انگلستان، کلکتہ اور بھیانک یادیں

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے پہلے سیمی فائنل میں انگلستان کی نیوزی لینڈ پر شاندار کامیابی کا "نشہ" ابھی اترا ہی نہیں تھا کہ ویسٹ انڈیز نے بھارت کو چت کرکے اسے "دو آتشہ" کردیا ہے۔ تین اپریل کو کلکتہ کے تاریخی میدان ایڈن گارڈنز میں اب مقابلہ ان دو ٹیموں کے درمیان ہوگا کہ جن کے بارے میں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ فائنل تک پہنچیں گی۔ مقابلہ اسی میدان پر ہے کہ جہاں 29 سال پہلے انگلستان عالمی کپ جیتتے جیتتے ہار گیا تھا۔ انگلستان کے لیے ماضی کی اس بھیانک یاد کو مٹانے کا بہترین موقع ہے لیکن اس کا مقابلہ 'کالی آندھی' سے ہے جو اس وقت زور پکڑ چکی ہے۔

آخری مرتبہ کلکتہ میں انگلستان نے جو 'بڑا مقابلہ' کھیلا تھا وہ ورلڈ کپ 1987ء کا فائنل تھا۔ 8 نومبر 1987ء کو ایڈن گارڈنز میں اس کا مقابلہ روایتی حریف آسٹریلیا سے تھا اور 254 رنز کے ہدف کے تعاقب میں وہ 246 رنز تک پہنچ کر ہمت ہار گیا۔ صرف 7 رنز سے شکست اور عالمی کپ سے محرومی۔ ایک ایسا اعزاز جو انگلستان آج تک حاصل نہیں کر سکا۔

ایک ایسے وقت پر جب مائیک گیٹنگ 44 گیندوں پر 41 رنز بنا چکے تھے،اپنے آسٹریلوی ہم منصب اور جزوقتی گیندباز ایلن بارڈر کی گیند پر ریورس سویپ کھیلنے کی کوشش کی اور آؤٹ ہوگئے۔ یہی وکٹ میچ کا فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوئی اور آسٹریلیا پہلی بار ایک روزہ کا عالمی چیمپئن بنا۔ انگلستان نے 2010ء میں ویسٹ انڈیز میں ہونے والا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیت کر آسٹریلیا سے تو اس شکست کا بدلہ لے لیا لیکن کلکتہ کی تلخ یادوں کو مٹانا ابھی باقی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ 3 اپریل کو ویسٹ انڈیز کے خلاف وہ تاریخ بدل پائے گا یا نہیں۔

Eoin-Morgan

Facebook Comments