لاہور دھماکے کے بعد پاک-افغان سیریز ملتوی

پاکستان گزشتہ سات سالوں سے انتظار میں ہے کہ وطن عزیز کے حالات اس قابل ہوں کہ غیر ملکی ٹیمیں پاکستان آئیں اور کرکٹ کے میدانوں کی رونق بحال ہو سکے۔ گزشتہ سال زمبابوے نے پاکستان کا تاریخی دورہ کیا تھا جس کے تمام مقابلے لاہور میں کھیلے گئے جہاں عوام کے زبردست جوش و خروش نے سماں باندھ دیا تھا۔ اب سال بھر کے بعد پاکستانیوں کے لیے ایک اور موقع آرہا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور افغانستان کرکٹ بورڈ کے درمیان اپریل میں ایک سیريز کے لیے مذاکرات چل رہے تھے لیکن 27 مارچ کو لاہور میں ہونے والے دھماکے نے حالات تبدیل کردیے ہیں۔ دونوں کرکٹ بورڈز نے باہمی سیریز کے انعقاد کے لیے مذاکرات کو فی الحال روک دیا ہے اور ساتھ ہی کینیا کی خواتین کرکٹ ٹیم کا دورۂ پاکستان بھی مؤخر ہوگیا ہے۔

افغانستان نے تین ایک روزہ اور دو چار روزہ مقابلے کھیلنے کے لیے پاکستان آنا تھا۔ یہ میچز 15 اپریل سے 8 مئی تک کراچی اور لاہور میں ہوتے لیکن اب غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہوگئے ہیں۔

افغانستان نے 2011ء میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں پاکستان 'اے' کے خلاف سیریز کھیلی گئی تھی۔ یہ 2009ء میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد کسی بھی بین الاقوامی ٹیم کا پہلا دورۂ پاکستان تھا۔ یہی نہیں بلکہ پریکٹس اور دیگر سہولیات سے مستفید ہونے کے لیے افغان کرکٹ ٹیم وقتاً فوقتاً لاہور میں واقع نیشنل کرکٹ اکیڈمی آتی رہتی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سیریز کے لیے صوبہ سندھ اور پنجاب کی حکومتوں سے سیکورٹی یقین دہانی طلب کی تھی لیکن لاہور دھماکے کے بعد حکومت پنجاب نے سیکورٹی ضمانت دینے سے انکار کردیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے افغان بورڈ کو دورہ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کے خلاف سیریز پر بھارت کی ٹال مٹول جاری

گزشتہ سال جب زمبابوے نے پاکستان کا دورہ کیا تھا تو بین الاقوامی کرکٹ کونسل سمیت مختلف ممالک نے زمبابوے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا لیکن زبرست سیکورٹی نے ان تمام خدشات کو ناکام بنا دیا۔ لیکن بدقسمتی سے اس کے بعد بھی کسی دوسری ٹیم نے پاکستان کے دورے پر حامی نہیں بھری اور لاہور میں ہونے والے تازہ ترین دھماکے نے امکانات کو مزید کم کردیا ہے۔

dawlat-zadran

Facebook Comments