوہلی

Indian-players-virat-kohli
ویراٹ کوہلی کی شاندار بلے بازی اس ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی سب سے نمایاں جھلک ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف 'کوارٹر فائنل نما' مقابلے میں ان کی کارکردگی ہی بھارت کو فائنل-4 تک لائی۔ سوائے نیوزی لینڈ کے خلاف مقابلے کے انہوں نے بہت تسلسل کے ساتھ معیاری بلے بازی کی ہے اور بھارت کو وہ اعتماد دیا ہے کہ وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کا تصور بھی نہیں کر پا رہے۔

ہدف کے تعاقب میں کوہلی کی صلاحیتوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ سیمی فائنل میں ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت بھی لیا تو پہلے بلے بازی کرتے ہوئے ڈرے گا۔ لیکن کوہلی جس فارم میں ہیں، انہیں پروا نہیں کہ پہلے بلے بازی کرنی ہے یا بعد میں ان کا بلّا تو رنز اگلنے کو تیار ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مقابلے میں ان کا کردار کیسا رہتا ہے؟

کرس گیل

Chris-Gayle
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا سب سے دلچسپ کردار کرس گیل۔ لیکن ان کے چہرے پر موجود بڑی مسکراہٹ پر مت جائیے گا، یہ گیندبازوں کے لیے موت کا پیغام ہے۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پہلے ہی مقابلے میں سنچری جڑ کر انہوں نے اپنے خطرناک عزائم کا اظہار کردیا تھا۔زحمی ہونے کی وجہ سے باقی مقابلے تو نہیں کھیل سکے، سوائے ایک کے کہ جہاں وہ دوسری ہی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ لیکن ویسٹ انڈیز کی انتظامیہ نے احتیاطاً انہیں نہ کھلا کر بہت اچھا قدم اٹھایا تاکہ وہ اگلے مرحلے کے لیے مکمل فٹ ہو سکیں۔ اب وہ مکمل طور پر تیار ہیں اور گزشتہ مقابلوں میں باہر بیٹھنے کے باوجود ان کی واپسی بھارت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ ان کا بلّا چل گیا تو ممبئی میں سناٹے کا راج دکھائی دے گا۔ بھارتی گیندباز انہیں قابو نہ کر سکے تو ویسٹ انڈیز کو دوسری بار فائنل تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک پائے گا۔

ڈیوین براوو

Dwayne-Bravo
ویسٹ انڈیز کے آل راؤنڈر ڈیوین براوو میچ کے اہم ترین آخری اوورز میں گیندبازی کے جوہر دکھاتے ہیں۔ جب حریف بلے باز کے پاس اندھادھند شاٹس مارنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا تو براوو کی نپی تلی، دھیمی و تیز گیندبازی انہیں سخت مشکل سے دوچار کر دیتی ہیں۔ براوو کے پاس یارکر اور باؤنسر کی صلاحیت بھی موجود ہےجس پر بلے باز جتنا بھی زور لگائے، اس کے لیے گیند کو باؤنڈری لائن سے پھینکنا دشوار ہوتا ہے۔

ایک اہم باؤلر ہی نہیں، بلکہ مڈل آرڈر میں کارآمد بلے باز کی حیثیت سے بھی براوو کی حیثیت مسلم ہے۔گو کہ انہیں اب تک زیادہ بلے بازی کا موقع نہیں ملا لیکن ملنے کی صورت میں وہ خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ بات پاکستان کبھی نہیں بھولے گا جسے ورلڈٹی ٹوئنٹی 2014ء میں براوو کی طوفانی اننگز نے ہی اعزاز کی دوڑ سے باہر کردیا تھا۔ اس لیے بھارت کو سیمی فائنل میں ڈیوین براوو کی گیندبازی اور بیٹنگ دونوں سے ہوشیار رہنا ہوگا۔

اشیش نہرا

Ashish-Nehra
نہرا بھارت کے تجربہ کار گیندباز ہیں۔ آسٹریلیا کے خلاف اہم مقابلے میں ان کی شمولیت پر چند حلقے شکوہ کناں تھے لیکن انہوں نے بہترین گیندبازی سے اپنے انتخاب کو درست ثابت کر دکھایا۔

بھارت کے پاس اچھے گیندبازوں کا ہمیشہ فقدان رہا ہے، جو ابتدا میں وکٹیں حاصل کرنے میں مہارت رکھتے ہوں مگر اشیش نہرا نے جاری ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اس کمی کو خاصی حد تک دور کیا ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف جارحانہ بلے بازی کرنے والا ٹاپ آرڈر موجود ہے اور اگر اشیش نہرا انہیں روکنے میں کامیاب ہوگئے، جس کی وہ صلاحیت بھی رکھتے ہیں، تو بھارت کے لیے فائنل تک رسائی آسان ہو جائے گی۔

سیموئل بدری

samuel-badree
عموماً یہی سمجھا جاتا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے لیگ اسپنر سیموئل بدری اس وقت زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں، جب وہ آف اسپنر سنیل نرائن کے ساتھ مل کر گیند بازی کرتے ہیں لیکن جوڑی دار نہ ہونے کے باوجود انہیں نے جس چالاکی کے ساتھ جاری ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں باؤلنگ کی ہے، وہ متاثر کن ہے۔ پاور پلے مرحلے میں کہ جب دائرے سے با ہر کم فیلڈرز ہوتے ہیں اور بلے باز زیادہ سے زیادہ رنز بٹورنے کے چکر میں ہوتا ہے، بدری نے وکٹیں بھی حاصل کی ہیں اور حریف کے رنز بنانے کی رفتار کو روکنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔اب تک 4 مقابلوں میں وہ 6 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں جو بظاہر تو بہت اعلیٰ کارکردگی نہیں دکھائی دیتی لیکن پاور پلے میں فوری وکٹوں کا حصول اور کم رنز دینے کو دیکھیں تو یہ بہترین اعداد و شمار ہیں۔ کسی بھی لیگ اسپنر کے لیے پاور پلے میں ساڑھے 5 رنز فی اوور کے اوسط سے گیندبازی کرنا حیرت انگیز ہے۔ بھارت کے ابتدائی بلے بازوں کو نکیل ڈالنے میں سیموئل بدری کا کردار اہم ہوگا اور اگر انہوں نے ایش سودھی کی طرح ویراٹ کوہلی کی وکٹ بھی حاصل کرلی تو ویسٹ انڈیز کے جیتنے کے امکانات بہت زیادہ ہو جائیں گے۔

Facebook Comments